Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / ریسلر ساکشی نے توڑی انڈیا کی مایوسی، ریو گیمز میں جیتا پہلا تمغہ

ریسلر ساکشی نے توڑی انڈیا کی مایوسی، ریو گیمز میں جیتا پہلا تمغہ

2016 Rio Olympics - Wrestling - Final - Women's Freestyle 58 kg Bronze - Carioca Arena 2 - Rio de Janeiro, Brazil - 17/08/2016. Sakshi Malik (IND) of India celebrates with her team members after winning the bronze medal. REUTERS/Toru Hanai FOR EDITORIAL USE ONLY. NOT FOR SALE FOR MARKETING OR ADVERTISING CAMPAIGNS.

جاریہ اولمپکس کے 12 ویں روز ہریانہ کی لڑکی نے 58kg سیکشن میں برونز کیساتھ ہندوستان کا کھاتہ کھولا ۔ ریسلنگ میں میڈل جیتنے والی اولین خاتون کا اعزاز
ریو ڈی جنیرو ، 17 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) جدوجہد کے جذبہ کا غیرمعمولی مظاہرہ پیش کرتے ہوئے وومن ریسلر ساکشی ملک نے انڈیا کا میڈل کیلئے مایوس کن انتظار ختم کیا اور یہاں ریو اولمپک گیمز کے 12 ویں روز ڈرامائی انداز میں برونز جیت لیا۔ ساکشی نے 58kg کیٹگری میں مساوی طور پر حوصلہ مند حریفوں کے خلاف ایک ہی روز کافی دقت طلب پانچ مقابلے لڑے اور آخرکار پوڈیم پر مقام حاصل کیا۔ وہ اپنا کوارٹر فائنل مقابلہ ہار گئی تھی لیکن انھیں مسابقت کیلئے نئی زندگی حاصل ہوئی جب اُن کی روسی فاتح فائنل تک پہنچ گئی، اس طرح ہندوستانی ریسلر کو اضافی آزمائشی مقابلہ کا موقع ملا۔ ہریانہ میں روہتک سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ گراپلر نے کرغزستان کی ایسولو تینی بیکوا کے مقابل ابتدائی مرحلے میں 0-5 سے پچھڑنے کے بعد شاندار واپسی کرتے ہوئے 8-5 سے جیت درج کرائی اور میڈل کے جدول میں اپنا نام شامل کرایا۔

وہ ریسلنگ میاٹ پر خوشی سے اچھل پڑی اور مسکراتی رہیں یہاں تک کہ اُن کے کوچ کلدیپ سنگھ نے انھیں ہندوستانی ترنگا کی آغوش میں ڈالا۔ یہ ہندوستان کیلئے اپنی طویل اولمپک تاریخ میں پانچواں برونز ہے جبکہ 1952ء ہیلسنکی گیمز میں کشابا جادھو ہندوستان کے پہلے انفرادی میڈلسٹ بنے تھے۔ ساکشی ہندوستان سے چوتھی خاتون اولمپک میڈلسٹ بھی بن گئی اور ویٹ لفٹر کرنم ملیشوری (2000، سڈنی)، باکسر ایم سی میریکوم (2012، لندن) اور شٹلر سائنا نہوال (2012، لندن) کی صفوں میں شامل ہوئی ہیں۔ ساکشی ہندوستان سے اس چار سالہ میگا اسپورٹس شو میں پوڈیم تک پہنچنے والی پہلی خاتون گراپلر بھی بن گئی، جیسا کہ چار دیگر تمغے مَردوں نے جیتے تھے جن میں سے دو سشیل کمار نے 2008ء بیجنگ اور 2012ء لندن میں حاصل کئے۔ تمغہ جیتنے کے بعد ساکشی نے اپنی آنکھوں میں خوشی کے آنسوؤں کے ساتھ کہا:
’’ میری 12 سال کی تپسیا (جانفشانی) رنگ لائی۔ میری سینئر گیتا دیدی پہلی بار لندن میں کوالیفائی ہوئی تھیں۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ریسلنگ میں ہندوستان سے اولمپک میڈل جیتنے والی اولین خاتون ریسلر بنوں گی۔ مجھے امید ہے بقیہ ریسلرز بھی اچھا مظاہرہ کریں گے۔‘‘
ساکشی نے کہا کہ انھیں تمغہ جیتنے کا اعتماد ضرور تھا اور اس لئے وہ آخر لمحہ تک کوشش کرتی رہیں۔ ’’میں نے آخر تک امید نہیں ہاری، میں جانتی تھی اگر میں نے آخری چھ منٹ تک دم خم قائم رکھا تو میں جیتوں گی۔ آخری راؤنڈ میں مجھے اپنا بہترین مظاہرہ پیش کرنا تھا اور مجھے خود پر اعتماد تھا۔ ساکشی کا برونز جیتنے کا کارنامہ ہندوستانی جتھہ کیلئے مرہم ثابت ہوا کیونکہ یہ میڈل ونیش پھوگٹ کے 48kg کامپٹیشن سے بدقسمتی سے اخراج کے بعد سامنے آیا۔ ونیش کو اپنے کوارٹر فائنل مقابلے کے دوران چینی حریف سون یانن کے خلاف گھٹنے کی انجری کے سبب مسابقت سے دستبرداری اختیار کرنی پڑی۔ ونیش کو مقابلہ کی جگہ سے اسٹریچر کے ذریعہ ہٹانا پڑا۔ ایم آر آئی اسکان نے گھٹنے میں نس پھٹنے کی تصدیق کردی۔ انجری کے وقت چینی حریف کو 1-0 سے سبقت حاصل تھی۔ ہندوستان کیلئے دن کی شروعات شٹلر کیدمبی سریکانت کے اخراج کے ساتھ ہوئی، جو ڈیفنڈنگ چمپئن لین ڈان کے خلاف سخت مزاحمت کے بعد ہارے جس کے ساتھ ہندوستان کی مینس سنگلز میں میڈل کی امیدوں کو زک پہنچی۔ ہم وطن اور حیدرآباد ہی کی پی وی سندھو کی ٹاپ چینی شٹلر وانگ ییہان کے خلاف کامیابی کے ایک روز بعد بیڈمنٹن کورٹ سنبھالتے ہوئے سریکانت نے عالمی نمبر 3 ڈان کے خلاف اچھا کھیلا مگر 6-21، 21-11، 18-21 سے ہارے۔ سندھو مقابلوں کے 13 ویں روز جاپان کی نوزومی اوکوہارا کا فائنل میں جگہ کیلئے سامنا کریں گی۔ ایک اور مایوسی میں وومن ہاف مائیلر ٹنٹو لوکا نے 800m کی دوڑ میں غلطیاں کئے اور اپنے فرسٹ راؤنڈ ہیٹ میں 2:00.58 کا وقت لے کر چھٹے مقام پر اختتام کرتے ہوئے مسابقت سے خارج ہوگئی۔ اس مظاہرہ نے ٹنٹو کو 65 شرکاء میں 29 واں مقام دلایا۔ ٹریک لجنڈ پی ٹی اوشا کی ہونہار اسٹوڈنٹ ٹنٹو نیشنل ریکارڈ 1:59.17 کی حامل ہے

