Wednesday , November 21 2018
Home / ہندوستان / رینوکا چودھری’ دروپدی‘، راہل ’کرشن ‘اور ’مودی ۔شاہ ‘کورو کا پوسٹر وائرل

رینوکا چودھری’ دروپدی‘، راہل ’کرشن ‘اور ’مودی ۔شاہ ‘کورو کا پوسٹر وائرل

الہ آباد، 11 فروری ( (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے الہ آباد میں کانگریس رہنماؤں کی جانب سے رکن پارلیمنٹ رینوکا چودھری کو دروپدی، راہل گاندھی کو کرشن اور پی ایم مودی، امت شاہ، کرن رجیجو کو کورو کے اوتار میں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے ۔گزشتہ دنوں راجیہ سبھا میں وزیر اعظم مودی کی تقریر کے دوران آندھرا پردیش سے کانگریس کی راجیہ سبھا رکن اور سینئر لیڈر رینوکا چودھری کی ہنسی پر وزیر اعظم کی جانب سے ‘رامائن سیریل کے بعد ایسی ہنسی سنی ہے ‘ تبصرہ اب بڑا سیاسی ایشو بنتا جا رہا ہے ۔وزیر اعظم کے تبصرے سے ناراض الہ آباد کے کانگریسی لیڈروں نے سوشل میڈیا پر پوسٹر جاری کرتے ہوئے اس تنازعہ میں رامائن کے بعد مہابھارت کو بھی شامل کر لیا ہے ۔ کانگریس لیڈروں نے اس پوسٹر میں رینوکا چودھری کی ہنسی کو مہابھارت دور کی اس ہنسی سے جوڑ کر بتانا چاہا ہے جس میں دروپدي کے ہنسنے پر بھری سبھا میں اس کی توہین کی جاتی ہے جس کی وجہ سے مہابھارت جنگ ہوتی ہے اور کورووں کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ کانگریس نے اس پوسٹر سے یہی بتانے کی کوشش کی ہے ۔ کانگریس کے ضلع جنرل سکریٹری حسیب احمد اور پارٹی لیڈر تربھون تیواری کی طرف سے جاری کئے گئے پوسٹر میں مہابھارت دور کا منظر دکھاتے ہوئے رینوکا چودھری کو دروپدي کے طور پر جبکہ راہل گاندھی کو کرشن،وزیر اعظم ، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر امت شاہ اور کرن رجیجوکو کورو کے طور پر بتایا ہے ۔ پوسٹر میں کانگریس صدر راہل گاندھی کو بھگوان کرشن کے طور پر دروپدي بنی رینوکا چودھری کی حفاظت کرتے دکھایا گیا ہے ۔ پوسٹر کے سب سے اوپر ‘رکشمام راہل گاندھی’ دائیں طرف سب سے اوپر سونیا گاندھی،اس کے بعد راہل گاندھی کرشن طور پر، نیچے پرینکا گاندھی واڈرا اس کے بعد کانگریس ممبر پارلیمنٹ پرمود تیواری کی بھی تصویر دکھائی گئی ہے ۔ پوسٹر میں نیچے لکھا گیا ہے ،” ایک عورت کی ہنسی دریودھن کو کھل گئی تھی اور یاد کرو تب سو کورووں کی چتا جل گئی تھی”۔ پوسٹر میں سب سے نیچے دائیں طرف ضلع جنرل سکریٹری حسیب احمد اور بائیں طرف پارٹی لیڈر تربھون تیواری کی تصویر شائع ہے ۔

TOPPOPULARRECENT