Monday , April 23 2018
Home / شہر کی خبریں / ریونت ریڈی رکن اسمبلی کی تمام مراعات سے دستبردار

ریونت ریڈی رکن اسمبلی کی تمام مراعات سے دستبردار

تنخواہ اور الاؤنسیس روکدینے اسپیکر اسمبلی سے خواہش۔ کوارٹر بھی واپس کردینے کا ارادہ
حیدرآباد ۔21۔ نومبر (سیاست نیوز) تلگو دیشم سے کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے رکن اسمبلی اے ریونت ریڈی نے استعفیٰ سے قبل ہی رکن اسمبلی کی اپنی تمام مراعات سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔ انہوں نے اسپیکر اسمبلی مدھو سدن چاری سے خواہش کی کہ ان کی ماہانہ تنخواہ دیگر الاؤنسیس کی اجرائی روک دی جائے اور ایم ایل اے کوارٹرس میں الاٹ کردہ کوارٹر بھی دوبارہ حاصل کرلیا جائے۔ ریونت ریڈی نے انہیں دیئے گئے گن مین اور سیکوریٹی گارڈ بھی واپس کردیئے ہیں۔ اس طرح ریونت ریڈی وہ پہلے رکن اسمبلی بن گئے جنہوں نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ سے قبل ہی مراعات سے دستبرداری اختیار کرلی۔ اسی دوران کانگریس اعلیٰ کمان ریونت ریڈی کے استعفیٰ پر اندرون دو یوم کوئی فیصلہ کرسکتی ہے ۔ تلنگانہ میں پارٹی امور کے انچارج اور تلنگانہ کے اہم قائدین سے مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ کانگریس پارٹی نے ریونت ریڈی کو اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ سے روک دیا ہے تاکہ کوڑنگل اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں ان کی دوبارہ کامیابی کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکے۔ اگر فوری طور پر ریونت ریڈی مستعفی ہوجائیں تو اندرون چار ماہ اس اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ ہوں گے۔ ایسے میں برسر اقتدار ٹی آر ایس ریونت ریڈی کو شکست دینے کیلئے ہر طرح کے حربے استعمال کرسکتی ہے اور اگر ریونت ریڈی کو شکست ہوجائے تو اس سے کانگریس پارٹی کیڈر کے حوصلے پست ہوجائیں گے۔ پارٹی نے جس امید کے ساتھ ریونت ریڈی کو شامل کیا ہے ، اس کے مطابق فائدہ حاصل کرنا اہم مقصد ہے۔ ریونت ریڈی کے استعفیٰ کی صورت میں کانگریس کو انہیں کامیاب بنانے کی ذمہ داری قبول کرنی پڑے گی ۔ کانگریس اعلیٰ کمان اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا ضمنی چناؤ میں کانگریس ریونت ریڈی کے حق میں مہم کے دوران ٹی آر ایس کے برابر رقومات خرچ کرسکتی ہے۔ پارٹی قائدین کا احساس ہے کہ استعفیٰ کے بغیر ریونت ریڈی عوام کے دلوں میں ہیرو کی طرح نہیں ابھرسکتے اور انہیں آج نہیں تو کل بہرحال اپنا استعفیٰ پیش کرنا ہی ہوگا۔ کانگریس اعلیٰ کمان ضمنی انتخاب کی صورت میں کانگریس کی طاقت کا اندازہ کرنے کے بعد ہی ریونت ریڈی کے استعفیٰ کا فیصلہ کرے گی۔ ریونت ریڈی نے تلگو دیشم سے علحدگی کے وقت اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک مکتوب استعفیٰ اسپیکر کو روانہ نہیں کیا گیا ۔ کانگریس انہیں مخالف حکومت مہم کیلئے عوام کے درمیان لے جانے سے قبل مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ عام انتخابات سے عین قبل ضمنی چناؤ میں کانگریس کی شکست کی صورت میں اس کا اثر عام انتخابات پر پڑنے کے اندیشے کے تحت کانگریس اعلیٰ کمان سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہتی ہے۔ دوسری طرف ٹی آر ایس کوڑنگل میں ریونت ریڈی کو شکست دینے کی حکمت عملی کے ساتھ تیار ہے۔ چیف منسٹر کسی بھی صورت میں نہیں چاہیں گے کہ ان کے کٹر ناقد دوبارہ اسمبلی میں دکھائی دیں۔

TOPPOPULARRECENT