جو انھوں نے 2010ء میں قائم کیا تھا۔ ہندوستان کی کم عمر گولفر ادیتی اشوک ویمنس گولف کامپٹیشن کے اوپننگ راؤنڈ کے بعد مشترک ساتویں مقام پر آئیں۔ یہ تمام ایکشن کے بعد ساکشی نے دن کے مقابلوں کا زبردست خوشیوں کے ساتھ اختتام عمل میں لایا۔ وہ اپنے 58kg اضافی آزمائشی مقابلے میں 12-3 کی زبردست فتح کے ساتھ برونز میڈل کے پلے آف میں پہنچیں۔ ساکشی نے منگولیا کی پوریودورین اورکھن کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا اور دوسرے مرحلہ میں 10 پوائنٹس جٹائے جبکہ وقفے پر اسکور 2-2 تھا۔ انھیں کوارٹرفائنلز میں ہارنے کے باوجود برونز میڈل کیلئے لڑنے کا موقع ملا کیونکہ جس لڑکی (ولیریا) نے انھیں آخری آٹھ والے مرحلے میں شکست دی وہ فائنل تک پہنچ گئی۔ چونکہ ساکشی اس کیٹگری میں کوارٹرفائنلز تک پہنچی تھیں، اس لئے انھیں صرف ایک اضافی آزمائشی مقابلہ کھیلنا پڑا جس کے برخلاف دیگر روسی لڑکی کو دو حریفوں کا سامنا ہوا، جسے ساکشی نے قبل ازیں دو راؤنڈز پری کوارٹرز اور کوالیفکیشن میں ہرایا تھا۔ ساکشی کو اضافی آزمائش کے راؤنڈ 2 میں منگولیائی لڑکی کو مات دینا تھا اور انھوں نے ایسا ہی کرتے ہوئے برونز میڈل پلے آف تک پیشرفت کرلی۔ قبل ازیں ساکشی کوارٹرفائنلز میں کوبلوا کے مقابل 2-9 سے ناکام ہوئیں۔ ابتدائی دو راؤنڈز میں ساکشی نے پچھڑنے کے بعد واپسی کرتے ہوئے متاثرکن کامیابیاں درج کرائیں۔ 0-4 سے طاقتور واپسی کرتے ہوئے ساکشی نے سویڈن کی مالین یوہانا میاٹسن کو 5-4 سے کوالیفکیشن راؤنڈ میں شکست دی جبکہ محض 10 سکنڈ باقی رہ گئے تھے۔ پری کوارٹرز میں ساکشی نے جمہوریہ مولدوا کی ماریانا چردیوارا ایسانو کو 5-5 پر تکنیکی فرق سے ہرایا۔ ہندوستانی ریسلر کو زیادہ بہتر پوائنٹس کے حصول پر ونر قرار دیا گیا!

TOPPOPULARRECENT