Friday , September 21 2018
Home / Top Stories / ریل بجٹ کی آج پیشکشی، کرایہ میں اضافہ کا امکان نہیں

ریل بجٹ کی آج پیشکشی، کرایہ میں اضافہ کا امکان نہیں

نئی دہلی ۔ 25 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ریلوے کو مالیہ کی زبردست تنگی کے پیش نظر ہر ایک کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کررہا ہیکہ کیا وزیر ریلوے سریش پربھو کل ریل بجٹ میں کرایوں اور مال برداری کی شرحوں میں اضافہ کریں گے۔ امکان ہیکہ اس بجٹ میں ایسی تجاویز شامل ہوں گی جو ’’میک ان انڈیا‘‘ پہل کے علاوہ حفاظت اور سلامتی میں اضافہ پر زور دیں گی۔

نئی دہلی ۔ 25 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ریلوے کو مالیہ کی زبردست تنگی کے پیش نظر ہر ایک کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کررہا ہیکہ کیا وزیر ریلوے سریش پربھو کل ریل بجٹ میں کرایوں اور مال برداری کی شرحوں میں اضافہ کریں گے۔ امکان ہیکہ اس بجٹ میں ایسی تجاویز شامل ہوں گی جو ’’میک ان انڈیا‘‘ پہل کے علاوہ حفاظت اور سلامتی میں اضافہ پر زور دیں گی۔ وزیر مملکت برائے ریلوے منوج سنہا نے قبل ازیں کرایوں میں تخفیف کو مسترد کردیا تھا جبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی آئی تھی لیکن سریش پربھو توقع ہیکہ ریلوے کے مالیہ اور اخراجات کے درمیان زبردست تفاوت کو دور کرنے کی مشکل کوشش کریں گے۔ یہ لوک سبھا میں ان کا اولین ریلوے بجٹ ہوگا۔ وہ مسافر خدمات میں کمی کیلئے امکان ہیکہ مال برداری کی آمدنی استعمال کریں گے جو 24 ہزار کروڑ روپئے ہوگئی ہے۔ علاوہ ازیں وہ کرایوں میں اضافہ کئے بغیر ریلوے میں مال برداری کے حصہ میں اضافہ کی کوشش کریں گے۔ 10 سال تک ریل کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ تاہم وزیرریلوے ترنمول کانگریس کے قائد دنیش ترویدی نے 2012-13ء میں کرایوں میں اضافہ کیا تھا

لیکن انہیں سیکنڈ کلاس اور سلیپر کلاس کے کرایوں میں اضافہ سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔ اس وقت سے سفر کرایہ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ مودی حکومت نے گذشتہ جولائی میں پہلا ریلوے بجٹ پیش کرنے سے پہلے کرایوں میں 14.2 فیصد اور مال برداری کی شرحوں میں 6.5 فیصد اضافہ کیا تھا۔ اگرچہ ڈیزل کی قیمت میں کمی ہوگئی ہے لیکن برقی کی لاگت میں اضافہ ہوگیا ہے اور اس کی وجہ سے ایندھن کی لاگت سے مربوط شرح کرایہ پر نظرثانی ضروری ہوگئی ہے جو 2013ء کے بعد سے اب تک نہیں کی گئی۔ فی الحال ایک لاکھ 57 ہزار 883 کروڑ روپئے مالیتی 676 پراجکٹ منظور شدہ ہیں۔ ان میں سے صرف 317 پراجکٹس مکمل کئے جاسکے۔ 359 پراجکٹ تکمیل طلب ہیں ان کیلئے ایک لاکھ 82 ہزار کروڑ روپئے کی ضرورت ہے۔ اصلاح پسند سریش پربھو امکان ہیکہ ایسا لائحہ عمل پیش کریں گے جس کے ذریعہ ریلوے کیلئے خانگی سرمایہ کاری کو ترغیب دی جائے گی۔ مالیہ کی قلت کے پیش نظر امکان ہیکہ وہ بجٹ میں نئی ٹرینوں اور پراجکٹس کے اعلان میں سست رفتاری سے کام لیں گے۔

2015-16ء مالی سال کیلئے بجٹ گنجائش میں 50 ہزار کروڑ روپئے کا مطالبہ کرنے کے علاوہ وزارت ریلوے وزارت فینانس سے 20 ہزار کروڑ روپئے طلب کرے گی تاکہ ریلوے سیفٹی فنڈ کا سلسلہ ختم کردیا جائے اور ان تمام کراسنگس پر عملہ تعینات کیا جائے جہاں فی الحال موجود نہیں ہے اور یہی ملک گیر سطح پر ٹرین حادثوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ سریش پربھو ریاستی حکومتوں اور دیگر اداروں کو شامل کرکے مشترکہ وینچر سسٹم کا اعلان کریں گے۔ وزیر ریلوے نے پرزور انداز میں مسافروں کیلئے سہولتوں کی وکالت کی ہے۔ اس کے بعد ہی ان کے خیال میں کرایوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ریلوے کے احاطہ میں سہولتوں میں اضافہ کے کئی اقدامات متوقع ہے۔ امکان ہیکہ وزیر ریلوے مالیہ حاصل کرنے کے مزید ذرائع سے استفادہ کریں گے۔ وہ منفرد طریقوں کا اعلان بھی کرسکتے ہیں تاکہ وسائل کو کرایہ میں اضافہ کئے بغیر بڑھایا جاسکے۔ سوچھ بھارت مہم کے پیش نظر ریلوے بجٹ امکان ہیکہ صفائی پر خصوصی توجہ دے گا۔ مزید یہ کہ 100 ٹرینیں متعارف کروائی جائیں گی۔

TOPPOPULARRECENT