Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / ریونت ریڈی کی سرگرمیوں کے پس پردہ کون ؟

ریونت ریڈی کی سرگرمیوں کے پس پردہ کون ؟

کے سی آر کے اشارے پر کام کرنے کی قیاس آرائیاں ، انتخابات سے قبل کانگریس و تلگو دیشم کو کمزور کرنے کی حکمت عملی
حیدرآباد۔/21اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ تلگودیشم کے کارگذار صدر ریونت ریڈی کی جاریہ سیاسی سرگرمیاں آخر کس کے اشارہ پر ہیں؟ یہ سوال ان دنوں سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع ہے۔ حتیٰ کہ برسراقتدار ٹی آر ایس قائدین بھی ریونت ریڈی کے بارے میں ایک رائے ظاہر کرنے سے قاصر ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ریونت ریڈی نے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کے اشارہ پر تلگودیشم سے بغاوت و کانگریس میں شمولیت کا رجحان ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کے آندھرائی قائدین سے ان کی ناراضگی کوئی نئی بات نہیں لیکن اچانک تلنگانہ میں آندھرائی قائدین کو مختلف تجارتی کنٹراکٹ دینے کا بہانہ بناکر ریونت ریڈی نے آندھرا پردیش کے کئی وزراء کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے نئی دہلی میں کانگریس ہائی کمان سے ملاقات بھی کی۔ اس مسئلہ پر سیاسی حلقوں میں کافی ہلچل دیکھی جارہی ہے اور مبصرین کا ماننا ہے کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے اپوزیشن کو کمزور کرنے کی جو حکمت عملی تیار کی ہے اس کی کامیابی کیلئے ریونت ریڈی ایک کردار کی طرح ہیں۔ ریونت ریڈی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ ایک طرف کانگریس تو دوسری طرف بی جے پی سے بھی ربط میں ہیں تاہم انہوں نے ابھی تک اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں ذہن واضح نہیں کیا ۔ریونت ریڈی کا شمار انتہائی چالاک سیاستدانوں میں ہوتا ہے لہذا اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ چیف منسٹر جو خود بھی ایک چالاک سیاستداں ہیں وہ اپنی حکمت عملی کیلئے ریونت ریڈی کا استعمال کرسکتے ہیں۔ ریونت ریڈی نوٹ برائے ووٹ اسکام میں ایک اہم ملزم ہیں جس کی تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔

 

اس اسکام میں اگرچہ چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو بھی ماخوذ ہیں تاہم ریونت ریڈی اسکام میں ملوث ہونے کے ثبوت سے انکار نہیں کرسکتے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس اسکام سے بچنے ہوسکتاہے کہ ریونت ریڈی کے سی آر کے اشارہ پر کام کررہے ہیں۔ اگر وہ حکومت کے خلاف محاذ آرائی کرکے کانگریس کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ٹی آر ایس حکومت تحقیقاتی ایجنسیوں کو ان کے خلاف استعمال کرسکتی ہے۔ چیف منسٹر نے 2019 کیلئے جو حکمت عملی تیار کی ہے اس کے مطابق بیک وقت کانگریس اور تلگودیشم کو تلنگانہ میں کمزور کیا جائیگا۔ چیف منسٹر کا ماننا ہے کہ 2019 تک اگر بی جے پی اپنا موقف مستحکم کرتی ہے تب بھی ٹی آر ایس کی کامیابی میں رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتی۔ آئندہ عام انتخابات میں جو بھی مخالف حکومت ووٹ رہیں گے وہ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان منقسم ہوجائیں گے لہذا ٹی آر ایس کو کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔ اس طرح کے سی آر کے نشانہ پر کانگریس پارٹی اور بی جے پی ہے۔ تلگودیشم تو تلنگانہ میں پہلے ہی کمزور ہوچکی ہے اور اس کا وجود خطرہ میں پڑ چکا ہے۔ پارٹی کے موجودہ 3 ارکان اسمبلی میں آر کرشنیا پہلے ہی غیر معلنہ طور پر علحدگی اختیار کرچکے ہیں۔ اب ریونت ریڈی کی علحدگی کے بعد تلگودیشم کا ایک ہی رکن اسمبلی باقی رہ جائے گا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر ریونت ریڈی کانگریس میں شمولیت اختیار کرتے ہیں تو وہاں نئی گروہ بندیاں وجود میں آئیں گی اور اس سے کانگریس کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوگا۔ کے سی آر اگر چاہیں تو ریونت ریڈی کو ٹی آر ایس میں شامل کرسکتے تھے لیکن وہ آئندہ انتخابات میں ایک طاقت کے طور پر اُبھرنے والی کانگریس کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ کانگریس نے بائیں بازو جماعتوں اور تلنگانہ جے اے سی کے ساتھ عوامی مسائل پر حکومت کے خلاف جدوجہد کا آغاز کردیا ہے۔ ٹی آر ایس کے حلقے اگرچہ ریونت ریڈی کے پسِ پردہ کے سی آر کے رول سے انکار کررہے ہیں تاہم وہ اس بات کو تسلیم کررہے ہیں کہ آئندہ انتخابات کیلئے اپوزیشن کو مضبوط ہونے سے روکنے کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر ریونت ریڈی 2019 سے قبل کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو کمزور کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے تو انہیں ووٹ برائے نوٹ معاملہ میں کلین چٹ مل سکتی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT