Thursday , July 19 2018
Home / شہر کی خبریں / ریس کورس کی آمدنی ‘ جی ایس ٹی کے نفاذ سے شدید متاثر

ریس کورس کی آمدنی ‘ جی ایس ٹی کے نفاذ سے شدید متاثر

آمدنی میں کمی اور ٹیکس کی ادائیگی میں اضافہ ۔ صدر نشین سریندر ریڈی کا بیان
حیدرآباد۔ 12 جولائی (سیاست نیوز) حیدرآباد ریس کورس ملک پیٹ کی آمدنی جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد سے شدید متاثر ہوئی ہے۔ سال 2016-17ء میں حیدرآباد ریس کلب کو 1,275 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی تھی اور کلب کو 34 کروڑ روپئے کا منافع ہوا تھا۔ جبکہ 94 کروڑ روپئے بطور ٹیکس ادا کئے گئے تھے۔ کلب کے چیرمین ایس سریندر ریڈی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جولائی 2017ء کو جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد ریس کلب کی آمدنی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ سال اپریل تا جون 560 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی تھی لیکن 164 کروڑ روپئے بطور ٹیکس ادا کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کے نفاذ سے قبل حیدرآباد ریس کلب بٹنگ (Betting) کیلئے 7.5% ٹیکس ادا کیا جاتا تھا لیکن جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد اس ٹیکس کو 28% کردیا گیا جس کے نتیجہ میں کلب کے منافع کو زبردست دھکہ پہنچا ہے۔ سریندر ریڈی نے کہا کہ جی ایس ٹی کے نفاد کے بعد حیدرآباد ریس کورس آنے والے شائقین میں 58% کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد غیرقانونی بٹنگ میں اضافہ ہوا ہے اور کرکٹ ٹوئنٹی 20 سیزن میں 5,000 کروڑ غیرقانونی بٹنگ کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد ریس کلب کی جانب سے حکومت کو غیرقانونی بٹنگ سے نقصان کے بارے میں واقف کرایا گیا ہے لیکن اس ضمن میں کوئی موثر اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ حیدرآباد ریس کورس کو حکومت کے حوالے کرنے سے متعلق سوال پر سریندر ریڈی نے کہا کہ ریس کورس کو منتقل کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن حکومت سے مطالبہ ہے کہ پہلے کوئی متبادل مقام کی نشاندہی کی جائے، اس کے بعد ریس کلب کو منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد ریس کلب کے تمام ارکان نے چیف سیکریٹری ایس کے جوشی کو اپنے موقف سے واقف کروادیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد مانسون ریس کا آغاز 16 جولائی سے ہوگا جو 29 اکتوبر تک جاری رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT