Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / ریونت ریڈی کو کمزور کرنے ٹی آر ایس کی حکمت عملی

ریونت ریڈی کو کمزور کرنے ٹی آر ایس کی حکمت عملی

حامیوں کو پارٹی میں شامل کرنے پر توجہ، وزیر ٹرانسپورٹ مہیندر ریڈی بھی سرگرم

حیدرآباد ۔ 24۔ اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کیلئے وقتاً فوقتاً مسائل پیدا کرنے والے تلگو دیشم رکن اسمبلی ریونت ریڈی کے حامیوں پر ٹی آر ایس نے توجہ مرکوز کی ہے تاکہ انہیں پارٹی میں شامل کرتے ہوئے ریونت ریڈی کو کمزور کیا جائے ۔ ریونت ریڈی کے حامیوں کو ٹی آر ایس میں شامل کرنے کی کوششوں میں محبوب نگر ضلع سے تعلق رکھنے والے وزراء کو متحرک کیا گیا تھا لیکن اب اس کام کیلئے وزیر ٹرانسپورٹ مہیندر ریڈی کو میدان میں اتارا گیا ہے ۔ ریاستی وزراء جوپلی کرشنا راؤ اور ڈاکٹر لکشما ریڈی نے گزشتہ دنوں ریونت ریڈی کے حلقہ اسمبلی سے تعلق رکھنے والے تلگو دیشم قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی ، اب مہیندر ریڈی کو ریونت ریڈی کے دو کٹر حامیوں کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ وقار آباد سے تعلق رکھنے والے مہیندر ریڈی بتایا جاتا ہے کہ ریونت ریڈی کے حامیوں سے ربط میں ہیں اور بہت جلد ان کی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا جائے گا۔ مہیندر ریڈی کے آپریشن آکرشن کے نشانہ پر کوڑنگل اسمبلی حلقہ دولت آباد منڈل سے تعلق رکھنے والے تلگو دیشم قائدین ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ٹی آر ایس میں شمولیت کیلئے انہیں راضی کرلیا گیا ہے اور وہ کسی بھی وقت شمولیت کا اعلان کرسکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کوڑنگل اسمبلی حلقہ میں ریونت ریڈی کو کمزور کرنے کیلئے ان کے حامیوں کو اہم سرکاری عہدوں کا لالچ دیا جارہا ہے۔ منڈل سطح کے قائدین کو مارکٹ کمیٹیوں اور دیگر سرکاری اداروں میں نامزدگی کا پیشکش کیا گیا۔ واضح رہے کہ ریونت ریڈی نوٹ برائے ووٹ اسکام کے اصل ملزم ہیں جس کے تحت ٹی آر ایس کے ایک رکن اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس اسکام کی تحقیقات ابھی جاری ہے۔ ریونت ریڈی نے حال ہی میں پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے تلنگانہ میں آندھرائی وزراء کو ہزاروں کروڑ روپئے کے کنٹراکٹ حوالے کرنے کا الزام عائد کیا تھا ۔ چندرا بابو نائیڈو نے ریونت ریڈی کو ابھی تک وضاحت کیلئے طلب نہیں کیا ہے ۔ ریونت ریڈی کا کہنا ہے کہ وہ کانگریس ہائی کمان سے ملاقات کے مسئلہ پر اور پارٹی کے قومی صدر چندرا بابو نائیڈو سے وضاحت کریں گے۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے تلگو دیشم قائدین نے ریونت ریڈی کو پارٹی سے خارج کرنے کی سفارش کی ہے جبکہ ریونت ریڈی نے کانگریس میں شمولیت کے الزامات کی تردید کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT