Saturday , December 15 2018

ریاست بھر کے عوامی خدمت گذار ہریش راؤ جذبات سے مغلوب

آپ کی محبت کے سامنے سیاسی زندگی بے کار، سدی پیٹ میں ریالی سے خطاب

حیدرآباد۔/22ستمبر، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس میں کے سی آر کے جانشین کے طور پر کے ٹی آر کو عوام پر مسلط کرنے کی کوششوں پر پارٹی میں داخلی خلفشار کا اندازہ اس وقت ہوا جب وزیر آبپاشی ہریش راؤ جنہیں قائدین اور عوام کی تائید میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے پارٹی کی صورتحال سے دلبرداشتہ ہوکر سیاسی زندگی سے دستبرداری کا پیشکش کردیا۔ تلنگانہ تحریک کو مضبوط کرنے میں اہم رول ادا کرنے والے ہریش راؤ نہ صرف اپنے حلقہ انتخاب نہیں بلکہ ریاست بھر میں عوامی خدمت گذار کے طور پر شناخت بناچکے ہیں۔ ایسے میں چیف منسٹر کے سی آر نے قائدین اور عوامی رائے کا احترام کئے بغیر اپنے فرزند کے ٹی آر کو سیاسی جانشین کے طور پر اُبھارنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ وہ اُن کے وفاداروں پر مشتمل ایک گروپ کے ذریعہ کے ٹی آر کی جانشینی کے حق میں مہم چلارہے ہیں۔ اس صورتحال نے پارٹی میں ناراضگی پیدا کردی اور قائدین و کارکن عملاً دو گروپس میں منقسم ہوچکے ہیں۔ پارٹی کے قیام سے وابستہ قائدین کا احساس ہے کہ اقرباء پروری کا کوئی بھی فیصلہ ٹی آر ایس کے زوال کا سبب بن سکتا ہے۔ کے ٹی آر کے مقابلہ ہریش راؤ کی تنظیمی و نظم و نسق کی صلاحیتوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

ایسے میں کے ٹی آر کو عوام پر مسلط کرنے کی کوششیں ٹی آر ایس کیلئے خودکشی ثابت ہونگی۔ پارٹی قائدین کی قابل لحاظ تعداد جن میں وزراء اور ارکان اسمبلی شامل ہیں، ہریش راؤ کو آئندہ چیف منسٹر دیکھنا چاہتے ہیں لیکن وہ کے سی آر کی مطلق العنانی ٰ برہمی کے خوف سے کھل کر اظہار خیال سے قاصر ہیں۔ قائدین اور عوام میں دن بہ دن بڑھتی مقبولیت نے ہریش راؤ کو جذباتی بنادیا ہے اور انہوں نے اپنے حلقہ میں دورہ کے موقع پر عوام سے یہ تک کہہ دیا کہ وہ سیاسی زندگی سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں کیونکہ عوام کی خدمت سیاست میں رہے بغیر بھی کی جاسکتی ہے۔ ہریش راؤ کا یہ اظہار خیال ٹی آر ایس و دیگر سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن چکا ہے۔ برسر اقتدار پارٹی اور خاص طور پر چیف منسٹر کے قریبی حلقوں میں ہلچل پیدا ہوچکی ہے اور اس بیان کو مختلف زاویوں سے دیکھا جارہا ہے ۔ واضح رہے کہ حلقہ سدی پیٹ کے تمام مواضعات میں عوام کی جانب سے متفقہ قراردادیں منظور کرکے ہریش راؤ کی تائید کا عہد کیا جارہا ہے۔ موضع ابراہیم پور کے دورہ کے موقع پر ایسی قرارداد منظور کی گئی۔ عوام نے ہریش راؤ کی تائید میں بڑی ریالی منظم کی اور عہد کیا کہ مجوزہ انتخابات میں وہ صرف ہریش راؤ کو ووٹ دیں گے۔ عوام کی محبت نے ہریش راؤ کو جذبات سے مغلوب کردیا اور انہوں نے کہا کہ میں اب سیاست سے سبکدوشی چاہتا ہوں جبکہ مجھے عوام کی جانب سے غیر معمولی محبت و تائید حاصل ہوئی ہے۔ میں آپ کی خدمت جاری رکھوں گا چاہے میں سیاست میں رہوں یا نہ رہوں۔ ہریش راؤ کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ پارٹی قیادت کی جانب سے انہیں نظر انداز کئے جانے سے مایوس ہیں۔ ہریش راؤ کے حامی اس بات پر ناراض ہیں کہ کے سی آر نے پرگتی نیویدنا جلسہ کے ذریعہ اپنے فرزند کے ٹی آر کو جانشین کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی دوران ہریش راؤ نے ایک ٹی وی چیانل کو انٹرویو دیتے ہوئے غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے باس کے چندر شیکھر راؤ کی ہدایت پر کسی کے ساتھ بھی کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔ہریش راؤ نے ایک اور اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ انہیں کے ٹی آر کی وزارت میں کام کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی جانشین کے مسئلہ پر ٹی آر ایس میں سیاسی ہلچل کیا رنگ لائے گا۔

TOPPOPULARRECENT