Monday , April 23 2018
Home / ہندوستان / ’’ریالی میں شرکت کا مقصد صورتحال کو بہتر بنانا تھا ‘‘

’’ریالی میں شرکت کا مقصد صورتحال کو بہتر بنانا تھا ‘‘

’’میں ہندو۔مسلم سیاست میں یقین نہیں رکھتا‘‘: چودھری لال سنگھ

جموں ۔ 14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی قائد چودھری لال سنگھ نے آج کٹھوا عصمت ریزی اور ہلاکت کیس میں ملزم کی حمایت میں ایک ریالی میں ان کی شرکت کی یہ کہتے ہوئے مدافعت کی کہ اس کا مقصد صورتحال کو بہتر بنانا اور معمول کے حالات کو بحال کرنا تھا۔ جموں و کشمیر کی مخلوط حکومت میں بی جے پی کے وزرائ، سنگھ اور چندر پرکاش گنگا نے اس ایونٹ میں ان کی شرکت پر کی جانے والی تنقیدوں کے بعد کل استعفیٰ دے دیا۔ لال سنگھ نے کہا کہ اس مسئلہ پر آج لیجسلیٹیو پارٹی میٹنگ میں فیصلہ کیا جائے گا۔ ہم دیڑھ ماہ قبل نقل مقام کرنے کے باعث پیدا ہوئی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے گئے تھے۔ ہم نے ان سے کہا کہ انہیں واپس جانا چاہئے۔ عبدالغنی کوہلی کو متاثرہ کے گھر کو بھیجا گیا تھا تاکہ خراب صورتحال پیدا نہ ہونے پائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں وہاں گیا تھا۔ (وزرائ) بالی (بھگت) اور (عبدالغنی) کوہلی نوشیرا اور سندربانی گئے تھے تاکہ عوام کی بات سنی جائے۔ کیا ہمیں ان کی بات کو نہیں سننا چاہئے تو پھر ہم کس لئے عوامی نمائندے ہیں؟ کیا ہمیں عوام کو ریاست کو جلانے اور مرنے دینا چاہئے؟ اس ریالی کا اہتمام ہندو یکتا منچ کی جانب سے باکیروال کمیونٹی کی ایک 8 سالہ لڑکی کی عصمت ریزی اور ہلاکت کے ملزم افراد کی حمایت میں کیا گیا تھا۔

راسنا ولیج کے لوگوں نے بھی بطور احتجاج ہیرا نگر کو نقل مقام کیا اور پی ڈی پی۔ بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجاً ایک سڑک کو بند کردیا اور حکومت پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا۔ لال سنگھ نے کہا کہ ان کی اہم ذمہ داری ریاست میں امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنا ہے۔ لال سنگھ نے کہا کہ کیا یہ وقت ہے کہ ریاست کو جلنے دیا جائے اور عوام پرتشدد بن ہوجائیں؟ ’’میں ہندو۔ مسلم سیاست میں یقین نہیں رکھنا، میرے لئے ہر ایک مساوی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ راسنا گئے تھے کیونکہ عوام تک پہنچنا ان کی ذمہ داری تھی۔ انہوں نے کہا کہ نقل مقام کرنا شروع ہوا تھا۔ ہماری پارٹی قیادت، پارٹی صدر نے ہم کو وہاں دمہ داری کے ساتھ روانہ کیا۔ انہوں نے صحیح کام کیا۔ ہم 5,000 سے زیادہ لوگوں سے ملاقات کی اور انہیں سمجھایا اور انہوں نے ہماری بات سنی اور ان کے گھروں کو واپس ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے کہا گیا کہ اس کی تحقیقات کروائی جائے گی اور انہیں ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کٹھوا کے لوگوں نے اس شبہ کا اظہار کیا کہ یہ تحقیقات غیرجانبدارانہ انداز میں نہیں ہوگی ۔ اس لئے انہوں نے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کے اس مطالبہ کو پارٹی میں اس کے علاوہ چیف منسٹر محبوبہ مفتی کے سامنے رکھا ہے، جنہوں نے اسے مسترد کردیا اور کہا کہ کرائم برانچ اس معاملے کی تحقیقات کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT