Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / ریونت ریڈی سے مقابلہ کیلئے ٹی آر ایس کی منصوبہ بندی

ریونت ریڈی سے مقابلہ کیلئے ٹی آر ایس کی منصوبہ بندی

مسلمانوں کو راغب کرنے کی حکمت عملی کی تیاری ‘ اقلیتی اسکیمات پر مؤثر عمل آوری کی کوشش
حیدرآباد۔ 8جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے کوڑنگل اسمبلی حلقہ میں رکن اسمبلی ریونت ریڈی سے مقابلہ کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ ریونت ریڈی نے تلگودیشم سے کانگریس میں شمولیت اختیار کرکے حکومت کے خلاف زبردست مہم کا آغاز کیا ہے ان سے نمٹنے وزراء اور عوامی نمائندوں کو میدان میں اتارا گیا۔ ضلع سے تعلق رکھنے والے وزراء کی سرگرمیوں کو خاطر خواہ عوامی تائید حاصل نہ ہونے پر چیف منسٹر نے اقلیتوں کو ٹی آر ایس کی طرف راغب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کوڑنگل اسمبلی حلقہ میں اقلیتی رائے دہندوں کی قابل لحاظ تعداد ہے اور ان کی اکثریت ریونت ریڈی کے ساتھ بتائی جاتی ہے۔ وقار آباد ضلع کے تحت آنے والے 4 اسمبلی حلقہ جات میں کوڑنگل ان دنوں سیاسی حلقوں میں توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ اقلیتوں کو ٹی آر ایس سے قریب کرنے کے منصوبے کے تحت مسلم آئی اے ایس عہدیدار سید عمر جلیل کو ضلع کا نیا کلکٹر مقرر کیا گیا اور انہیں ذمہ داری دی گئی ہے کہ اقلیتی بہبود اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بنائیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی قائدین کے ایک گروپ کو کوڑنگل میں صورتحال کا جائزہ لینے روانہ کیا گیا تھا۔ قائدین نے رپورٹ میں چیف منسٹر کو تجویز پیش کی کہ ریونت ریڈی سے مقابلہ کیلئے اقلیتوں کی تائید ضروری ہے۔ کوڑنگل اور اس کے اطراف و اکناف کے اسمبلی حلقوں میں اقلیتی بہبود کی اسکیمات کے فوائد مسلمانوں تک نہیں پہنچ سکے جس کے نتیجہ میں ٹی آر ایس سے مسلمان دور ہیں۔ اگر اسکیمات کے فوائد غریب مسلمانوں تک پہنچائے جائیں تو امکان ہے کہ اقلیتیں ٹی آر ایس سے وابستہ ہوجائیں گی اور ریونت ریڈی کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔ چیف منسٹر کو بتایا گیا کہ محبوب نگر اور رنگا ریڈی سے تعلق رکھنے والے وزراء اور ارکان اسمبلی سے زیادہ بہتر ہوگا کہ مقامی سطح پر مسلم عہدیدار کو ضلع کلکٹر مقرر کرکے انکے ذریعہ اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ عوامی نمائندوں نے کبھی بھی اقلیتی اسکیمات کے سلسلہ میں زیادہ توجہ نہیں کی جس کی شکایت مقامی اقلیتوں کو ہے جبکہ ریونت ریڈی نے ہمیشہ اقلیتوں کے درمیان رہ کر مسائل کی یکسوئی کی کوشش کی ہے۔ چیف منسٹر کی جانب سے روانہ کردہ پارٹی عہدیداروں کی ایک ٹیم بھی حوصلہ افزاء نتائج لانے میں ناکام ثابت ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد سینئر آئی اے ایس عہدیدار عمر جلیل کو وقارآباد کا کلکٹر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اقلیتی اسکیمات پر موثر عمل آوری کے ذریعہ اقلیتی رائے دہندوں کو ٹی آر ایس کے قریب لایا جاسکے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود کی حیثیت سے عمر جلیل کو اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری کا بہتر تجربہ ہے اور وہ کلکٹر کی حیثیت سے اس پر عمل کرسکتے ہیں۔ اقلیتی بہبود کے نئے سکریٹری دانا کشور نے بھی جائزہ حاصل کرنے کے بعد عمر جلیل کو مشورہ دیا کہ وہ وقار آباد کے اقلیتی عوام میں اسکیمات کے فوائد پہنچانے کے اقدامات کریں۔ دیکھنا یہ ہے کہ مسلم ضلع کلکٹر تقرر سے کیا کوڑنگل کے مسلمان ٹی آر ایس کے قریب آئیں گے؟ کیا عمر جلیل اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری کے ذریعہ چیف منسٹر کے مشن کی تکمیل کر پائیں گے؟ ۔

TOPPOPULARRECENT