Friday , July 20 2018
Home / شہر کی خبریں / ریاست کے 445 تحصیل دفاتر کو سب رجسٹرار اختیارات دینے کا اعلان

ریاست کے 445 تحصیل دفاتر کو سب رجسٹرار اختیارات دینے کا اعلان

اراضی ریکارڈ کو چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رکھنے کور بینکنگ نیٹ ورک ، چیف منسٹر کا بیان
حیدرآباد ۔ 7 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر کے سی آر نے ریاست کے 445 تحصیل آفسوں کو سب رجسٹرار کے اختیارات دینے کا اعلان کیا ۔ اراضی ریکارڈ کو چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رکھنے کے لیے کور بینکنگ نیٹ ورک تیار کرنے کا فیصلہ کیا ۔ 26 سیفٹی فیچرس کے ذریعہ نئی واٹر پروف پاس بک تیار کرتے ہوئے پاسپورٹ کے طرز پر کسانوں کے گھروں تک کورئیر کے ذریعہ روانہ کرنے کا وعدہ کیا ۔ آج اسمبلی میں اراضی سروے کے مختصر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں اراضی درست کرنے کا سروے کامیابی سے جاری ہے ۔ 31 دسمبر تک اراضی سروے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوجائے گا ۔ آئندہ سال 26 جنوری سے نئے پٹہ پاس بکس کسانوں میں تقسیم کئے جائیں گے ۔ چیف منسٹر نے تمام ارکان اسمبلی کو اپنے اپنے حلقوں میں منعقد ہونے والے پروگرامس میں حصہ لینے کی اپیل کی ۔ کے سی آر نے کہا کہ انہوں نے عجلت یا جلد بازی میں اراضی سروے کرنے کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ 30 تا 40 اجلاسوں میں جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا ہے ۔ سروے کا کام صد فیصد شفافیت کے ساتھ جاری ہے ۔ اراضی سروے میں دو چیزوں کو اہمیت دی جارہی ہے ۔ قانونی تنازعات ، جنگلات ، عدلیہ کی تحویل میں رہنے والی اراضیات کو ہاتھ نہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ارکان خاندان میں تنازعات کا شکار رہنے والی اراضیات سے بھی احتیاط کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے ۔ گاؤں کے عوام میں اتفاق رائے پائے جانے والی اراضیات کے ریکارڈ کو درست کیا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ میں 2.76 کروڑ ایکڑ اراضی ہے ۔ 10,885 گاؤں ہیں پہلے دیہی گرام پنچایت کے علاقوں میں سروے کیا جارہا ہے ۔ 1418 ملازمین اراضی سروے میں مصروف ہیں ۔ 15 ستمبر کو شروع ہونے والا یہ اراضی سروے 31 دسمبر تک پائے تکمیل کو پہونچے گا ۔ ابھی تک 60 فیصد اراضی سروے مکمل ہوچکا ہے ۔ ماباقی 40 فیصد اراضی سروے بھی بہت جلد پورا ہوجائے گا ۔ پہلے مرحلے میں 6246 گاؤں کے اراضی ریکارڈ کا احاطہ کیا جارہا ہے جس میں 3 ہزار گاؤں کا ریکارڈ مکمل ہوچکا ہے ۔ 14 اضلاع میں 90 فیصد جگتیال میں 99 فیصد 100 گاؤں میں صد فیصد اراضی ریکارڈ کا سروے مکمل ہوچکا ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت اراضی ریکارڈ کو درست کرنے کی بہت بڑی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ ریاست میں موجود 141 سب رجسٹرار آفسوں کو برقرار رکھتے ہوئے تلنگانہ کے 445 تحصیل آفسوں کو سب رجسٹرار کے اختیارات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ تحصیلداروں کو اراضی منتقل کرنے کے بھی اختیارات دئیے جارہے ہیں ۔ ہر ریونیو آفس میں ایک آئی ٹی عہدیدار کاانتخاب کرنے کے لیے ایک ہزار آئی ٹی ملازمین کا تقرر کیا جارہا ہے ۔ کسانوں کو صرف ایک مرتبہ رجسٹریشن آفس کو جانا کافی ہوگا ۔ اراضیات کی خرید و فروخت کو ایک دن میں ہی آن لائن کردیا جائے گا ۔ کور بینکنگ نیٹ ورک تیار کیا جارہا ہے جس طرح اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے پر آپ کے کھاتے میں کتنے پیسے تھے کتنے نکالے گئے اور کتنے باقی ہے سلپ پر تفصیلات حاصل ہوجاتی ہے اس طرح کا نظام تیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ریاست میں صرف 55 لاکھ کسان ہیں وہ اس سلسلے میں ماہرین آئی ٹی سے تبادلہ خیال کرچکے ہیں ۔ کانگریس کی جانب سے متعارف کرایا گیا ۔ سلینگ قانون غیر سائنٹفیک ہے ۔ می سیوا ۔ ویب لینڈ نظام پوری طرح ناکام ہوگیا ۔ اراضی کا تمام ریکارڈ ہارڈ کاپی تیار کرتے ہوئے تمام ارکان اسمبلی کو سافٹ کاپی فراہم کی جائے گی ۔ نئے پٹہ پاس بکس کو محفوظ رکھنے کے لیے 26 سیفٹی فیچرس کی خدمات سے استفادہ کیا جارہا ہے اور اس کو مکمل واٹر پروف بنایا جارہا ہے ۔ ایک ماہ تک بھی پاس بک کو پانی میں رکھنے سے کوئی نقصان نہیں ہوگا ۔ نئے پاس بکس ریکارڈس کے اندراج کے لیے خصوصی پین کا استعمال کیا جارہا ہے ۔ اس میں چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی ۔ آن لائن کے ذریعہ ملک کے کسی بھی حصے سے اراضی ریکارڈ چیک کیا جاسکتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT