Friday , June 22 2018
Home / شہر کی خبریں / ریمارکس کے خلاف جے سی دیواکر ریڈی کو انتباہ

ریمارکس کے خلاف جے سی دیواکر ریڈی کو انتباہ

صدر تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو کی وضاحت طلبی، ریمارکس پر ناراضگی کا اظہار

صدر تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو کی وضاحت طلبی، ریمارکس پر ناراضگی کا اظہار
حیدرآباد /13 فروری (سیاست نیوز) صدر تلگودیشم و چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو نے تلگودیشم کے رکن پارلیمنٹ جے سی دیواکر ریڈی کو طلب کرکے ان کے ریمارکس پر ناراضگی ظاہر کی اور ان سے وضاحت طلب کرتے ہوئے آئندہ احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔ واضح رہے کہ حلقہ لوک سبھا اننت پور کے تلگودیشم رکن پارلیمنٹ جے سی دیواکر ریڈی نے اسمبلیوں اور پارلیمنٹ (دونوں ایوانوں) کو بے فیض قرار دیتے ہوئے انتخابات پر کروڑہا روپئے بلاوجہ خرچ کرنے کا ادعا کیا تھا اور راست طورپر وزیر اعظم اور وزرائے اعلی کے انتخاب پر زور دیا تھا۔ انھوں نے اپنے بیان میں چندرا بابو نائیڈو کی تائید کی تھی، تاہم چیف منسٹر کے قریبی ساتھیوں نے ان کے بیان کو غلط قرار دیا، جس پر این چندرا بابو نائیڈو نے جے سی دیواکر ریڈی کو عجلت پسندی سے کام نہ لینے کا مشورہ دیا۔ باوثوق ذرائع کے بموجب جے سی دیواکر ریڈی نے اپنے ریمارکس کا دفاع کیا اور اپنی غلطی تسلیم نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ اگر ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کی رائے حاصل نہیں کی جاتی تو ملک کا انتخابی سیاسی نظام بے معنی ہے، لہذا بہتر یہ ہے کہ راست طورپر وزیر اعظم اور چیف منسٹرس کا انتخاب کرلیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد تلگودیشم ارکان پارلیمنٹ کا دہلی میں کوئی وقار نہیں ہے، جب کہ یہ احساس تلنگانہ کے ارکان پارلیمنٹ میں بھی پایا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کے پاس عوام کے سامنے پیش کرنے کے لئے ان کا کوئی کارنامہ نہیں ہے تو وہ دوبارہ ووٹ مانگنے عوام سے کس بنیاد پر رجوع ہوں گے؟۔

TOPPOPULARRECENT