Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / ریاستی وزراء کو پارلیمانی انتخابات میں مقابلہ کروانے کا منصوبہ

ریاستی وزراء کو پارلیمانی انتخابات میں مقابلہ کروانے کا منصوبہ

سکندرآباد ، ظہیر آباد ، ورنگل اور ملکاجگیری پر چیف منسٹر کے سی آر کی خصوصی توجہ

حیدرآباد 6 مارچ ( سیاست نیوز ) : حالیہ عرصے کے دوران ریاست کے آئندہ اسمبلی انتخابات کے بارے میں کئے گئے سروے اور سوشیل میڈیا پر جو رجحانات سامنے آرہے ہیں ان پر چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کافی فکر مند ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ آئندہ اسمبلی و پارلیمانی اانتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی یقینی ہو اس کیلئے انہوں نے کئی منصوبے تیار کئے ہیں ۔کے سی آر کے سامنے دو اہم مسائل ہیں ایک اسمبلی انتخابات میں موثر مقابلہ دوسرے پارلیمانی انتخابات میں 19 میں سے کم از کم 15 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا ۔ کے سی آر کے قریبی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ملک میں غیر کانگریس و غیر بی جے پی تیسرے محاذ کی تشکیل کا ارادہ ظاہر کر کے ملکی سیاست میں ہلچل مچادی ہے ۔ ایسے میں سب سے پہلے علاقائی جماعتوں میں ان کی پارٹی کا بہتر مظاہرہ ضروری ہے ۔ ان تمام باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے بعض ریاستی وزراء کو پارلیمانی انتخابات میں مقابلہ کروانے کا ذہن بنالیا ہے ۔ اسمبلی کے بعض حلقوں میں نئے چہروں کو لانے کی تیاریاں شروع کردی ہے ۔ ذرائع کے مطابق 2019 انتخابات میں چیف منسٹر میدک پارلیمانی حلقے سے مقابلہ کرسکتے ہیں جب کہ ریاستی وزیر ایٹالہ راجندر کو کریم نگر پارلیمانی حلقے سے مقابلہ کیلئے اتارا جائے گا ۔ ہریش راؤ کو ظہیر آباد پارلیمانی حلقے سے مقابلہ کروائیں گے جب کہ کانگریس بھی ظہیر آباد حلقے سے ہندوستانی ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہر الدین کو مقابلہ کروانا چاہتی ہے ۔ اس بار ٹی آر ایس سے بھی سکندرآباد حلقے کو کافی اہمیت دیتے ہوئے ریاستی وزیر ٹی سرینواس یادو کو پارلیمانی امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کروائے جانے کا امکان ہے ۔ محبوب آباد لوک سبھا سے ریڈی نائک کو میدان میں اتارا جائے گا ۔ نائب وزیر اعلی کڈیم سری ہری کو ورنگل پارلیمانی امیدوار بنایا جاسکتا ہے ۔ اس کے ساتھ محبوب آباد کے رکن اسمبلی کی نشست پر ایک نیا چہرہ میدان میں اتارا جاسکتا ہے جو کہ ریڈیا نائیک کی دختر کویتا ہوسکتی ہیں ۔ ایٹالہ راجندر کی اہلیہ ای جمونہ کو حضور آباد حلقہ اسمبلی سے مقابلہ کروایا جائیگا ۔ چیوڑلہ پارلیمانی حلقے سے ریاستی وزیر مہیندر ریڈی کو مقابلہ کروایا جاسکتا ہے اور یہاں کے ایم پی ویشویشور ریڈی ملکاجگیری پارلیمانی امیدوار ہوسکتے ہیں ۔ ریاستی وزیر ٹی ناگیشور راؤ کو کھمم پارلیمانی حلقہ سے مقابلہ کروایا جاسکتا ہے اور پی سرینواس ایم پی کھمم اس مرتبہ پالیر اسمبلی حلقہ کے امیدوار ہوسکتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ورنگل کے چھ اسمبلی نشستوں پر بھوپال پلی ملگ ، نرسم پیٹ ، جنگاؤں ، اسٹیشن گھن پور ، کریم نگر کے کورٹلہ جگتیال ، حسن آباد ، کریم نگر ٹاون سے رکن اسمبلی کی نشستوں پر کئی نئے چہروں کو ٹی آر ایس کی جانب سے موقع دیا جاسکتا ہے ۔ سروے رپورٹ کے مطابق کے سی آر نے اس مرتبہ کئی اہم سیاسی تبدیلیاں کرنے کا ذہن بنا چکے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT