Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / ریاست میں پٹرول کی قیمت فی لیٹر60 روپئے سے بھی کم ہوجانے کا امکان

ریاست میں پٹرول کی قیمت فی لیٹر60 روپئے سے بھی کم ہوجانے کا امکان

عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمت میں 7 ماہ کے دوران 50 فیصد سے زائد کمی ، مودی حکومت کو سیاسی فائدہ ممکن

عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمت میں 7 ماہ کے دوران 50 فیصد سے زائد کمی ، مودی حکومت کو سیاسی فائدہ ممکن
حیدرآباد ۔ 8 ۔ جنوری : ( نمائندہ خصوصی) : تیل کی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مسلسل گراوٹ آرہی ہے ۔ منگل کو خام تیل کی قیمت فی بیارل 50 ڈالرس تک پہنچ گئی جو پچھلے پانچ برسوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں ہوئی سب سے بڑی کمی ہے ۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر جہاں دنیا کی معیشت پر پڑا ہے وہیں صارفین کے لیے امکانی راحت کا باعث بھی بنا ہے ۔ راقم الحروف نے خام تیل کی قیمت میں بے تحاشہ کمی کو دیکھتے ہوئے شہر کے بعض پٹرول پمپس کے ذمہ داروں اور صارفین ( عام آدمی ) سے بات چیت کی ۔ جس پر اس بات کا انکشاف ہوا کہ پٹرول کی قیمت جو ہمارے شہر میں فی الوقت 67.11 روپئے فی لیٹر اور ڈیزل 55.06 روپئے فی لیٹر ہے اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کے گرنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے تو فی لیٹر پٹرول کی قیمت 60 روپئے اور ڈیزل کی قیمت فی لیٹر 48 تا 50 روپئے ہوجائے گی ۔ اس سلسلہ میں حکومت کے ساتھ ساتھ انڈین آئیل کارپوریشن ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمٹیڈ اور بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمٹیڈ خام تیل کی مارکٹ پر خصوصی نظریں رکھے ہوئے ہیں ۔ ویشنوی سرویس اسٹیشن کے مسٹر سنیل کمار کا کہنا ہے کہ عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اسی طرح کی کمی ہوتی رہے تو ہندوستان میں پٹرول پمپس پر دستیاب ہونے والے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 5 تا 7 روپئے کی کمی کئے جانے کا امکان ہے ۔ ویسے بھی گذشتہ سال مئی اور جون میں تیل کی عالمی منڈی میں کروڈ آئیل کی قیمت فی بیارل 115 ڈالرس تھی اب وہ 50 ڈالرس ہوگئی ہے ۔ اس طرح صرف سات ماہ میں خام تیل کی قیمت میں 50 فیصد سے زائد کمی آئی ہے ۔ اور حکومت نے 7 ماہ کے دوران پٹرول کی قیمت میں زیادہ سے زیادہ 13 فیصد کمی کی ہے ۔ عام آدمی کے خیال میں حکومت کو خام تیل کی قیمتوں میں اس قدر کمی کے بعد کم از کم 25 فیصد کمی کرنی ہوگی ۔ فدا علی اینڈ سنس پٹرول پمپ لکڑی کا پل و عطا پور کے مالک جناب افتخار حسین کے خیال میں 7 ماہ کے دوران عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمت میں کمی آئی ہے ۔ اس کے لحاظ سے فی الوقت پٹرول کی قیمت 67 روپئے فی لیٹر کی بجائے زیادہ سے زیادہ 50 روپئے فی لیٹر ہونا چاہئے تھا ۔ جس سے عام آدمی کو بہت زیادہ راحت مل سکتی تھی ۔ جہاں تک ہمارے ملک میں پٹرول و ڈیزل کی قیمت کا تعین ہے یہ خام تیل کے بیارل اور ڈالر کی شرح کے لحاظ سے کیا جاتا ہے ۔ واضح رہے کہ ہمارے شہر میں سردست پٹرول 67.11 روپئے فی لیٹر اور ڈیزل 55.06 روپئے فی لیٹر فروخت کیا جارہا ہے ۔ اے انیل کمار کے مطابق پٹرول پمپس کو ایک لیٹر پٹرول پر دو روپئے اور ایک لیٹر ڈیزل پر ایک روپیہ 30 پیسے منافع حاصل ہوتا ہے ۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتہ حکومت نے ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی کی بجائے دو ماہ کے دوران آمدنی میں اضافہ کے لیے ڈیزل اور پٹرول پر آکسائز ڈیوٹی میں مسلسل تیسری مرتبہ اضافہ کیا ۔ اس ڈیوٹی کے ذریعہ حکومت کو 17000 کروڑ روپئے کی آمدنی حاصل ہونے کی امید ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ پٹرول درآمد کرنے والے سرفہرست ممالک میں امریکہ ، چین اور جاپان کے بعد ہندوستان کا چوتھا نمبر ہے اور وہ اپنی ضروریات کے لیے 70 فیصد پٹرول درآمد کرتا ہے ۔ اسی طرح ہندوستان میں فی یوم 3.8 ملین بیارل پٹرول کا استعمال ہوتا ہے ۔ گذشتہ مالی سال حکومت نے 85000 کروڑ روپئے پٹرولیم سبسیڈی فراہم کی تھی لیکن جاریہ مالی سال 63000 کروڑ روپئے پٹرولیم سبسیڈی فراہم کی گئی ہے ۔ عالمی سطح پر ماہرین اس خیال کا اظہار کررہے ہیں کہ تیل کی قیمت 40 ڈالرس فی بیارل تک پہنچ جائے گی ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ مودی حکومت 7 ماہ کے دوران 10 مرتبہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا دعویٰ کررہی ہے حالانکہ سب سے بڑی مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ شہری ہوا بازی کے شعبہ میں استعمال ہونے والے ایویشین ٹربائن آئیل کی قیمت میں نومبر 2014 تا جاریہ ماہ سے دو مرتبہ کمی کی گئی ۔ اس طرح اب وہ 52.42 روپئے فی لیٹر دستیاب ہے اس کی بہ نسبت پٹرول کی قیمت بہت زیادہ ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ فی الوقت دہلی میں پٹرول کی قیمت 61.33 روپئے ، کولکتہ میں 68.65 روپئے ، چینائی ( مدراس ) میں 63.94 اور حیدرآباد میں 67.11 روپئے فی لیٹر ہے ۔ امید ہے کہ آئندہ 15 تا 30 یوم پٹرول کی قیمتوں میں کم از کم 7 روپئے کی کمی آئے گی ۔ ویسے بھی دہلی اسمبلی انتخابات کے پیش نظر مودی حکومت کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں کمی کرنا ضروری ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT