Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / ریاست تلنگانہ میں نئی سیاسی صف بندی کے آثار

ریاست تلنگانہ میں نئی سیاسی صف بندی کے آثار

حکمراں ٹی آر ایس اور مجلس کی دوستی میں دراڑ ‘ کے سی آر کا سیاسی وار‘ اکبر اویسی کے خلاف مذہبی دل آزاری مقدمہ میں تحقیقات شروع کرنے کی اجازت
حیدرآباد ۔ 6مارچ ( سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں انتخابات کیلئے ابھی دو سال کا عرصہ باقی ہے لیکن سیاسی حالات سے ایسا لگتا ہے کہ نئی صف بندی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ بالخصوص حکمراں ٹی آر ایس اور اس کی حلیف مجلس کے درمیان اختلافات و دوریوں کے امکانات نظر آرہے ہیں ۔ دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی بھی عملاً شروع کردی ہے ۔ ٹی آر ایس اور مجلس ایک دوسرے کو کبھی راست یا کبھی بالواسطہ نشانہ بنارہی ہے اور یہ اشارے اس بات کی علامت ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ۔ مجلس کو اس مرتبہ سخت مقابلہ درپیش ہوگا کیونکہ سیاسی میدان میں انتہائی تجربہ کار اور مخالف لہر کو اپنے حق میں کرنے کی مہارت رکھنے والے کے چندر شیکھر راؤ نے سیاسی حربہ استعمال کرنا شروع کردیا ہے ۔ حالیہ دنوں میں حکومت نے مجلس کے خلاف جو قدم اٹھایا ہے اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ مقامی جماعت کیلئے حالات سخت ہوسکتے ہیں ۔ سیاسی تجزیہ نگار بھی اس صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے توہین آمیز و مذہبی دل آزاری مقدمہ میں کریم نگر پولیس کو تحقیقات کی اجازت دے دی گئی ہے ۔ قائد مجلس اکبر الدین اویسی کے خلاف مہیندر ریڈی ایڈوکیٹ نے کریم نگر پولیس میں شکایت درج کرائی تھی اور اس مقدمہ کی تحقیقات شروع ہونے کے بعد سیاسی سطح پر ایک نئی ہلچل شروع ہوسکتی ہے ۔ ریاست کے عوام نے ماضی میں اس طرح کے حالات کا مشاہدہ کیا ہے ۔ متحدہ آندھراپردیش کے آخری چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کے دور میں مجلس اور کانگریس کے درمیان دوستانہ تعلقات بگڑ گئے تھے ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق مجلس کیلئے نئی سیاسی دوستی اور پرانے دوستوں سے دوری راز نہیں آئے گی ۔ 9سال تک یو پی اے کی دوست رہنے والی مجلس نے انتخابات سے عین قبل کانگریس سے اپنا رشتہ منقطعہ کرلیا تھا ۔ ملک کے مختلف مقامات پر اُس نے انتخابی مقابلہ بھی کیا ‘ یہی نہیں بلکہ کئی ریاستوں میں اپنے امیدوار کھڑا کئے اور مہم چلائی ۔ حال ہی میں مہاراشٹرا میں بھی مجلس نے اپنے امیدوار کھڑا کئے تھے اور بلدی انتخابات میں اس کے دو امیدوار کامیاب ضرور ہوئے لیکن 22نشستوں پر کانگریس اور این سی پی کو نقصان پہنچا ۔ اس کا راست فائدہ بی جے پی اور شیوسینا کو ہوا ۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل میں اہم رول ادا کرنے والی ٹی آر ایس کے ساتھ مجلس کے گذشتہ ڈھائی سال سے دوستانہ روابط ہیں اور اس کا مجلس کو کافی فائدہ بھی ہوا ہے لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوںجماعتیں ایک دوسرے سے دوری اختیار کررہی ہے ۔ حال ہی میں مجلس کے نمائندوں کی کراس ووٹنگ اور بغاوت کے سبب تانڈور میونسپل چیرمین کے عہدہ پر کانگریس کا قبضہ ہوگیا ۔ مجلس کے امیدواروں کی کانگریس کو تائید نے ٹی آر ایس کو ناراض کیا ہے ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وقف بورڈ اراکین انتخاب میں ریاستی حکومت نے مجلس کو نظرانداز کردیا ۔ اس کے علاوہ نامزد عہدوں پر تقررات کے معاملہ میں بھی ٹی آر ایس نے مجلس کو کوئی اہمیت نہیں دی ۔ نامزد عہدوں پر مجلس دو عہدوں کیلئے مانگ کررہی تھی لیکن چیف منسٹر نے اچانک پانچ نامزد عہدوں پر مسلم قائدین کا اعلان کردیا ۔ ان حالات میں مجلس کیلئے یہ مشکل صورتحال پیدا ہوئی کہ وہ حکومت کا ساتھ دے یا پھر دوری اختیار کرلیں۔ ایسا لگتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مجلس کی پالیسی کا بخوبی اندازہ ہے اور اسی مناسبت سے وہ سیاسی حکمت عملی اختیار کررہے ہیں ۔ قائد مقننہ نے چند دن قبل آلیر انکاؤنٹر کا موضوع اٹھایا اور مہلوکین سے انصاف کا مطالبہ کیا ۔ اس کے علاوہ مجلس اقلیتوں کے مختلف مسائل اور اقلیتوں کیلئے مختص کردہ بجٹ اور خرچ کی گئی رقم کے علاوہ 12فیصد مسلم تحفظات کا مسئلہ اٹھاسکتی ہے ۔ سمجھا جارہا ہے کہ مجلس ان موضوعات پر حکومت کے خلاف جارحانہ موقف اختیار کرے گی لیکن اس بار اُسے سیاسی تجربہ کار کے سی آر سے سامنا ہے جنہوں نے صورتحال کا اندازہ کرتے ہوئے موثر جوابی حکمت عملی تیار کرلی ہے ۔ تاہم ریاست کے سیاسی حالات کیا رُخ اختیار کریں گے اس کا اندازہ بہت جلد ہوجائے گا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT