Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / ریاستی گورنر کے عہدوں کی برخاستگی کی پرزور وکالت

ریاستی گورنر کے عہدوں کی برخاستگی کی پرزور وکالت

جن لوگوں کو میوزیم میں رکھا جانا چاہئے تھا، آر ایس ایس اُنھیں راج بھون میں بٹھارہی ہے: سدھاکر ریڈی

حیدرآباد 19 جولائی (پی ٹی آئی) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) نے ریاستی گورنروں کا عہدہ برخاست کرنے کی پرزور وکالت کرتے ہوئے اس کو ایک ایسا ازکار رفتہ اور فرسودہ طریقہ کار قرار دیا جس میں اس عہدہ پر فائز افراد اپنے عہدہ کا بیجا استعمال کرتے ہیں اور خود اپنے ہی حدود سے تجاوز کرجاتے ہیں۔ سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ایس سدھاکر ریڈی نے کہاکہ ’’گورنروں کا عہدہ برخاست کردیا جانا چاہئے۔ بسا اوقات یہ (گورنروں کا عہدہ) ریٹائرڈ افسران کو دیا جاتا ہے۔ اب ہمہ اقسام کے مسخرے لوگ بھی گورنر بننے لگے ہیں۔ ایسے افراد جنھیں آر ایس ایس کی جانب سے عجائب گھروں (میوزیم) میں رکھا جانا چاہئے تھا اب انھیں راج بھونوں میں رکھا جانے لگا ہے‘‘۔ سدھاکر ریڈی نے پی ٹی آئی سے کہاکہ ’’اب وقت آگیا ہے کہ اس کے بارے میں غور کیا جائے۔ اس نظام کو ہی اب ختم کردیا جانا چاہئے۔ آئے دن اس کا بہت زیادہ بیجا استعمال ہونے لگا ہے‘‘۔ بہار کے چیف منسٹر نتیش کمار نے بھی گزشتہ ہفتہ گورنر کا عہدہ برخاست کرنے کی حمایت کی تھی۔ سدھاکر ریڈی نے اروناچل پردیش کے مسئلہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود گورنر تتھا گتا رائے نے چیف منسٹر کو اندرون 48 گھنٹے اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ’’گستاخانہ جسارت‘‘ کی۔ گورنر کے اس اقدام کو سدھاکر ریڈی نے ’’احمقانہ‘‘ قرار دیا۔ اس دوران کانگریس کے سینئر لیڈر جئے رام رمیش نے کہاکہ ’’میں گورنرس عہدہ کیلئے شفاف نظام کی بھرپور حمایت کرتا ہوں۔ صدر، نائب صدر، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے ساتھ وسیع تر مشاورت کے عمل پر مبنی گورنرس کے نظام کی میں مکمل تائید کرتا ہوں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT