Sunday , May 20 2018
Home / Top Stories / ریاض کے قریب لاس ویگاس طرز پر بڑا تفریح شہر

ریاض کے قریب لاس ویگاس طرز پر بڑا تفریح شہر

سعودی عرب مغربیت کی طرف گامزن ؟
مدینہ منورہ میں اسلامی تہذیبوں کا میلہ، 70 ممالک کے طلباء شرکت کریں گے

ریاض ۔ 23 فروری (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب میں مختلف اسلامی و ثقافتی پروگراموں کو قطعیت دی جارہی ہے۔ سیاحت کے شعبہ میں اقدامات کے دوران اب مدینہ منورہ کی اسلامی یونیورسٹی 11 جمادی الثانی سے لیکر 21 جمادی الثانی تک تہذیبوں کا میلہ منعقد کرے گی، جس میں 70 ممالک کے طلبہ شرکت کریں گے۔ گورنر مدینہ منورہ شہزادہ فیصل بن سلمان سرپرستی کریں گے۔ مختلف ممالک کے سفارتکار، شعراء اور اعلیٰ عہدیدار مہمان ہوں گے۔ یونیورسٹی کے طلبہ اپنے اپنے ممالک کے پویلین لگائیں گے۔ یہ 7 واں میلہ ہوگا۔ اس سے قبل 6 مرتبہ اسلامی تہذیبی کا میلہ منعقدہ وچکا ہے۔ مدینہ منورہ کی کمشنریوں کے باشندوں کو بھی میلے میں آنے کی اجازت ہوگی۔ ملک میں سیاحت کے فروغ کو مدنظر رکھتے ہوئے دارالحکومت ریاض کے قریب تقریباً لاس ویگس کے برابر کے ایک بڑے تفریحی شہر کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔خیال رہے کہ حالیہ دنوں نے سعودی عرب نے کئی ایسے اقدامات کیے ہیں جو ملک میں اپنی نوعیت کے پہلے تھے جن میں گذشتہ ماہ خواتین کو سٹیڈیمز میں فٹبال میچ دیکھنے کی اجازت اور جون سے خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت کا اعلان شامل ہیں۔گذشتہ سالہ ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب ایک بار پھر ’اعتدال پسند اسلام کا ملک بنے گا جہاں تمام مذاہب، ثقافتوں اور لوگوں کے لیے راہیں کھلی ہوں گی۔‘ان کا کہنا تھا کہ ملک کی ستر فیصد آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے اور انھیں ایسی ’زندگی دینا چاہتے ہیں جس میں ہمارا مذہب رواداری، اور ہماری رحم دلی روایات کی ترجمانی کرے۔‘جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے سربراہ کا کہنا ہے رواں سال تقریباً 500 تقریبات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جن میں امریکی پاپ بینڈ مرون 5 اور کینیڈین پرفارمرز سرک ڈو سولیل کے پروگرامز بھی شامل ہیں۔ملک کے پہلے اوپرا ہاؤس کی تعمیر دارالحکومت ریاض میں شروع ہو چکی ہے۔یہ سرمایہ کاری سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے معاشی اور معاشرتی اصلاحی پروگرام کا حصہ ہے جس کا آغاز دو سال قبل ہوا اور جسے وڑن 2030 کا نام دیا گیا ہے۔32 سالہ ولی عہد ملکی معیشت کا انحصار تیل کے ذخائر پر کم کرتے ہوئے متنوع معیشت چاہتے ہیں، جس میں گھرانوں کی جانب سے ثقافتی اور تفریحی پروگراموں میں خرچ بڑھانا بھی شامل ہے۔دسمبر میں حکومت نے کمرشل سینیما گھروں پر عائد پابندی ختم کر دی تھی۔

TOPPOPULARRECENT