Saturday , January 20 2018
Home / اضلاع کی خبریں / ریاست کرناٹک میں انضمام کے بعد علاقہ حیدرآباد کرناٹک کو خصوصی موقف

ریاست کرناٹک میں انضمام کے بعد علاقہ حیدرآباد کرناٹک کو خصوصی موقف

بیدر 19 سپٹمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نہرو اسٹیڈیم بیدر میںیوم سقوط حیدرآباد پروگرام منایا گیا۔ ریاستی وزیر و ویمنس اینڈ چلڈرنس ویلفیر کنڑا کلچر اور ضلع انچارج شریمتی اوما شری نے پریڈ کی اور سلامی لی اور پرچم کشائی انجام دی۔ ضلع انچارج وزیر نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ہندوستان 15 اگسٹ 1947 ء کو آزاد ہوا۔ لیکن علاقہ حیدرآباد کرناٹک کو ا

بیدر 19 سپٹمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نہرو اسٹیڈیم بیدر میںیوم سقوط حیدرآباد پروگرام منایا گیا۔ ریاستی وزیر و ویمنس اینڈ چلڈرنس ویلفیر کنڑا کلچر اور ضلع انچارج شریمتی اوما شری نے پریڈ کی اور سلامی لی اور پرچم کشائی انجام دی۔ ضلع انچارج وزیر نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ہندوستان 15 اگسٹ 1947 ء کو آزاد ہوا۔ لیکن علاقہ حیدرآباد کرناٹک کو آزادی حاصل نہیں ہوئی۔ کیونکہ نظام نے اس کو قبول نہیں کیا۔ حیدرآباد نظام ریاست ہندوستان کی 565 ویں بڑی ریاست تھی۔ حیدرآباد کے میر عثمان علی خان نے اپنی ریاست کو ہندوستان میں ضم کرنے سے انکار کیا۔ 15 اگسٹ 1947 ء کو اسی طرح کا اعلان کیا۔ اس کے بعد اس علاقہ کو آزاد کرنے کیلئے جدوجہد شروع ہوئی۔ اس دوران رضاکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ جس کے سبب امن کو خطرہ پیدا ہوا۔ اس مسئلہ سے حکومت ہند نے نظام کو واقف کروایا، پھر بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ناگزیر حالات میں حکومت ہند نے پولیس ایکشن کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہندوستانی فوج جب حیدرآباد کے قریب پہنچ گئی۔ حالات کو دیکھتے ہوئے نظام نے 17 سپٹمبر 1948 ء کی شام ریڈیو پر اعلان کیاکہ ریاست حیدرآباد کو ہندوستان میں ضم کیا جائے گا۔ اس کے بعد یکم نومبر 1958 ء کو کنڑا بولنے والے علاقے بیدر، گلبرگہ اور رائچور کو میسور ریاست (جو آج کرناٹک ریاست ہے) میں شامل کیا گیا۔ ہندوستان کے پہلے وزیراعظم اور وزیرداخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے پولیس ایکشن کی نگرانی کی۔ ضلع انچارج وزیر نے اپنی تقریر میں کہاکہ علاقہ حیدرآباد کرناٹک کو خصوصی موقف کا درجہ دیا گیا ہے۔ جس کے نتیجہ میں علاقہ کے عوام کو سہولیات حاصل ہوں گی۔ گروپ اے اور بی جائیدادوں پر 75 فیصد، گروپ سی جائیدادوں پر 80 فیصد، گروپ ڈی جائیدادوں پر 85 فیصد ملازمتیں اس علاقے کے عوام کو حاصل ہوں گی۔ اس طرح ریاست کے دوسرے علاقوں کے اضلاع میں تقررات کے وقت علاقہ حیدرآباد کرناٹک کے عوام کو 8 فیصد ریزرویشن حاصل ہوگا۔ علاقہ حیدرآباد کرناٹک کے تعلیمی اداروں میڈیکل، انجینئرنگ اور دوسرے کورسیس میں 70 فیصد سیٹ اسی علاقے کے طلباء کو حاصل ہورہی ہے۔ حیدرآباد کرناٹک ریزرویشن اہلیت حاصل کرنے درخواست گذار یا ان کے سرپرستوں میں کوئی ایک اس علاقہ میں یکم جنوری 1913 ء سے قبل پیدا ہوئے ہوں یا اس علاقہ میں مسلسل 10 سالوں تک تعلیم حاصل کیا ہو۔ پیدائشی یا تعلیمی سرٹیفکٹ کے ساتھ اسسٹنٹ کمشنر کے پاس درخواست داخل کرسکتے ہیں۔ حیدرآباد کرناٹک علاقے کے مرد سے شادی کرنے والی خاتون بھی ریزرویشن کی مستحق ہوگی لیکن عوام غلط فہمی کے نتیجہ میں رہائشی سرٹیفکٹ حاصل کررہے ہیں، اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ ان 4 میں کوئی بھی ریکارڈ ہو تو کافی ہے۔ صرف رہائشی سرٹیفکٹ ہو تو کافی ہے۔ ضلع بیدر میں اب تک 26,090 درخواستیں 371(J) ریزرویشن سرٹیفکٹ حاصل کرنے کیلئے قبول کی گئی ہیں اور 26,013 سرٹیفکٹ جاری کئے گئے ہیں۔ مرکزی حکومت نے ریاست کرناٹک کے 6 اضلاع کو زیادہ پسماندہ اضلاع امداد فنڈ کیلئے انتخاب کیا ہے اس میں بیدر ضلع بھی ایک ہے۔

TOPPOPULARRECENT