Wednesday , December 12 2018

ریاض، میزائل دھماکوں سے دہل گیا، یمن باغیوں کے تین حملے ناکام

ایران کے بالسٹک میزائل کو یمن سے داغا گیا، سعودی فوج نے جیزان اور نجران
میں دو میزائلس کو روک دیا، سعودی وزارت دفاع کو نشانہ بنایا گیا

ریاض ۔ 11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے ایرڈیفنس سسٹم نے آج ریاض پر داغے گئے میزائلس کو مداخلت کرتے ہوئے ناکام بنادیا۔ یمن میں باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں سے یہ میزائل داغے گئے تھے۔ دیگر دو میزائل جنوبی سعودی عرب میں گرائے گئے۔ میزائل کو ناکام بنانے کا یہ اعلان اے ایف پی کے عینی شاہد صحافی کے اس بیان کے بعد کیا گیا کہ اس نے دارالحکومت ریاض میں دھماکوں کی آواز سنی ہے اور انہوں نے تین دھماکے ہونے کی آوازیں سنیں۔ دارالحکومت ریاض کو یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے ایران کی سرپرستی میں سابق میں بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ حوثیوں کے ساتھ سعودی زیرقیادت اتحادی افواج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا کہ ایرانی بالسٹک میزائل کو یمن کے شہر صدا سے داغا گیا۔ ریاض کو نشانہ بناتے ہوئے داغے گئے ان میزائلس کو سعودی ایرڈیفنس نے فضاء میں ہی مار گرایا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی فوج نے جنوبی جیزان اور نجران صوبوں میں دو میزائلس مار گرائے ہیں۔ یہ صوبے یمن کی سرحد سے متصل ہیں۔ ان حملوں کا دعویٰ حوثی باغیوں نے اپنے اخبار المسیرا کے ذریعہ کیا ہے۔ میزائل کو مار گرائے جانے کا اعلان کرتے ہوئے کرنل ترکی المالکی نے یہ بھی کہا کہ سعودی ایرڈیفنس نے جنوبی سعودی عرب میں بغیر پائلٹ والے یمنی ڈرونس کو بھی مار گرایا ہے۔ ان ڈرونس میں سے ایک ڈرون کو ابھا انٹرنیشنل ایرپورٹ نشانہ بنانے کیلئے بھیجا گیا تھا۔ اس حملہ کے بعد یہاں ایرٹریفک کو عارضی طور پر معطل کیا گیا۔ دوسرا ڈرون حملہ صوبہ جیزان میں شہری مقام کو نشانہ بناتے ہوئے کیا گیا تھا۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہیکہ انہوں نے ابھا انٹرنیشنل ایرپورٹ اور سعودی آرامکو پر حملہ کیا ہے۔ ایک میزائل حملہ ریاض میں واقع وزارت دفاع کو نشانہ بناتے ہوئے کیا گیا تھا۔ ان حملوں کے بعد کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ اس خطہ میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان حوثیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض تک رسائی حاصل کرنے کا عہد کرلیا ہے۔ اس خطہ کے امور میں مہارت رکھنے والوں نے دعویٰ کیا ہیکہ یہ باغی گروپ ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنگ کو ہوا دے سکتے ہیں۔ گذشتہ ماہ بھی سعودی عرب نے باغیوں کی جانب سے ریاض پر کئے گئے سات میزائلس حملوں کو ناکام بنایا تھا۔ سعودی عرب کے زیرقیادت اتحادی افواج نے کہا کہ اس میزائل حملہ میں ریاض میں مقیم ایک مصری شہری ہلاک ہوا تھا۔ دارالحکومت ریاض میں میزائل حملہ سے پہلی ہلاکت واقع ہوئی تھی۔ اتحادی افواج نے اعلان کیا کہ اس کا ڈیفنس نظام مضبوط ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ جو لوگ حوثی باغیوں کی مدد کررہے ہیں، انہیں بھی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

TOPPOPULARRECENT