ریلیف کیمپس میں اموات

دشمنوں نے تو دشمنی کی ہے دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے ریلیف کیمپس میں اموات

دشمنوں نے تو دشمنی کی ہے
دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے
ریلیف کیمپس میں اموات
سیاستدانوں کی فرقہ پرستی، حکمرانوں کی نااہلی اور بعض سیکولر قائدین کی ہوس اقتدار نے ملک میں اقلیتوں کے لئے غیرمؤثر کردار ادا کیا ہے۔ اسی نالائقی کی وجہ سے ہندوستانی مسلمانوں کی بڑی تعداد مسائل اور مشکلات کا شکار ہے۔ مظفرنگر میں فرقہ وارانہ فسادات تو تھم گئے ہیں لیکن حکمراں طبقہ اور سیاستدانوں کی مفاد پرستی نے فسادات کا شکار افراد کو ہنوز موت کے منہ میں جانے کیلئے بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ فرقہ پرستوں کی سازش اور سوشیل میڈیا کے استعمال کے دوران ایک طرف بی جے پی نے اپنے دو فرقہ پرست لیڈروں کی زبردست ستائش کرتے ہوئے انہیں پھول مالائیں پہنائیں اور دوسری طرف فسادات سے متاثرہ افراد ریلیف کیمپوں میں دم توڑتے رہے ہیں۔ یہ انسانیت کے نام پر بہت بڑا دھبہ ہے کہ سرزمین ہند پر ایسے لوگ بھی سانس لے رہے ہیں جو دوسرے انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار کر خوش ہوتے ہیں اور فسادات، خون ریزی اور انسانی جان لینے والوں کو تہنیت پیش کی جاتی ہے۔ مظفرنگر فسادات کے بعد حکومت یا رضاکار تنظیموں کی جانب سے قائم کردہ ریلیف کیمپوں میں بڑے اور بچوں کی اموات کا تسلسل افسوسناک ہے۔ اس سنگین انسانی سانحہ پر کوئی بھی سیاسی لیڈر ماتم کرنے آگے آتے نہیں ہیں اور جو کوئی لیڈر ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہیں ان کا اپنا مفاد شامل ہونے سے ہی آج ریلیف کیمپوں کو موت کا کنواں بنادیا گیا ہے۔ ریلیف کیمپوں میں مقیم سینکڑوں فساد متاثرین کی طبی نگہداشت، حفظان صحت کے مطابق صاف صفائی، صاف پینے کے پانی کی فراہمی کی کمی سے کئی امراض کو جگہ ملنے لگی ہے۔ ان ریلیف کیمپوں میں ایک ماہ میں 28 اموات کی خبریں ایک انسانی سانحہ ہے۔ ان میں سے 25 بچے ایسے ہیں جن کی عمریں ایک ماہ یا ایک سال سے کم تھیں۔ یو پی کی سردی صحت مند انسانوں کے لئے جان لیوا ہوتی ہے۔ ریلیف کیمپوں میں سردی سے بچنے کے خاص انتظامات نہ ہوں تو یہاں رہنے والوں کے لئے خاص کر شیرخواروں اور ضعیف افراد کے لئے تو موت کا بہانہ بن رہی ہے۔ اس سانحہ پر یو پی کی سماج وادی پارٹی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔ فساد متاثرین کو امداد پہونچانے اور ہر ایک متاثرہ خاندان یا فرد کو ایکس گریشیاء دیئے جانے کے اعلانات ہوتے ہیں اس کے باوجود متاثرین کی پریشانیاں ہیں کہ ختم نہیں ہوتیں۔ فساد متاثرین کو مختلف طریقوں سے پریشان کیا جارہا ہے۔ کئی ٹاؤنس اور گاؤں کے ذمہ داروں نے ریلیف کیمپوں سے اپنے گھروں کو واپس ہونے کے خواہاں افراد کو گاؤں میں داخل ہونے نہیں دیا۔ اس پر ضلع حکام اور حکومت کی مشنری کچھ نہیں کرسکی۔ اکھیلیش یادو حکومت کو ’’بچہ حکومت‘‘ کا نام دیا گیا تو سماج وادی پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادو نے یو پی حکومت کی بعض اہم ذمہ داریاں اپنے ہاتھ میں لی تھیں لیکن اس سینئر سیاستداں سے بھی فسادات پر قابو پانے، فساد متاثرین کو راحت پہنچانے اور خاطیوں کو سزاء دینے کی ہمت نہیں ہوسکی جس کی وجہ سے بی جے پی کے کارکنوں کی عزت افزائی بڑے شان و شوکت سے کی جارہی ہے۔ سوال یہ ہیکہ سرکاری مشنری کی موجودگی، حکومت کی چوکسی ضلع حکام کو فرائض پر عمل کرنے کی ہدایات کے باوجود فسادات سے متاثرہ افراد کو صحت بخش زندگی نصیب نہیں ہورہی ہے تو پھر حکومت کا وجود کیا معنی رکھتا ہے۔ اس ملک میں آزاد، باکردار اور نہایت ہی دیانتدار میڈیا بھی موجود ہے۔ اس کے باوجود سیکولر طاقتیں کمزور اور فرقہ پرست عناصر توانا ہوتے جارہے ہیں۔ حکمراں طبقہ اپنی کوتاہیوں سے بے نیاز ہوکر حکمرانی کے دن کاٹ رہا ہے۔ فسادات سے متاثرہ افراد کے ریلیف کیمپس میں رہنے والوں کی حالت زار کی جانب کسی نے دھیان نہیں دیا۔ اس ملک کے انصاف پسند حلقے بالکل درست کہتے ہیں کہ فرقہ پرستوں نے سرکاری مشنری کو فرقہ پرستی کے زہر سے بھردیا ہے۔ اس لئے یہ فرقہ پرست سرکاری مشنری کے نگرانکار نہیں چاہتے کہ مسلم طبقہ کے لوگوں کے لئے حفظان صحت کا کوئی انتظام کیا جائے۔ ایک بنیادی نکتہ یہ ہیکہ فرقہ پرستی کے جذبہ میں بہہ کر جو انسان دوسرے انسانوں کی موت کا تماشہ دیکھ رہے ہیں ان کے تعلق سے ساری انسانیت یا انسانی حقوق کا خیال رکھنے والی طاقتیں اُف تک نہیں کررہی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ریلیف کیمپوں میں مقیم افراد کا طبی ڈاٹا تیار کرکے انہیں بہتر علاج کا انتظام کیا جائے۔ عالمی تنظیم صحت ہو یا عالمی انسانی حقوق کے ادارے یہ اسی وقت جاتے ہیں جب دیگر مذاہب کے لوگوں پر آفت یا مصیبت آتی ہے۔ مسلم طبقہ کو ہونے والی پریشانیوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ اس ملک کی سیکولر پارٹیاں ہونے کا دعویٰ کرنے والی پارٹیوں کو مظفرنگر کے حالات اور فرقہ پرست جماعتوں کی جانب سے اپنے لیڈروں کو تہنیت پیش کرکے حوصلہ افزائی کرنے والوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ آنے والے انتخابات میں سیکولر ووٹ کی امید رکھنے والوں کو اجتماعی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ انفرادی ضمیر سے کام لیتے ہوئے متاثرین کی فوری صحت و نگہداشت پر دھیان دینا چاہئے تاکہ انسانی سانحہ کے ان واقعات کو روکا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT