Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / ریاست کے سابق چیف انجینئر علی نواز جنگ کے ارکان خاندان کسمپرسی کا شکار

ریاست کے سابق چیف انجینئر علی نواز جنگ کے ارکان خاندان کسمپرسی کا شکار

حیدرآباد 15 جون (سیاست نیوز ) سرزمین دکن کے مایہ ناز سپوت علی نواز جنگ کے ذکر اور حوالہ کے بغیر ہندوستان میں انجینئرنگ کے شعبہ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ 11 جولائی 1877ء کو میر واعظ علی کے گھر میں پیدا ہوئے میر احمد علی نے انجینئرنگ شعبہ میں وہ نمایاں خدمات انجام دیں کہ آج بھی پینت جارج گرام اسکول، مدرسہ عالیہ، نظام کالج اور برطانیہ کا کوپر ہل کالج اپنے اس سابق طالب علم پر ناز کرتے ہیں۔ یہ وہی طالب علم تھا جس نے اپنی صلاحیتوں کے ذریعہ ہندوستان میں انجینئرنگ کے شعبہ کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کی نگرانی میں ہی حضور نظام کے دور میں بے شمار آبپاشی پراجکٹس پر کام ہوا۔ اسی وجہ سے انہیں دکن میں اور پھر متحدہ آندھرا پردیش میں آبپاشی پراجکٹس کا بانی کہا جاتا ہے، لیکن افسوس کہ اس عظیم شخصیت کے پوتے پوتیاں اب کسمپرسی کی زندگی گذاررہے ہیں۔ نواب علی نواز جنگ جن کی یوم پیدائش پر 11 جولائی کو ریاست تلنگانہ میں انجینئرس ڈے منایا جاتا ہے ان کے ایک پوتے میر احمد علی کی کسمپرسی کا یہ حال ہے کہ وہ اڈلی دوسہ بیچنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ حالانکہ بنجارہ ہلز، مادھو پور، نظام آباد وغیرہ میں نواب علی نواز جنگ کی کئی ایکڑ اراضی موجود ہے، لیکن ان کے ورثا کو ان اراضیات سے محروم رکھا گیا ہے۔ نواب علی نواز جنگ کے بڑے فرزند میر فرخندہ علی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدہ پر فائز تھے۔ میر احمد علی ان ہی کے فرزند ہیں اور ان کا نام بھی دادا کے نام پر رکھا گیا ۔ اس کے علاوہ میر احمد علی میں اپنے دادا کی بہت زیادہ شباہت پائی جاتی ہے۔ میر احمد علی کے مطابق وہ 6 بھائی اور تین بہن ہیں جن میں سے 5 کرایہ کے گھروں میں مقیم ہیں۔ قریبی رشتہ داروں کی مکاریوں کے باعث وہ اور ان کے بھائی اور بہنیں ملک پیٹ، بنجارہ ہلز وغیرہ کی قیمتی جائیدادوں سے محروم رہے حد تو یہ ہے کہ انہیں خود اپنی بقاء کے لئے آٹو اور ٹیکسی چلانا پڑا۔ پولٹری فارم میں خدمات انجام دینی پڑی، یہاں تک کہ اورنگ آباد فیبرک ملز میں بھی انہوں نے کام کیا۔ میر احمد علی کے مطابق بنجارہ ہلز میں علی نواز جنگ کی 9 ایکڑ 10 گنٹے اراضی ہے۔ اسی طرح مادھو پور میں 61 ایکڑ اراضی ان کے نام پر ہے۔ بودھن اور نظام آباد میں بھی ان کے دادا علی نواز جنگ کی کئی اراضیات ہیں، لیکن ان اراضیات تک ان کے بشمول علی نواز جنگ کے دوسرے پوتے پوتیوں کو رسائی ہی حاصل نہیں ہے، جبکہ سرکاری تقاریب میں اس خاندان کو مدعو کرتے ہوئے ان سے انصاف کے وعدے کئے گئے۔ حال ہی میں میر احمد علی نے جو اپنے دادا کی طرح وضعدار شخصیت کے حامل ہیں دفتر چیف منسٹر اور دیگر وزرائے سے رجوع ہوتے ہوئے بنجارہ ہلز میں واقع نواب علی نواز جنگ کی اراضیات سروے نمبر 129/49/D2، 29/49/D3 اور پلاٹ نمبر 56 روڈ نمبر 12 بنجارہ ہلز حیدرآباد (جملہ اراضی 9 ایکڑ 10 گنٹے) کے لئے ان ورثا کے نام این او سی جاری کرنے کی گذارش کی۔ چیف منسٹر پیشی نے اس سلسلہ میں کلکٹر اور ایم آر او کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت بھی لیکن 9 فروری سے آج تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی بلکہ میر احمد علی کو مختلف بہانوں سے مختلف دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ ایم آر او بنجارہ ہلز مذکورہ اراضی کا سائٹ پلان فراہم کرنے سے جان بوجھ کر گریز کررہے ہیں۔ میر احمد علی چاہتے ہیں کہ ان کی والدہ ادیب انساء بیگم، بھائیوں میر حافظ علی، میر محبوب علی ، وہ خود میر احمد علی، میر محی الدین علی، میر اکبر علی، میر یوسف علی کے علاوہ بہنوں نجیب انساء بیگم، مہر انساء بیگم اور عصمت النساء بیگم سے انصاف کیا جائے۔ میر احمد علی کو امید ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ریاست کے سابق چیف انجینئر کے خاندان کے ساتھ انصاف کریں گے جنہوں نے عثمان ساگر، نظام ساگر، حمایت ساگر، علی ساگر (نظام آباد) پوچارم پراجکٹ، وائرا پراجکٹ، پالیرو پراجکٹ اپر مانیر پراجکٹ، ڈنڈی پراجکٹ، رائنی پلی پراجکٹ، کوئل ساگر، تنگبھدرا پراجکٹ، کڑم پراجکٹ جیسے پراجکٹس ریاست کے لئے تعمیر کئے تھے اور جن کی محنت کے باعث ہی فن تعمیر کی شاہکار عمارتیں عثمانیہ یونیورسٹی، عثمانیہ جنرل ہاسپٹل، دہلی کا حیدرآباد ہاوز، اسٹیٹ سنٹرل لائبریری، صدر شفاخانہ چارمینار، محبوبیہ گرلز اسکول وغیرہ آج بھی دعوت نظارہ دے رہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT