Wednesday , July 18 2018
Home / شہر کی خبریں / ریاست میں مسلمان تعلیمی پسماندگی کی طرف ڈھکیلے جائیں گے؟

ریاست میں مسلمان تعلیمی پسماندگی کی طرف ڈھکیلے جائیں گے؟

…… : حکومت کا اقدام : ……
انٹر تک تلگو کو لازمی قرار دینے سے اُلجھن۔ کم از کم مسلمانوں کو رعایتی نشانات کی سہولت دی جاتی

حیدرآباد۔/22نومبر، ( سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے ریاست میں آئندہ تعلیمی سال سے جماعت اول سے انٹر میڈیٹ تک تلگو کو لازمی قرار دیا ہے اور اس سلسلہ میں 21 نومبر کو ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر تعلیم کڈیم سری ہری نے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ عہدیداروں کا خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے انہیں ہدایت دی کہ تلگو لازمی زبان کے طور پر پڑھانے کے احکامات پر سختی سے عمل آوری کی جائے گی۔ اگر آئندہ سال سے تلگو کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے تو کیا اقلیتی طلباء تلگو میں کامیابی حاصل کرپائیں گے، کیونکہ اردو مدارس میں تلگو پڑھانے کی ابتداء پانچویں جماعت سے ہوتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اقلیتی طلبہ مضمون تلگو میں اچھے نمبرات حاصل نہیں کرپاتے۔ عوامی نمائندوں کو اس بات کی جرأت نہیں ہوئی کہ وہ حکومت کے اس فیصلہ کی مخالفت کریں۔ ہمارا مقصد یہاں تلگو یا کسی اور زبان کی مخالفت کرنا نہیں ہے بلکہ ہماری نظر میں تلگو سیکھنابہت ضروری ہے کیونکہ یہ ریاست کی زبان ہے لیکن ایک زبان کو مسلط کردینا اور دوسری زبان کو نظر انداز کردینا انصاف نہیں ہوسکتا۔ مسلمانوں کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کرنے والوں نے اسمبلی میں یا پرگتی بھون میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے طلب کردہ جائزہ اجلاس میں اردو کو بھی تلگو اور انگریزی کے سرکاری و خانگی تعلیمی اداروں میں لازمی زبان کے طور پر پڑھانے کی کوئی تجویز پیش نہیں کی یا اقلیتی طلبہ کو کامیابی کیلئے 35 نشانات کے بجائے 17 یا 18 نشانات حاصل کرنے پر کامیاب قرار دینے کی بھی تجویز پیش نہیں کی۔ اردو کا شمار چینی زبان مندارین، انگریزی، فرنچ، عربی ، ہندی جیسی دنیا کی بڑی زبانوں میں ہوتا ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں اردو کو خاصی اہمیت دی جارہی ہے۔ ایسے میں ریاست تلنگانہ کے اسکولس اور انٹر میڈیٹ کالجس میں اردو کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھانے میں کیا قباحت ہے۔ لیکن افسوس کہ عوامی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والوں نے اس بات پر سوچا بھی نہیں یا پھر وہ حکومت کی ناراضگی مول لینے کے خوف سے مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ حکومت کے ایسے کئی اقدامات ہیں جن کی تائید کرنا مجبوری ہے تو کم از کم اس سلسلہ میں تعمیر تنقید تو کی جاسکتی ہے لیکن مسلمانوں کے نمائندوں کو شاید یہ توفیق نہیں ملتی کہ وہ حکومت کے خلاف اور ملت کے مفادات میں بات کریں۔ دو تین دہے قبل تک جو سیاستداں تھے وہ کبھی شخصی مفادات کو ملی مفادات پر ترجیح دینے سے گریز کرتے تھے۔ لیکن اب معاملہ کچھ اُلٹا نظر آرہا ہے۔ یہ نمائندے حکومت کے علم میں یہ بات لانے سے بھی قاصر ہیں کہ پرانے شہر میں ایک ہی عمارت میں تین تا چار اردو میڈیم اسکولس کام کررہے ہیں جہاں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ اگر اردو میڈیم اسکولس کی ایسی ہی حالت رہی تو وہاں پڑھنے کون آئیں گے، اور پڑھانے والے کہاں جائیں گے۔ حکومت نے اسمبلی میں اردو کو ریاست کے 31 اضلاع میں دوسری سرکاری زبان کی قرارداد منظور کی ہے اس کو اپنی کامیابی قرار دے کر گلپوشی کروالینا یا مٹھائیاں کھالینا یا پھر جی حضوریوں کی واہ واہ بٹورنے سے بہتر ہوتا اردو اور اردو میڈیم اسکولس کی ترقی کیلئے کوئی ٹھوس کام کئے جاتے تو قوم انہیں یاد رکھتی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ گذشتہ اسمبلی سیشن میں 12 فیصد مسلم تحفظات کی قرارداد منظور کی جارہی تھی تب مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے قائد اسمبلی میں رہنے کے بجائے لندن میں چھٹیاں گذار رہے تھے۔

TOPPOPULARRECENT