Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / ریاست میں سیاسی جماعتیں انتخابی مفاہمت کیلئے سرگرم

ریاست میں سیاسی جماعتیں انتخابی مفاہمت کیلئے سرگرم

آئندہ چند دنوں میں صورتحال واضح ہونے کا امکان۔ تلنگانہ میں ٹی آر ایس مرکز توجہ

آئندہ چند دنوں میں صورتحال واضح ہونے کا امکان۔ تلنگانہ میں ٹی آر ایس مرکز توجہ

حیدرآباد 14 مارچ ( پی ٹی آئی ) آندھرا پردیش میں سیاسی جماعتیں مجوزہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کیلئے ابھی تک حکمت عملی تیار کرنے اور مختلف جماعتوں سے اتحاد کے مسئلہ پر سرگرم ہیں ۔ حالانکہ مختلف سیاسی امکانات پر کئی طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں لیکن ابھی تک امکانی انتخابی مفاہمتوں کے تعلق سے کوئی قطعی صورتحال ابھر کر سامنے نہیں آئی ہے ۔ کانگریس ہائی کمان حالانکہ تلنگانہ میں صورتحال سے فائدہ اٹھانے تلنگانہ راشٹرا سمیتی سے اتحاد کے حق میں دکھائی دیتی ہے لیکن تلنگانہ کے کانگریس قائدین اس اتحاد کے خلاف ہیں۔ تلنگانہ کانگریس قائدین نے پارٹی جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ کے ساتھ یہاں گذشتہ دو دن کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ٹی آر ایس سے کسی مفاہمت کے بغیر پارٹی کو یہاں اچھی کامیابی مل سکتی ہے ۔ انہوں نے حال ہی میں ایک قومی ایجنسی کی جانب سے ایک تلگوچینل کیلئے کئے گئے سروے کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں ادعا کیا گیا ہے کہ تلنگانہ میں کانگریس کو 55 – 60 اور ٹی ار ایس کو 45 – 50 نشستیں حاصل ہوسکتی ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ کانگریس قائدین نے ڈگ وجئے سنگھ سے کہا کہ کانگریس پارٹی سادہ اکثریت کے قریب پہونچ سکتی ہے اور واحد بڑی جماعت ہوگی ایسے میں ٹی ار ایس پر انحصار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ جہاں تک ٹی آر ایس کا سوال ہے وہ کانگریس میں ضم ہونے سے انکار کرچکی ہے اور اس کے ساتھ اتحاد کے مسئلہ پر بھی پس و پیش کا شکار ہے لیکن اس نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا امکان بھی برقرار رکھا ہے ۔ ٹی آر ایس چاہتی ہے کہ اگر انتخابات سے قبل ممکن نہ بھی ہوسکا تو انتخابات کے بعد بی جے پی سے کوئی اتحاد کیا جائے تاکہ بی جے پی کے مرکز میں برقر اقتدار آنے پر اسے فائدہ ہوسکے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بائیں بازو کی جماعتیں سی پی آئی اور سی پی ایم علاقہ میں ٹی آر ایس کے ساتھ اتحاد کرنے والی ہیں۔ سی پی ایم کی نوتشکیل شدہ تلنگانہ یونٹ کے سکریٹری ٹی ویرا بھدرم نے کہا کہ اگر ٹی آر ایس علاقہ کی ترقی کیلئے کوئی مبسوط منصوبہ پیش کرتی ہے تو ہم اس کے ساتھ اتحاد کرسکتے ہیں۔

انتخابی اتحاد کے مسئلہ پر تاہم ٹی آر ایس نے اپنی جانب سے کھل کر کچھ بھی کہنے سے گریز کیا ہوا ہے ۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ ٹی آر ایس ‘ مجلس سے بھی اتحاد کے امکانات پر غور کر رہی ہے ۔ ٹی آر ایس یا دیگر تمام جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ کوئی خوشگوار تعلقات نہیں رکھتیں ایسے میں کسی بھی طرح کے اتحاد پر سوالیہ نشان ہنوز برقرار ہے ۔ کئی گوشوں کو یقین ہے کہ تلگودیشم پارٹی کا بی جے پی کے ساتھ اتحاد ہوگا تاہم دونوں ہی جماعتیں ابھی تک اس مسئلہ پر کھل کر کچھ بھی کہنے سے گریز کر رہی ہیں۔ تاہم ان کے اتحاد کے تعلق سے قیاس آرائیاں ہنوز جاری ہیں۔ تنظیم جدید آندھرا پردیش بل کی منظوری کے بعد سیما آندھرا میں ان جماعتوں کے اتحاد کی مخالفت کی جا رہی ہے ۔ تاہم چونکہ حالات بدل رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ تلگودیشم نے تقسیم ریاست کی حقیقت کو قبول کرلیا ہے ۔ تلگودیشم کے ذرائع نے کہا کہ آئندہ چند دن میں اس مسئلہ پر کوئی واضح صورتحال سامنے آسکتی ہے ۔ 30 مارچ کو ہونے والے مجالس مقامی کے انتخابات میں صرف سی پی آئی ۔ سی پی ایم نے اتحاد کیا ہوا ہے ۔ دیگر تمام جماعتیں آزادانہ طور پر مقابلہ کر رہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT