Thursday , December 13 2018

ریاست کو نشہ سے پاک کرنے کے مشن کو خطرہ؟

شہر میں گانجہ کی گونج
ریاست کو نشہ سے پاک کرنے کے مشن کو خطرہ؟
نوجوان نسل اصل نشانہ ، احساس کو ختم کرنا مقصد،تعلیم یافتہ طبقہ کی زبان اور سوچ کو معذوری میں بدلنے کی سازش

محمد علیم الدین
حیدرآباد 18 فروری ۔ شہر حیدرآباد میں گانجہ کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ خوفناک نتائج کی طرف اشارہ کررہی ہے۔ ریاست کو نشہ سے پاک کرنے کے مشن کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ غیر سماجی عناصر شہر میں منشیات و نشیلی اشیاء کا جال پھیلانے کی مسلسل کوشش میں جٹے ہوئے ہیں اور نوجوان نسل ان کے نشانہ پر ہے بلکہ اپنے ناپاک عزائم کی انجام دہی کے لئے یہ لوگ نوجوان نسل کا استعمال کررہے ہیں اور بار بار پولیس کی کارروائیوں کے باوجود بہ آسانی شہر تک گانجہ پہونچ رہا ہے جو نہ صرف سماجی تباہی بلکہ خود پولیس کی مستعدی پر بھی سوالیہ نشان بن رہا ہے۔ آخر ان کا مقصد کیا ہے، یہ لوگ پیسہ کی خاطر یہ کارروائی انجام دے رہے ہیں یا پھر اس کے پیچھے ان کا کوئی مقصد ہے۔ گزشتہ چند مہینوں کے دوران پولیس کارروائی میں گانجہ کی بڑے پیمانے پر ضبطی شہر کے ماہرین اور دانشوروں میں لمحہ فکر بن گیا ہے۔ ایک دانشور کا کہنا ہے کہ اگر نوجوان نسل کو کسی چیز کا عادی بنادیا جائے تو وہ غلام بن جاتا ہے اور ہر بُرائی اس کے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتی بلکہ وہ بھلائی کا دشمن بن جاتا ہے۔ نوجوان نسل کو نشہ کی لعنت میں جھونکنے کا ایک خاص مقصد احساسات اور اہمیت کو ختم کرنا ہے جس سے ان کی ہمت بھی ختم ہوجائے گی اور وہ برائے نام رہ جائیں گے۔ ہندوستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ایک ریاست کے بہادروں کو 83 کے دہے کے بعد نشہ کا غلام بنادیا گیا تاکہ ان کے جذبہ کو ختم کردیا جاسکے نہ صرف ان کے جذبہ کو بلکہ ان کی بہادری کو بھی نشہ کا غلام بنادیا گیا۔ اس طرح سارے شہر کو نشہ کی لعنت میں جھونکا جارہا ہے۔ بالخصوص پرانے شہر کی نوجوان نسل خاص کر تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ اور طلبہ برادری تک گانجہ کی آسان انداز میں فراہمی کی جارہی ہے۔ شہر کے اطراف تقریباً ہر انجینئرنگ و ڈگری کالج ان ظالموں کی فہرست میں شامل ہے۔ رات دن کی پرواہ کئے بغیر نوجوان طبقہ گانجہ کے استعمال میں ملوث ہورہا ہے۔ نشہ کی عادی نسل سے کسی بھی قسم یہاں تک خود ان کی بھلائی کی بھی توقع مشکل ہے۔ تو بھلا قوم و ملت کی تعمیر میں ان سے کیا توقعات کی جاسکتی ہیں۔ گھر بستی، محلہ، سماج، سوسائٹی نیز سارے معاشرے کی اُمید کی کرن نوجوان ہوتا ہے اب ایک منظم سازش کے تحت نوجوان نسل کو نشہ میں جھونک کر ان کے احساسات کو تباہ کردیا جارہا ہے تاکہ وہ خود ہی اپنے مضبوط قلعہ کی تباہی اور آباد زندگیوں کی بربادی کا سبب بنیں۔ بڑے پیمانے پر گانجہ خریدنے اور اس کو فروخت کرنے والے بڑے پیمانے پر رقم بٹورتے ہیں لیکن ان کوششوں میں کامیاب کی راہ ہموار کرنے والوں کا کیا مقصد ہے اس کا مقصد بھی وہ ہی بڑے اسمگلرس کا ہوتا ہے۔ نوجوان نسل کو معذور کردینا ہے۔ رچہ کنڈہ، سائبرآباد اور حیدرآباد تینوں پولیس کمشنریٹ حدود میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران کنٹلوں کی تعداد میں گانجہ ضبط کیا گیا جو پڑوسی ریاستوں کو منتقل کیا جارہا ہے جبکہ ان کنٹلوں کے گانجہ کی مقدار میں نصف مقدار شہر حیدرآباد میں تقسیم کی جارہی تھی۔ پولیس نے ان کارروائیوں کی تحقیقات میں پتہ چلایا کہ گانجہ شہر میں کس طرح فروخت ہورہا ہے اور کونسے افراد یا پھر طبقہ اس کا زائد استعمال کررہا ہے۔ پولیس کارروائیوں میں حیرت انگیز انکشاف کے بعدپولیس مزید چوکس ہوگئی ہے۔ گزشتہ روز 175 کیلو گانجہ ضبط کرنے کے بعد ایڈیشنل ڈی سی پی ٹاسک فورس مسٹر چیتنہ کمار نے بتایا کہ کالجس اور نوجوان نسل کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بڑے پیمانے پر رقم بٹورنے کے لئے یہ اقدامات جاری ہیں۔ خریدی گئی قیمت سے کئی گنا اضافی قیمت پر گانجہ فروخت ہورہا ہے۔ آندھرا، اڑیسہ سرحدی علاقوں سے گانجہ شہر حیدرآباد منتقل کیا جارہا ہے اور یہاں سے کرناٹک، مہاراشٹرا پڑوسی ریاستوں کو فروخت ہورہا ہے۔ ریاست آندھراپردیش کے سرحدی اضلاع اہم راستہ اور ایجنسی علاقوں میں گانجہ کی بڑے پیمانے پر کاشت کی جارہی ہے۔ پولیس بے بسی اور بے کسی کے عالم میں اپنی ساری توجہ فروخت اور منتقلی پر روک لگانے میں جٹ گئی ہے۔ پولیس کو چاہئے کہ وہ گانجہ فروخت کرنے والوں کے ساتھ ساتھ گانجہ کا استعمال کرنے والوں کو بھی اپنی کارروائی کا نشانہ بنائیں بلکہ ان کے خلاف کارروائی کرکے ان کی کونسلنگ اور شعور بیداری کے ذریعہ نوجوان نسل بالخصوص طلبہ برادری کو اس کی ذمہ داری دی جائے جیسا کہ اینٹی ریاگنگ کمیٹیاں اور شی ٹیم کو سٹی فارہر کمیٹیاں پائی جاتی ہیں۔ اس طرح کالجس اور محلوں بستیوں میں مخالف گانجہ شعور بیداری مہم چلاتے ہوئے اینٹی ڈرگ کمیٹیاں تشکیل دی جائے تاکہ نوجوان نسل کو بچایا جاسکے۔ اس مہم میں سماج کے ذی اثر شخصیات کے علاوہ قائدین اور مذہبی رہنماؤں کو شامل کیا جائے اور مخالف گانجہ مہم میں خواتین کو شامل کرتے ہوئے ریاست کو نشانہ سے پاک کرنے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT