Saturday , November 18 2017
Home / مضامین / ریاستی و قومی سطح پر مسلم تھنک ٹینکس وقت کی اہم ضرورت

ریاستی و قومی سطح پر مسلم تھنک ٹینکس وقت کی اہم ضرورت

محمد ریاض احمد
دنیا بھر میں حکومتوں کی سیاسی اقتصادی اور خارجی اُمور پر پالیسیوں کے تعین میں تھنک ٹینکس کا اہم کردار ہوتا ہے۔ تھنک ٹینکس کے باعث ہی امریکہ جیسی سوپر پاور کی خارجہ و اقتصادی و دفاعی پالیسیاں قطعیت دی جاتی ہیں۔ تھنک ٹینکس کے مشوروں و تجاویز کی بنیاد پر ہی برطانوی حکومت دیگر ممالک کے ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں میں تعلقات مستحکم کرنے کے اقدامات کرتی ہے۔ تھنک ٹینکس کی رائے حاصل کرکے ہی جرمنی اور فرانس جیسے ترقی یافتہ ملک مسئلہ فلسطین پر اپنا موقف ظاہر کرتے ہیں۔ تھنک ٹینکس کے پیش کردہ نظریات پر عمل کرتے ہوئے چینی حکومت نہ صرف علاقہ ایشیاء میں بلکہ ساری دنیا میں اپنی برتری منوانے کے لئے قدم آگے بڑھاتی ہے۔ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے اقدامات کرتی ہے۔ تھنک ٹینکس کی تجاویز پر غور کرکے ہی امریکہ اور اس کے اتحادی عراق، افغانستان، یمن، پاکستان اور صومالیہ میں ڈرون حملوں کو یقینی بناتے ہیں۔ عراق پر قبضہ اس کے بعد صدام حسین کا خاتمہ سرزمین عراق پر تہذیبی آثار نادر و نایاب اشیاء کی تباہی و بربادی، 11 ستمبر 2001 ء میں امریکہ پر دہشت گرد حملوں کے بعد افغانستان پر امریکی زیرقیادت اتحادی افواج کا حملہ، طالبان حکومت کا زوال، گوانتاناموبے عقوبت خانہ کا قیام اس قید خانہ میں قیدیوں کو ناقابل تصور اذیت رسانی، سعودی عرب کے بشمول دوسرے عرب ملکوں کی دوستی کی پرواہ کئے بناء جوہری مسئلہ پر ایران کے ساتھ 6 بڑی طاقتوں کی معاملت، فلسطین پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ، فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر، یروشلم کو یہودیانے کے فسطائی اقدامات سب کے سب مذکورہ ممالک کے تھنک ٹینکس کی تجاویز اور مشوروں کا ہی نتیجہ ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر تھنک ٹینکس کیا ہیں؟ یہ دراصل ماہرین، دانشوروں اور سنجیدہ فکر رکھنے والے مفکرین کا ایک ادارہ ہوتا ہے جو حکومتوں کو مخصوص سیاسی، سماجی، اقتصادی، دفاعی، خارجی اور دیگر اہم ترین اُمور پر اپنے زرین مشوروں سے نوازتا ہے اور ان مشوروں پر عمل کرتے ہوئے ہی حکومتیں زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی پالیسیوں کا تعین کرتی ہے۔

دنیا میں ایسے تھنک ٹینکس بھی ہیں جو مکار، انسانیت کے دشمن، جنگ و جدال کے خواہاں، دنیا کی تباہی و بربادی کے متمنی، مجرمانہ ذہن کے حامل ماہرین پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں دنیا کی ناجائز مملکت اسرائیل کی مثال لی جاسکتی ہے جہاں اس طرح کے مکار اور ظالم و جابر دانشوروں و ماہرین کے مشوروں و تجاویز پر عمل کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی کررہی ہے۔ بیت المقدس کو پوری طرح اپنے کنٹرول میں کرنے کے شیطانی اقدامات پر عمل پیرا ہے۔ فلسطینیوں کے مکانات کو زمین دوز کیا جارہا ہے۔ یروشلم اور دیگر فلسطینی علاقوں میں اسلامی آثار مٹانے کی کوشش کی جارہی ہیں۔ حال ہی میں دوران مطالعہ راقم الحروف کی نظر لائیو منٹ میں شائع ایک مضمون پر پڑی جس میں ہندوستان میں تھنک ٹینکس (ماہرین و دانشوروں کے اداروں) کے بارے میں روشنی ڈالی گئی۔ اس مضمون میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ ہندوستان میں بے شک کئی تھنک ٹینکس موجود ہیں لیکن پالیسی سازی پر ان کے اثرات انتہائی مایوس کن ہے۔ اگر ہندوستان میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر تھنک ٹینکس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کے اداروں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ اس کے باوجود حکمرانوں اور حکومتوں پر ان کا کوئی خاص اثر نہیں ہے۔ گزشتہ ہفتہ ہی ان تھنک ٹینکس کی تعداد میں اس وقت ایک اور اضافہ ہوا جب کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس (CEIP) نے نئی دہلی میں اپنا 6 واں بین الاقوامی مرکز کھولا۔ یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے تھنک ٹینک اینڈ سیول سوسائٹیز پروگرام (TTCSP) کی جانب سے تیار کردہ سالانہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سال 2014 اور 2014 ء کے دوران ہندوستان میں تھینک ٹینکس کی تعداد بالترتیب 192 اور 280 رہی جس سے اس قسم کے اداروں کی تعداد میں اضافہ کا اندازہ ہوتا ہے۔ دنیا میں تھنک ٹینکس کے لحاظ سے ہندوستان کا چوتھا مقام ہے۔ جرمنی پانچویں مقام پر ہے۔ 288 کے ساتھ برطانیہ تیسرے 435 کے ساتھ چین دوسرے اور 1835 تھنک ٹینکس کے ساتھ امریکہ پہلے مقام پر فائز ہے۔ جہاں تک بڑھتی تعداد اور ان اداروں کے پالیسی سازی پر اثرانداز ہونے کا سوال ہے یہ دونوں چیزیں مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں 280 سے زائد تھنک ٹینکس کے باوجود TTCSP درجہ بندی میں صرف ایک ہندوستانی تھنک ٹینک سنٹر فار سیول سوسائٹی کو 100 سرفہرست تھنک ٹینکس میں شامل کیا گیا جبکہ دنیا کے سرفہرست 150 تھنک ٹینکس میں ہندوستانی تھنک ٹینکس کی تعداد 5 ہے۔ ہندوستانی تھنک ٹینکس کے خراب مظاہرہ کی انتہائی اہم وجہ کے بارے میں حال ہی میں تیار کردہ دی آکسفورڈ ہینڈ بک آف انڈین فارن پالیسی کے ایک باب میں جو تھنک ٹینکس اور یونیورسٹیز پر ہے ۔ امیتابھ ساٹو اور راری میڈ کاف کا کہنا ہے کہ اس کی اہم وجہ حکومت اور بیوروکریسی کے درمیان پالیسی کو اپنے اختیار میں رکھنے سے متعلق ٹکراؤ کا پایا جانا ہے۔ اس کے سوائے حکومت کے دیگر ذرائع سے فنڈس کا فقدان ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے اور جن تھنک ٹینکس کو حکومت کی مالی مدد ملتی ہے ایسا لگتا ہے کہ ان میں مقصدیت کی کمی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ معیاری لوگوں اور ان سے جڑے پراجکٹس پر سرمایہ مشغول کرنے والے ذرائع کا بھی فقدان پایا جاتا ہے۔ جبکہ بیرونی خانگی فاؤنڈیشن جیسے فورڈ فاؤنڈیشن اور بل اینڈ منڈیلا گیٹس فاؤنڈیشن کے ہندوستان میں داخل ہونے سے ہندوستانی کارپوریٹ شعبہ میں بھی ماہرین اور ان کے تجویز کردہ پراجکٹس پر سرمایہ مشغول کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

ہندوستان میں بروکنگس انسٹی ٹیوشنس اور سی ای آئی پی کا اپنے مراکز کھولنا اس بڑھتے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ ہندوستان میں زمانے قدیم سے ہی حکومتوں، راجاؤں، بادشاہوں اور نوابوں کو مشورے دینے کیلئے سرکاری سطح پر تھنک ٹینکس ہوا کرتے تھے۔ تاہم انڈین کونسل آف ورلڈ افیرس (ICWA) کو ملک کا قدیم ترین تھنک ٹینک مانا جاتا ہے جس کا قیام 1943 ء میں عمل میں آتا ہے۔ آئی سی ڈبلیو اے نائب صدرجمہوریہ کے زیرقیادت گورننگ باڈی کو جوابدہ ہے اس کے ارکان میں وزیر خارجہ جیسے لوگ شامل ہیں۔ دوسری طرف نیشنل کونسل فار اپلائیڈ اکنامک ریسرچ (NCAER) بھی ایک قدیم تھنک ٹینک ہے جس کا قیام 1950 ء میں سرکاری خانگی شراکت داری کے ذریعہ عمل میں آیا۔ 1965 ء میں انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انالائسیس کا قیام عمل میں آیا۔ اس تھنک ٹینک کی وزارت دفاع نے فنڈنگ کی۔ اُسی سال نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک فینانس اینڈ پالیسی وزارت فینانس منصوبہ بندی کمیشن اور کئی ریاستی حکومتوں اور ماہرین تعلیم نے 1976 ء میں مشترکہ طور پر قائم کیا۔ TTCSP کے جیمس جی میک گیان کی جانب سے 2014 ء میں کئے گئے ایک جائزہ کے مطابق 45 فیصد سے زیادہ تھنک ٹینک آزاد اور خود مختار ہے۔ دوسری طرف عالمی سطح پر جس طرح مسلم ملکوں میں مفکرین و دانشوروں کے اداروں کی کمی ہے اسی طرح ہندوستان میں مسلمانوں کے تھنک ٹینکس بھی برائے نام ہیں حالانکہ قومی اور ریاستی سطح پر مسلم تھنک ٹینکس کی شدید ضرورت ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ مسلمانوں میں ماہرین تعلیم، ماہرین اقتصادیات اور دانشوروں کی کوئی کمی ہے۔ بعض ریاستوں میں مسلمانوں نے اس طرح کے ادارے قائم کئے ہیں لیکن ہمارا سب سے برا مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود کو سب سے قابل سمجھنے اور انا پرستی کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ ہم ملی مفادات پر شخصی مفادات کو ترجیح دینے کے عارضہ سے متاثر ہیں۔ دوسرے کی قائدانہ صلاحیتوں کو ماننے سے صریح انکار کرتے ہیں۔ اپنے بارے میں ہمارا یہی خیال ہوتا ہے کہ ہم ہی مفکر ہم ہی دانشور اور ہم ہی سب کچھ ہیں۔ دوسروں کو ہماری رائے ماننی چاہئے۔ جنوبی ہند کی ریاستوں میں مسلم تھنک ٹینکس ضرور ہیں لیکن ان میں جو لوگ ہیں ان کی اکثریت مفکر یا دانشور کہلانے کی مستحق ہی نہیں ہے۔ مسلم تھنک ٹینکس کے نام سے ایک کمرے یا ہال میں بیٹھ کر کچھ وقت گذار لینا کسی بھی طرح ملت کی ترقی کے لئے معاون نہیں ہوسکتا۔ ایسے میں مسلمانوں میں موجود ایسے ماہرین تعلیم دانشور اور مفکرین کو آگے آنا چاہئے جن کے اذہان و قلوب میں خوف خدا حُبِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہو کیوں کہ جن شخصیتوں کے قلوب میں یہ بیش بہا دولت ہوتی ہے وہ ملت کا درد بھی محسوس کرتی ہیں۔ ان کی ترقی و خوشحالی کے لئے ٹھوس منصوبہ بھی بناسکتی ہیں اور حکومت و سرکاری اداروں کو مسلمانوں کی ہمہ جہتی ترقی کے لئے تجاویز بھی پیش کرسکتی ہیں۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT