Friday , November 17 2017
Home / شہر کی خبریں / ریاست میں کسانوں کو فی ایکڑ 4000 روپئے سبسیڈی کی اسکیم

ریاست میں کسانوں کو فی ایکڑ 4000 روپئے سبسیڈی کی اسکیم

20 ایکڑ سے زائد اراضی کے مالک متمول کسانوں کو رضاکارانہ دستبرداری کا مشورہ
حیدرآباد۔25جولائی (سیا ست نیوز) حکومت کی جانب سے کسانو ںکو فی ایکڑ 4000 روپئے سبسیڈی رقم ادا کرنے کی اسکیم تیار کی جا رہی ہے لیکن اس اسکیم میں متمول کسانوں کو یعنی 20تا25ایکڑ زرعی اراضی رکھنے والے کسانوں کو حکومت کی اسکیم سے رضاکارانہ طور پر دستبرداری اختیار کرنے کا حق حاصل رہیگااور وہ درخواست فارم کے ذریعہ سرکاری سبسیڈی سے دستبردار ہو سکیں گے۔ تلنگانہ میں 25ایکڑ سے زیادہ زرعی اراضی رکھنے والے کو ئی غریب کسان نہیں جو حکومت اور موسم کے علاوہ قرضوں کے بوجھ تلے پریشان خودکشی کر لیتے ہیں بلکہ 25ایکڑ سے زائد زرعی اراضی رکھنے والوں میں بیشتر سیاستداں‘ عہدیداروں اور وزرا بھی شامل ہیں لیکن انہیں اس اسکیم سے مستثنی قرار دیتے ہوئے آئندہ برس شروع ہونے والی اسکیم کے استفادہ کنندگان سے خارج ہونے کا مشورہ دیا جا رہا ہے اور انہیں چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی جانب سے ان عہدیداروں اور سیاستدانوں کو تاکید بھی کردی گئی ہے کہ وہ کسانو ںکو فراہم کی جانے والی سبسیڈی اسکیم سے رضاکارانہ طور پر دستبراداری اختیار کرلیں تاکہ ضرورت مندوں تک مالیہ کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے۔ بتایاجاتا ہے کہ جن ارکان پارلیمان اور وزراء کے پاس زرعی اراضیات ہیں انہیں دیئے گئے مشورہ کے مطابق انہیں اس اسکیم کیلئے درخواست داخل کرنی ہوگی لیکن درخواست فارم میں سبسیڈی اسکیم سے دستبرداری کا انتخاب کرنا ہوگا ۔ تلنگانہ میں ایک کروڑ 24لاکھ 50 ہزار ایکڑ زرعی اراضی ہے جس میں 51لاکھ 30ہزار ایکڑ اراضی میں آبپاشی کی سہولت موجود ہے۔ کسانو ںکو سبسیڈی کی فراہمی کیلئے سروے کے مطابق 60فیصد کسان ایسے ہیں جو 2.5ایکڑ اراضی کے مالک ہیں ۔ 25فیصد کسان ایسے ہیں جو 2.5ایکڑ تا 5 ایکڑ اراضی کے مالک ہیں 10فیصد ایسے کسان ہیں جن کی زرعی اراضی 5تا10ایکڑ ہے اور3فیصد ایسے کسان ہیں جو 10تا25ایکڑ زرعی اراضی کے مالک ہیں۔ سروے کے مطابق 2 فیصد ایسے کسان ہیں جو 25ایکڑ سے زیادہ زرعی اراضی کے مالک ہیں ۔ ان میں عہدیداروں‘ سیاستدانوں کے علاوہ دیگر کی بڑی تعداد ہے ۔ حکومت کی جانب سے زرعی شعبہ کی ترقی کے علاوہ کسانوںاور مزدوروں کو سبسیڈی کی فراہمی کے متعلق اسکیم پر عہدیداروں نے بتایا کہ آئندہ سال سے یہ اسکیم شروع کردی جائے گی اور اس اسکیم کے خد وخال کو قطعیت دے دی گئی ہے ۔ اسکیم کے استفادہ کنددگان کی تمام تر تفصیلات اکٹھا کرنے کے بعد حکومت کی جانب سے ریاست کے کسانوں کو راحت پہنچانے کے اقدمات کئے جائیں گے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT