Monday , September 24 2018
Home / عرب دنیا / ریاض چوٹی کانفرنس میں یمنی پارٹیوں کی شرکت

ریاض چوٹی کانفرنس میں یمنی پارٹیوں کی شرکت

ریاض۔17مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) یمن کے جلاوطن صدر عبدالرب منصور ہادی جنہیں سیاسی پارٹیوں کی ایک چوٹی کانفرنس کا افتتاح کرنا چاہیئے تھا جس میں جنگ زدہ ملک کی کئی پارٹیوں نے شرکت کی لیکن ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے اس کا بائیکاٹ کیا ۔ حوثی باغی صدر ہادی کی وفادار فوجیوں سے جنگ کررہے ہیں اور انہوں نے ملک کے وسیع علاقے بشمول دارالحکو

ریاض۔17مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) یمن کے جلاوطن صدر عبدالرب منصور ہادی جنہیں سیاسی پارٹیوں کی ایک چوٹی کانفرنس کا افتتاح کرنا چاہیئے تھا جس میں جنگ زدہ ملک کی کئی پارٹیوں نے شرکت کی لیکن ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے اس کا بائیکاٹ کیا ۔ حوثی باغی صدر ہادی کی وفادار فوجیوں سے جنگ کررہے ہیں اور انہوں نے ملک کے وسیع علاقے بشمول دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ مذاکرات یمن میں منعقد کئے جائیں اور ریاض میں منعقدہ چوٹی کانفرنس کا انہوں نے بائیکاٹ کیا ‘ جس میں تقریباً 400مندوبین شریک ہیں ۔ حوثی باغی عرصہ سے شکایت کررہے ہیں کہ انہیں نظرانداز کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے 2004ء سے 2010ء کے دوران مرکزی حکومت سے 6جنگیں کی ہیں ۔ اس کے بعد انہوں نے گذشتہ سال شمالی مستحکم گڑھ سے تیز رفتار پیشرفت کی تھی اور ملک کے وسیع علاقہ بشمول دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا تھا ۔ان کی جنوب کی سمت پیشرفت نے صدر عبدالرب منصور ہادی کو ریاض فرار ہونے پر مجبور کردیا تھا

جس پر سعودی عرب نے حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملے شروع کردیئے اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفاد فوجیوں نے حوثی باغیوں کے ساتھ اتحاد کرلیا ۔ جنوب کی سمت پسپائی کی وجہ سے صدر ہادی فرار ہوکر سعودی عرب پہنچ گئے اور بعد ازاں سعودی عرب نے فضائی حملوں کا آغاز کردیا ۔ پانچ روزہ جنگ بندی کا آج آخری روز ہے جو سعودی عرب نے انسانی بنیاد پر یمن کو امداد فراہم کرنے کیلئے کی تھی ‘ حالانکہ جنگ بندی نافذ ہوگئی تھی لیکن باغیوں اور حکومت حامی فوج میں زمینی فوج کی جھڑپیں جاری رہیں ۔ حالانکہ حوثی چوٹی کانفرنس میں شرکت نہیں کررہے ہیں لیکن صالح کی پیپلز کانگریس پارٹی کے کئی قائدین چوٹی کانفرنس میں شریک ہیں ۔ صدر انتظامی کمیٹی عبدالعزیز الجابر نے ایک پریس کانفرنس نے کہا کہ ہم علی عبداللہ صالح سے مقابلہ نہیں کررہے ہیں اور نہ دوسروں سے ہمارا کوئی مقابلہ ہے جن پر بین الاقوامی تحدیدار عائد ہیں ۔
جابر نے کہا کہ تین روزہ چوٹی کانفرنس صرف مذاکرات نہیں ہے بلکہ فیصلہ کرنے والی چوٹی کانفرنس ہیں ۔ سعودی عرب کے ساتھ کیا پیش آیا ہے اور کیا چوٹی کانفرنس میں کیا جانے والا معاہدہ تمام پارٹیوں پر لاگو ہوگا ۔ جنہوں نے چوٹ کانفرنس میں شرکت کی ہے ۔ یہ ہنوز معلوم نہیں ہوسکا ۔ جابر نے کہا کہ چوٹی کانفرنس کے مقاصد میں سے ایک دستور کی سربلندی ہے جو یمنی عوام کو عنقریب پیش کیا جائے گا اور ایک استصواب عامہ کیا جائے گا ‘ تاکہ اس کے نتائج پر عمل آوری کی جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام پر زور دیتے ہیں کہ حکومت کی بحالی ناگزیر ہے ۔ تاحال تقریباً ایک ہزار فراد جن میں بیشتر شہری تھے گذشتہ مارچ سے ہلاک ہوچکے ہیں ۔ دیگر 6200 زخمی ہیں ۔ تقریباً چار لاکھ پچاس ہزار یمنی شہری بے گھر ہوچکے ہیں ۔ یہ اعداد شمار اقوام متحدہ کی رپورٹ میں شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT