ریاست کی تقسیم کو صدر جمہوریہ کی منظوری متوقع نہیں

حیدرآباد۔ 2؍فروری (سیاست نیوز)۔ چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی نے آج دعویٰ کیا کہ سمکھیا آندھرا قائدین نے اسمبلی میں تلنگانہ بِل کو شکست دے دی اور ناقابل چیلنج قرارداد کو ندائی ووٹ کے ذریعہ منظور کرتے ہوئے تلنگانہ بِل کو مسترد کردیا ہے۔ انھوں نے اُمید ظاہر کی کہ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی سیما۔ آندھرا قائدین کی اپیل پر مثبت غور کرتے ہ

حیدرآباد۔ 2؍فروری (سیاست نیوز)۔ چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی نے آج دعویٰ کیا کہ سمکھیا آندھرا قائدین نے اسمبلی میں تلنگانہ بِل کو شکست دے دی اور ناقابل چیلنج قرارداد کو ندائی ووٹ کے ذریعہ منظور کرتے ہوئے تلنگانہ بِل کو مسترد کردیا ہے۔ انھوں نے اُمید ظاہر کی کہ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی سیما۔ آندھرا قائدین کی اپیل پر مثبت غور کرتے ہوئے ریاست کو بدستور متحد رکھیں گے۔ چیف منسٹر نے آج یہاں اپنے کیمپ آفس پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے متحدہ آندھرا کی تائید میں اسمبلی میں منظورہ قرارداد کو ’’برہماسترم‘‘ (آسمانی ہتھیار) قرار دیا اور کہا کہ اس قرارداد سے مرکز پر اپنے فیصلہ کو مؤخر کرنے کے لئے دباؤ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ مرکزی وزیر ایس جئے پال ریڈی کی جانب سے اس قرارداد کو وائیٹ پیپر قرار دئے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کرن کمار ریڈی نے کہا کہ وہ محض سیاسی فائدہ کے لئے ایسی باتیں کررہے ہیں۔ چیف منسٹر نے ڈپٹی چیف منسٹر دامودر راج نرسمہا اور ٹی آر ایس کے صدر کے چندر شیکھر راؤ کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ کرن کمار ریڈی نے کہا کہ صدر جمہوریہ سے 4 یا 5 فروری کو ملاقات کے لئے وقت دینے کی خواہش کی گئی ہے

اور جواب کا انتظار کیا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ صدر جمہوریہ کو اگرچہ بِل بھیجنے کا اختیار ضرور ہے، لیکن وہ اس ضمن میں قانونی و دستوری تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے قدم اُٹھائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ندائی ووٹ کوئی بے کار عمل نہیں تھا جس کی منظوری کے باوجود ریاست کو تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ماضی میں کوئی بھی ریاست اسمبلی کی قرارداد کے بغیر تقسیم نہیں کی گئی۔ انھوں نے مرکز پر الزام عائد کیا کہ وہ اسمبلی کو اصل بِل بھیجنے میں ناکام رہا ہے۔ کرن کمار ریڈی نے سوال کیا کہ آندھرا پردیش میں بہ مشکل دو مہینے بعد عام انتخابات ہوسکتے ہیں۔ ان حالات میں مرکز کو ریاست کی تقسیم کے لئے اس قدر جلد بازی کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ مرکز کو چاہئے تھا کہ عوام کو آئندہ انتخابات میں اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جاتا۔ چیف منسٹر نے اپوزیشن لیڈر این چندرابابو نائیڈو کے موقف کا مذاق اُڑایا اور کہا کہ وہ (چندرابابو نائیڈو) ماضی میں 9 سال چیف منسٹر رہ چکے ہیں اور اب گزشتہ 9 سال سے اس اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں۔ اس کے باوجود اس بِل پر ایوان میں لب کشائی نہیں کرسکے۔

انھوں نے کہا کہ ’’اگر مرکزی حکومت ریاست کو تقسیم کرنا ہی چاہتی ہے تو اس کو چاہئے کہ سب سے پہلے سیما۔ آندھرا علاقہ کی طرف سے اُٹھائے گئے مسائل کی یکسوئی کرے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ اگر ضروری ہو تو متحدہ ریاست کی تائید میں تلگودیشم پارٹی، وائی ایس آر کانگریس پارٹی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ صدر جمہوریہ سے ملاقات کرتے ہوئے آندھرا پردیش کو متحد رکھنے کے لئے نمائندگی کی جائے گی۔ کرن کمار ریڈی نے کہا کہ آندھرا پردیش میں دو ماہ بعد انتخابات منعقد ہوں گے اور عوام تقسیم کے بارے میں اپنا فیصلہ دے سکتے ہیں۔ چنانچہ مرکز کو اس مسئلہ پر جلد بازی کی ضرورت ہی کیا ہے؟ چیف منسٹر نے کہا کہ سیما۔ آندھرا کے قائدین مشترکہ لائحہ عمل کے بارے میں منصوبہ بنارہے ہیں اور انھیں یقین ہے کہ سیما۔ آندھرا علاقہ کے مسائل کو نظرانداز کرتے ہوئے مرکزی حکومت ریاست کی تقسیم نہیں کرسکتی۔

TOPPOPULARRECENT