ریاست تلنگانہ کی خدمت کا موقع دینے اقلیتوں سے اپیل

گدوال میں عوامی جلسہ سے سربراہ ٹی آر ایس چندرشیکھر راؤ کا خطاب

گدوال میں عوامی جلسہ سے سربراہ ٹی آر ایس چندرشیکھر راؤ کا خطاب

گدوال۔ 6 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) آج شہر گدوال کے اولڈ بس اسٹانڈ میں ٹی آر ایس پارٹی کی جانب سے ایک عظیم عوامی جلسہ منعقد کیا گیا، جس میں صدر ٹی آر ایس مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے بحیثیت مہمان خصوصی جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سال 2009ء کے عام انتخابات کے دوران ضلع محبوب نگر حلقہ پارلیمنٹ سے بحیثیت ٹی آر ایس امیدوارکامیاب ہوئے تھے۔ تاریخ میں حلقہ محبوب نگر کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کیونکہ انہوں نے اس حلقہ سے نمائندگی کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ کا خواب جوکہ 60 سال سے جدوجہد چل رہی تھی اس کو عملی جامہ پہنائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ حلقہ محبوب نگر اور ضلع محبوب نگر کی عوام کو با ادب سلام کرتے ہیں جنہوں نے شب و روز ان کا ساتھ دیا۔

صدر ٹی آر ایس نے کہا کہ وہ 2002 میں اس وقت کے وزیراعلیٰ مسٹر چندرا بابو نائیڈو سے مانگ کی تھی کہ حلقہ اسمبلی گدوال اور عالم پور حلقہ سے متعلق آر ڈی ایس کنال کو توسیع کرتے ہوئے جہاں صرف 10,000 ایکر اراضی سیراب ہورہی ہے۔ 87500 ایکر اراضی سیراب کرنے کی ضرورت ہے۔ 12 سال کا عرصہ گذرنے کے بعد بھی مسئلہ تعطل کا شکار ہے لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اب ریاست تلنگانہ میں دریائے کرشنا دوڑے گی۔ تلنگانہ کی زمین سونا اگلے گی۔ عوام ہمیشہ کی طرح ٹی آر ایس کے ہاتھ مضبوط کریں یہاں کی عوام نے پچھلے پچاس سال سے کانگریس اور تلگودیشم پارٹی کو موقع دیا ہے۔ اب ایک بار ٹی آر ایس کو بھی موقع فراہم کریں تاکہ ریاست تلنگانہ کی جدید تعمیر میں ٹی آر ایس اہم کردار نبھا سکے۔ صدر ٹی آر ایس نے کہا کہ متحدہ ریاست آندھراپردیش میں ہم نے کافی تکالیف اٹھائی ہیں۔ اب ایسا نہیں ہوگا آنے والے دنوں میں عوام ضلع محبوب نگر میں روزی کی خاطر نقل مقام کرتے ہوئے آبائی ریاست تلنگانہ میں Contooct ملازمت ہی نہیں بلکہ 100 سرکاری ملازمتیں ہوں گی۔ ایس سی افراد کیلئے 50 ہزار کروڑ روپئے بجٹ مختص کیا جائے گا۔ ایس ٹی افراد کیلئے 12 فیصد تحفظات عمل میں لایا جائے گا اور لمباڑی تانڈوں کو گرام پنچایت کا درجہ حاصل ہوگا۔

اپنی تقریر کو اردو میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ سچے دل اور ارادہ سے جو جنگ لڑی جاتی ہے اللہ اس جنگ کو ہمیشہ کامیاب کرتا ہے۔ میں اکیلا ہی چل پڑا تھا جانب منزل مگر لوگ آتے گئے کارواں بنتا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اقلیتوں سے کیا ہوا وعدہ ہر حال میں پورا کریں گے۔ 12 فیصد تحفظات اور اقلیتی بجٹ 1000 کروڑ روپئے پر مشتمل ہوگا۔ فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے۔ انہوں نے شہر گدوال کے اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ انہیں ریاست تلنگانہ کی خدمت کرنے کا ایک موقع فراہم کریں۔ اس جلسہ میں وائی ایس آر پارٹی کے گدوال انچارج مسٹر کرشنا موہن ریڈی سابق صدر بلدیہ مسٹر بی ایس کیشولو نے ٹی آر ایس پارٹی میں شمولیت اختیار کی جبکہ جلسہ میں جناب گٹو بھموڈو سابق رکن اسمبلی مسٹر ترومل ریڈی، جناب سید ابراہیم، جناب کونڈاپورم، شفیع اللہ ایڈوکیٹ، جناب محمد ماجد نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT