Wednesday , January 17 2018
Home / اضلاع کی خبریں / ریاست کی تقسیم میں مساوات اور عوامی مفادات ملحوظ

ریاست کی تقسیم میں مساوات اور عوامی مفادات ملحوظ

تلنگانہ کی تعمیرنو کیلئے کانگریس کو کامیاب بنانے کی اپیل، سنگاریڈی میں مرکزی وزیر جئے رام رمیش کا بیان

تلنگانہ کی تعمیرنو کیلئے کانگریس کو کامیاب بنانے کی اپیل، سنگاریڈی میں مرکزی وزیر جئے رام رمیش کا بیان

سنگاریڈی۔/9مارچ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی ضلع میدک کے کارکنوں اور قائدین کا اجلاس عام مسٹر وی بھوپل ریڈی ایم ایل سی و صدر ضلع کانگریس کمیٹی کی زیر صدارت آج دوپہر پی ایس آر گارڈن فنکشن ہال پوتریڈی پلی چوراستہ سنگاریڈی میں منعقد ہوا۔ جس میں مرکزی وزیر برائے دیہی ترقیات جئے رام رمیش کے علاوہ ضلع کے سابق وزراء، اراکین اسمبلی ، ارکان پارلیمنٹ نے شرکت کی۔ اجلاس عام سے قبل جئے رام رمیش مرکزی وزیر برائے دیہی ترقیات نے پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی کے سیاسی تدبر اور محترمہ سونیا گاندھی کی سیاسی بصیرت اور فراست کے باعث علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل ہوئی ہے۔ تلنگانہ کے 4کروڑ عوام کے 60سالہ خواب کو کانگریس پارٹی نے شرمندہ تعبیر کیا۔ علحدہ ریاست تلنگانہ بل کو منظور کروانے بی جے پی نے لوک سبھا میں تائید کی جبکہ راجیہ سبھا میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ اس کے باوجود کانگریس نے راجیہ سبھا میں بھی تلنگانہ بل کو منظور کروایا اور2جون سے علحدہ ریاست تلنگانہ مکمل طور پر وجود میں آکر کارکرد ہوجائے گی۔ متحدہ ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم کے معاملہ میں سیما آندھرا عوام کے حقوق اور مفادات کا خیال رکھتے ہوئے تقسیم کو مساوات پر مبنی بنایاگیا۔ملازمین سرکار کو بھی اپنے پسندیدہ مقام یا ریاست کا انتخاب کرنے آپشن کی سہولت دی گئی۔ منڈل وضلع سطح تک کے ملازمین سرکار کو اس سے فائدہ ہوگا جبکہ 84 ہزار ریاستی سطح کے عہدیداروں کی منصفانہ تقسیم کیلئے اعلیٰ سطحی کمل ناتھن کمیٹی تشکیل دی گئی۔انتخابات میں سیاسی جماعتوں سے مفاہمت کے امکانات کو پارٹی ہائی کمان تلاش کررہی ہے۔

دوستانہ ذہانت کی حامل سیاسی جماعتوں سے انتخابی مفاہمت کی بات چیت ممکن ہے۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ عوامی تحریکات کو منظم کرنا علحدہ بات ہے اور حکومت چلانا علحدہ کام ہے، اس کی مثال کے طور پر انہوں نے عام آدمی پارٹی اور اروند کجریوال کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی پارٹی تحریک اچھی چلاتی ہے لیکن حکومت چلانا نہیں آیا اور صرف 49دنوں میں حکومت چھوڑ دی۔ انہوں نے تلنگانہ کے عوام سے خواہش کی کہ سماجی انصاف کے تقاضہ کو پورا کرنے کیلئے کانگریس نے علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل دی۔ چنانچہ عوام تلنگانہ کی ترقی و تعمیر نو کیلئے کانگریس پارٹی کے امیدواروں کو بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب کروائیں۔ تلنگانہ میں کانگریس کی کامیابی ریاست کی ترقی کی ضامن ہوگی۔ عوام سیاسی جماعتوں کی جانب سے غیر سنجیدہ تقاریر اور وعدوں کے جھانسہ میں نہ آتے ہوئے کانگریس پارٹی کو اپنا ووٹ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست آندھرا پردیش سے وہ راجیہ سبھا کیلئے منتخب ہوئے اور گذشتہ دس سال کے دوران اضلاع عادل آباد، کھمم اور ورنگل میں شعبہ تعلیم پر اپنے ایم پی فنڈ سے 20کروڑ روپئے خرچ کئے۔ سابق چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کی نئی سیاسی جماعت کے سوال پر کہا کہ کرن کمار ریڈی کی سیاسی زندگی کانگریس پارٹی کی مرہون منت ہے۔ بعد ازاں وی بھوپال ریڈی صدر ضلع کانگریس نے اجلاس سے مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ کانگریس پارٹی کو ٹی آر ایس پارٹی کے ساتھ انتخابی مفاہمت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ریاست تلنگانہ میں کانگریس پارٹی اپنے بل بوتے پر انتخابات کی کامیابی یقینی ہے۔ نندیشور گوڑ رکن اسمبلی پٹن چیرو نے کہا کہ ضلع میدک کے کسی ایک اسمبلی حلقہ سے اقلیتی امیدوار کو ایم ایل اے ٹکٹ دے کر کانگریس پارٹی کامیاب کروائے۔ اس موقع پر سابق وزراء سنیتا لکشما ریڈی، ڈاکٹر جے گیتاریڈی، متیم ریڈی، کشٹا ریڈی، مقامی رکن اسمبلی جے پرکاش ریڈی و دیگر ارکان اسمبلی نے خطاب کیا۔ مرزا وحید بیگ مقبول ضلع کانگریس پارٹی ترجمان، محمد مختار اور محمد فرید الدین سابق وزیر کے علاوہ کثیر تعداد میں کانگریس کے سینکڑوں کارکنوں و قائدین موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT