Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / ریلوے بجٹ : سفر کرایوں اور مال برداری شرحوں میں کوئی اضافہ نہیں

ریلوے بجٹ : سفر کرایوں اور مال برداری شرحوں میں کوئی اضافہ نہیں

عصری سہولتوں اور بہتر خدمات کا وزیر ریلوے سریش پربھو کاتیقن، پارلیمنٹ میں بجٹ پیش
نئی دہلی ۔25 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام )  پارلیمنٹ میں آج پیشکردہ ریلوے بجٹ 2016-17ء میں مسافرین اور مال برداری کی شرحوں میں اضافہ سے گریز کیا گیا جبکہ 3نئی سوپر فاسٹ ٹرینوں کے آغاز اور سال 2019تک شمال جنوب ‘ مشرق مغرب اور مشرقی ساحل ( ایسٹ کوسٹ ) مال برداری کیلئے خصوصی راہداری( کوریڈر) کے قیام کا اعلان کیا گیا ۔ لوک سبھا میں دوسری مرتبہ بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر ریلوے سریش پربھو نے یہ تیقن دیا کہ دیگر ٹرانسپورٹ ذرائع سے ہم آہنگ مسابقتی شرحیں نافذ کرنے کیلئے کرایوں کے ڈھانچہ کو معقولیت پسند بنایا جائے گا اور اضافی مالیاتی وسائل مجتمع کرنے کیلئے مال برداری کی توسیع کی جائے گی ۔ اگرچیکہ گذشتہ سال بار برداری کو شرحوں میں خفیف سا اضافہ کیا گیا تھا لیکن جاریہ سال مسافرین اور مال برداری کے شرح کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ۔ وزیر ریلوے کے معلنہ 3نئی ٹرینوں میں بشمول ایک ہمسفر بھی ہے جس میں مکمل ایرکنڈیشنڈ 3AC سرویس کے ساتھ مرغوب غذا سربراہ کرنے کی سہولت رہے گی ۔ تیجا ٹرین مستقبل میں ہندوستان کے ٹرین سفر کا نمونہ ہوگی اور 130کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے ساتھ سیر و تفریح اور مقامی غذاؤں اور انٹرنیٹ سرویس دستیاب رہے گی جس میں مذکورہ دو ٹرینوں کے شرح کرایوں میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے ۔ تیسری ٹرین ’’ اودے ‘‘ ڈبل ڈیکر ہوگی جو کہ مصروف ٹرین روٹس پر مکمل ایرکنڈیشنڈ یاتری ایکسپریس ہوگی ۔ علاوہ ازیں ریزرویشن کے بغیر سفر کرنے والوں کیلئے معیاری خدمات کے ساتھ ایک سوپر فاسٹ انتودیا ایکسپریس متعارف کروائی جائے گی جبکہ دین دیال سے موسوم بغیر ریزرویشن والے کوچس میں صاف پینے کا پانی اور زیادہ سے زیادہ موبائیل چارجنگ پوائنٹ ہوں گے ۔

مسٹر سریش پربھو نے بتایا کہ ریلوے خدمات سے ہم آہنگ کرایوں کا تعین ‘ مسابقت کی حوصلہ افزائی ‘ مسافرین کے مفادات کا تحفظ اور کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے بہت جلد ریل ڈیولپمنٹ اتھاریٹی تشکیل دی جائے گی اور اس خصوص میں فریقین سے مشاورت کے بعد مسودہ قانون کو قطعیت دے دی جائے گی ۔ آنے والے سال کیلئے بجٹ تخمینہ کا خاکہ پیش کرتے ہوئے وزیر ریلوے نے بتایا کہ منصوبہ کا حجم 1.21لاکھ کروڑ روپئے ہوگا ۔ مستقبل کے منصوبے ( ویژن) پیش کرتے ہوئے انہوں نے تیقن دیا کہ سال 2020ء تک عام آدمی کی دیرینہ خواہشات کی تکمیل کرلی جائے گی جبکہ ریلوے کے مقاصد میں مسافرین کی طلب پر ٹرینوں میں خصوصی ریزرویشن کی فراہمی مال برداری ٹرینوں کیلئے نظام الاوقات ‘ سلامتی کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے ٹکنالوجی کا استعمال ‘ بغیر نگرانکار کے لیول کراسنگ کا بتدریج خاتمہ ‘ مال گاڑیوں کی رفتار میں اضافہ کے ساتھ وقت کی پابندی اور ٹرینوں میں واش رومس کی صفائی کیلئے مشینوں کا استعمال کرنا ہے ۔

ریلوے خدمات کو عصری اور آرام دہ بنانے کیلئے سماجی میڈیا کے ذریعہ مسافرین سے رائے حاصل کی جائے گی اور مسافرین کی سہولت کیلئے 65,000 اضافی برتھس اور 2,500 وائروینڈنگ مشینس فراہم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال 100ریلوے اسٹیشنوں پر وائی فائی سہولت دستیاب ہے اور عنقریب مزید 400 اسٹیشنوں کا اضافہ کیا جائے گا ۔ حفاظتی اقدامات کے سلسلہ میں 350 نگرانکار لیول کراسنگ اور 1000بغیر نگرانکار لیول کراسنگ کو بند کردیا گیا ہے اور جاریہ سال 820 روڈ اوور بریجس اورریل انڈر بریجس کی تعمیر مکمل کرلی جائے گی اور مزید 1,350 بریجس ( پلوں) کا کام جاری ہے ۔ مسافر دوست اقدامات کے طور پر IRCTC مرحلہ وار ٹرینوں میں کیٹرنگ سرویس اور ریلوے اسٹیشنوں پر فوڈ اسٹالس شروع کرے گی اور کیٹرنگ سرویس کے امکانات تلاش کرنے کے مزید 10کچنس ( باورچی خانے) کھولے جائیں گے ۔ مسافرین کو ریل گاڑیوں کی آمد و رفت کی اطلاعات فی الفور فراہم کرنے کیلئے ملک گیر سطح پر 2000 اسٹیشنوں میں 20,000اسکرینس نصب کئے جائیں گے ۔ مسافرین کی سہولیات میں اضافہ اور اسٹیشنوںکو خوبصورت بنانے کا بیڑہ اٹھالیا گیا ہے اور اولین ترجیح مقدس مقامات اجمیر ‘ امرتسر ‘ بہار شریف ‘ چھینگنور ‘ دوارکا ‘ گیا ‘ ہری دوار ‘ متھرا ‘ ناگاپٹنم ‘ ناندیڑ ‘ ناسک ‘ پالی ‘ پرشانت ‘ پری ‘ تروپتی ‘ ویلانکنی ‘ وارناسی اور واسکو دی جائے گی جبکہ مقدس مقامات کو مربوط کرتے ہوئے آستھا سرکیوٹ ٹرین چلانے کی تجویز زیر غور ہے ۔
ریلوے بجٹ میں مواد کم لفاظی زیادہ:کانگریس
٭  کانگریس نے آج ریلوے بجٹ 2016-17 ء کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں مواد کم اور لفاظی زیادہ ہے ۔ کانگریس کے ترجمان اشونی کمار اور سابق وزیر ریلوے ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ مودی حکومت کا ریلوے بجٹ صرف اعداد و شمار کی مشق ہے ۔ اس میں ریلوے کے تحفظ اور توسیع کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT