Wednesday , September 19 2018
Home / عرب دنیا / ریاض میں جی سی سی کا اجلاس،قطر سے تنازعہ ختم

ریاض میں جی سی سی کا اجلاس،قطر سے تنازعہ ختم

ریاض، 17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں منعقدہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے غیراعلانیہ اجلاس میں رکن ممالک نے قطر کے ساتھ اختلافات کے خاتمے سے اتفاق کیا ہے۔ میڈیا کی اطلاع کے مطابق چھ ملکی اتحاد نے سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور بحرین کے سفراء کو واپس دوحہ بھیجنے سے اتفاق کیا ہے جس کے ساتھ ان کے در

ریاض، 17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں منعقدہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے غیراعلانیہ اجلاس میں رکن ممالک نے قطر کے ساتھ اختلافات کے خاتمے سے اتفاق کیا ہے۔ میڈیا کی اطلاع کے مطابق چھ ملکی اتحاد نے سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور بحرین کے سفراء کو واپس دوحہ بھیجنے سے اتفاق کیا ہے جس کے ساتھ ان کے درمیان گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری سفارتی تنازعے کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے۔ سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی میزبانی میں اس خصوصی غیراعلانیہ اجلاس میں امیرِکویت شیخ صباح الاحمد الجابرالصباح اور امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد المکتوم اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ نے الریاض میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کی ہے۔ خلیجی مملکتوں کے قائدین کے وفود میں ان کے وزرائے خارجہ اور دوسرے اعلیٰ حکام شامل بھی تھے۔اتوار کی شام الریاض آمد پر ولی عہد شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز آل سعود اور جی سی سی کے سکریٹری جنرل عبداللطیف آل ضیانی نے ان کا استقبال کیا تھا۔ مقامی میڈیا نے گذشتہ ہفتے یہ اطلاع دی تھی کہ چھ ممالک پر مشتمل جی سی سی کے رہنماؤں کا 9،10 ڈسمبر کو دوحہ میں سالانہ اجلاس سے قبل ایک اجلاس ہوگا اور اس میں تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان اختلافات ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔جی سی سی کا چھٹا رکن اومان ہے۔ کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الصباح نے قطر اور سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور بحرین کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کے خاتمے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور ان کی یہ کوششیں بالآخر کامیاب ٹھہری ہیں۔ قطر پر مصر کی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کی حمایت اور اس کے قائدین کو پناہ دینے کا الزام تھا جبکہ سعودی عرب ،یو اے ای اور بحرین اخوان المسلمون کے مخالف تھے اور انھوں نے اس جماعت کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔اس کے بعد ان تینوں ممالک نے مارچ 2014ء میں دوحہ سے اپنے سفیروں کو بھی واپس بلا لیا تھا۔1981ء میں جی سی سی کے قیام کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ اس کے رکن ممالک کے درمیان اس طرح کا سفارتی بحران پیدا ہوگیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT