Sunday , November 19 2017
Home / اداریہ / ریاست میں شجرکاری مہم

ریاست میں شجرکاری مہم

اس جلتی دھوپ میں یہ گھنے سایہ دار پیڑ
میں اپنی زندگی انھیں دے دوں جو بن پڑے
ریاست میں شجرکاری مہم
تلنگانہ کو سرسبز و شاداب بنانے کی مہم کے حصہ کے طورپر چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے ایک دن میں شہر بھر میں 25 لاکھ پودے لگانے کی بڑے پیمانہ پر مہم انجام دی ۔ آئندہ دو ہفتوں کے دوران ریاست بھر میں ہریتا ہرم پروگرام کو پورا کرتے ہوئے لاکھوں پودے لگائے جائیں گے ۔ پودے لگانے کی مہم ایک اچھی کوشش ہے اس سے فضائی آلودگی پر قابو پانے میں مدد ملے گی ۔ پانی کے ذخائر کو بہتر بنانے میں بھی یہ درخت کام آئیں گے ۔ شجرکاری مہم میں سرکاری محکموں کے علاوہ خانگی فرمس ، رضاکار تنظیمیں اور کالونی ویلفیر اسوسی ایشن کے علاوہ انفرادی طورپر لوگوں نے حصہ لیا ہے ۔ چیف منسٹر نے چیف سکریٹری راجیو شرما کو ہدایت دیکر ریاست کے ہر ایک موضع میں شجرکاری کی اہمیت کے بارے میں عوام کو بیدار کرنے اور شعور بیداری پروگرام چلانے کیلئے زور دیا ہے ۔ یہ ریاستی سطح پر منایا جانے والا بہترین پروگرام ہے اس کے ساتھ ساتھ ضلع ، منڈل سطح سے لیکر پنچایتوں کے لئے بہت بڑی آزمائش کا عمل ہے ۔ ارکان پارلیمنٹ ، ارکان اسمبلی یا ارکان کونسل کو اپنے اپنے حلقوں میں شجرکاری پروگرام کو کامیاب بنانے کی فکر ہے ۔ چیف منسٹر نے شجرکاری کے پروگرام پر کس حد تک عمل آوری ہوئی اس کی رپورٹ بھی طلب کی ہے اور جس کسی حلقہ میں شجرکاری پروگرام ناکام رہا ہے وہاں کے ایم ایل اے ، ایم پی ، کلکٹر اور عہدیدار کو ایکشن ٹیکن رپورٹ ( تادیبی کارروائی رپورٹ ) دینے کی بھی ہدایت دی گئی ہے ۔ ہر شام مختلف محکموں کے عہدیداروں کو تفصیلی رپورٹ بھی پیش کرنی ہے اور یہ رپورٹس چیف سکریٹری سے گذر کر چیف منسٹر کی پیشی تک پہونچیں گے ۔ ریاست میں اس وقت بارش کا سلسلہ جاری ہے اور شجرکاری کی مہم کے لئے یہ ثمر آور موسم ہے ۔ درختوں کو اُگانے اور عوام کو صاف ستھرا ماحول دینے کی کوشش قابل ستائش ہے۔ چیف منسٹر کے اس منصوبہ کو کامیاب کرنا ریاستی متعلقہ محکموں کی ذمہ داری ہے ۔ اس مہم میں 100 سے زائد ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے محکمے ، این جی اوز ، آئی ٹی فرمس اور تعلیمی اداروں نے حصہ لیا ہے۔ اصل یہ پروگرام وزیر صنعت کے ٹی راما راؤ کی کوشش کا نتیجہ ہے ۔ انھوں نے گچی باؤلی کے بائیو ڈائیورسٹی پارک میں شجرکاری مہم چلائی تھی اس کے بعد چیف منسٹر نے ایک پروگرام ہی مرتب کرکے دو ہفتوں کے اندر’’ہریتا ہرم‘‘ پروگرام انجام دینے کا فیصلہ کیا ۔ پوری ریاست میں 46 کروڑ پودے لگانے کا مقصد کامیاب ہوتا ہے تو اس سے فضائی آلودگی پر کسی حد تک قابو پایا جاسکے گا ۔ آئی ٹی ڈپارٹمنٹ حیدرآباد سافٹ ویر انٹرپرائیزس اسوسی ایشن کے ارکان ، سائبر آباد سکیورٹی کونسل سوسائٹی ، آئی ٹی پروفیشنلس ، طلبہ برادری اور فلمی صنعت سے وابستہ شخصیتوں نے اس پروگرام میں حصہ لیا۔ گرین حیدرآباد پروگرام میں جملہ 65 آئی ٹی کمپنیوں نے حصہ لیا اور شہر میں مختلف مقامات پر 100,000 سے زائد پودے لگائے ۔ حیدرآباد اور مضافات کے تقریباً 4 ہزار مقامات پر پودے لگانے کے بعد ان کی دیکھ بھال اور انھیں پروان چڑھانے کی ذمہ داری بھی دیانتداری سے انجام دینی چاہئے۔ عموماً سرکاری پروگرام کا مسئلہ یوں ہوتا ہے کہ ایک بار بڑے پیمانہ پر مہم شروع کی جاتی ہے اور بعد کے دنوں میں یہ مہم سرد پڑجاتی ہے ۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے ماضی میں ایسے کئی مختلف پروگرام بنائے تھے مگر ان کے نتائج کچھ نہیں نکلے ۔ شجرکاری مہم کے نتائج کو بہتر بنانا ہے تو ہر ضلع اور ہر منڈل سطح پر لگائے گئے پودوں کی دیکھ بھال کو یقینی بنانا چاہئے ۔ اس کے علاوہ ریاست میں جنگلات کا صفایا کرنے والا مافیا بھی سرگرم ہے اس پر قابو پائے بغیر نئے پودے لگانے کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا ۔ سب سے پہلے حکومت کو ریاست کے جنگلات کا تحفظ کرنے کو یقینی بنانا ہوگا ۔ درختوں کو کاٹ کر لکڑی فروخت کرنے والے گروہ کام کررہے ہیں ایسے مافیا کے ارکان کو جیل میں ڈال دینے کے بعد ہی ریاست میں سرسبز و شادابی کی فضاء کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ غیرقانونی طورپر درختوں کی کٹوتی اور لکڑی کی اسمگلنگ کے کئی ریاکٹ کام کررہے ہیں ان کو بے نقاب بھی کیا جانا ہے ۔ گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں مگر یہ ریاکٹ دوبارہ سرگرم ہوتے ہیں۔ محکمہ جنگلات اور فارسٹ رینج کے عملہ کی تعداد کو بڑھاکر ان کی ذمہ داریوں کو مزید سخت پابند بنانے کی ضرورت ہے ۔ تلنگانہ کا بیشتر جنگلاتی علاقہ دن بہ دن سکڑتا جارہا ہے یہ تشویش کی بات ہے کہ اب تک مختلف سرکاری محکموں نے دیانتداری سے کام نہیں کیا۔ چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ کو ایک طرف شجرکاری مہم کے ساتھ ساتھ دوسرے طرف جنگلات کے تحفظ کیلئے بھی سنجیدہ ہونا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT