Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / ریونت ریڈی کو حکومت کے خلاف بیان بازی سے باز آنے کا مشورہ

ریونت ریڈی کو حکومت کے خلاف بیان بازی سے باز آنے کا مشورہ

کسانوں کے احتجاجی پروگرام میں تلگو دیشم قائد کی زبان درازی ناقابل برداشت ، ٹی آر ایس ایم ایل اے کا انتباہ
حیدرآباد۔یکم ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے تلگودیشم کے رکن اسمبلی ریونت ریڈی کی جانب سے حکومت اور پراجکٹس پر کی جارہی تنقیدوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور انہیں انتباہ دیا کہ اگر وہ الزام تراشی کا سلسلہ بند نہ کریں تو عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ رکن اسمبلی جی کشور نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ریونت ریڈی جو تلنگانہ تحریک کے دوران چندرا بابو نائیڈو کے اشارہ پر مخالف تلنگانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے آج وہ ٹی آر ایس حکومت پر بے بنیاد الزامات عائد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے نام پر شروع کئے گئے احتجاجی پروگرام میں ریونت ریڈی نے کے ٹی آر اور دوسروں کے خلاف جس زبان کا استعمال کیا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر، ہریش راؤ اور کویتا تلنگانہ جدوجہد میں سرگرم حصہ لیکر سیاسی میدان میں آئے ہیں جبکہ ریونت ریڈی کا عوامی خدمت کا کوئی ریکارڈ نہیں اور تلنگانہ تحریک سے ان کا کوئی تعلق نہیں رہا۔ مشن بھگیرتا میں بھاری کمیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ٹی آر ایس رکن اسمبلی نے کہا کہ ریونت ریڈی کو اس طرح کی سرگرمیوں کی عادت ہے اور انہوں نے کمیشن کے حصول کیلئے پالمور لفٹ ایریگیشن پراجکٹ کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا کردی ہے۔ رکن اسمبلی نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں جس وقت چندرا بابو نائیڈو حیدرآباد آئے تھے انہوں نے اپنے حواریوں کو حکومت کی مخالفت کیلئے اُکسایا۔ یہی وجہ ہے کہ تلنگانہ تلگودیشم قائدین نے حکومت کے خلاف الزام تراشی کا آغاز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولاورم پراجکٹ کے ذریعہ تلنگانہ کے 7 منڈلوں کو نقصان پہنچانے کے باوجود بھی ریونت ریڈی نے تلنگانہ کے حق میں کوئی بات نہیں کی۔ مشن بھگیرتا کے بارے میں انہیں الزام تراشی کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس پروگرام کے تحت ہر گھر کو پینے کے پانی کی سربراہی چیف منسٹر کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ برائے نوٹ اسکام میں جیل کی ہوا کھانے کے باوجود ریونت ریڈی کا دماغ ٹھکانے نہیں آیا اور وہ تلنگانہ پراجکٹس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ رکن اسمبلی نے کہا کہ ریونت ریڈی کو ٹی آر ایس حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے چندرا بابو نائیڈو کے خلاف احتجاج کرنا چاہیئے جو تلنگانہ کے پراجکٹس کی راہ میں طرح طرح سے رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT