Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / ریونت ریڈی کی چندرا بابو کے مخالف تلنگانہ اقدامات کی تائید

ریونت ریڈی کی چندرا بابو کے مخالف تلنگانہ اقدامات کی تائید

تلنگانہ کی ترقی میں تلگو دیشم رکاوٹ ، ٹی آر ایس رکن اسمبلی ایس رام لنگاریڈی کا الزام

تلنگانہ کی ترقی میں تلگو دیشم رکاوٹ ، ٹی آر ایس رکن اسمبلی ایس رام لنگاریڈی کا الزام
حیدرآباد ۔ 10 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی مسٹر ایس رام لنگاریڈی نے تلگو دیشم کے رکن اسمبلی مسٹر ریونت ریڈی پر الزام عائد کیا کہ وہ تلنگانہ کے مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو کے مخالف تلنگانہ اقدامات کی تائید کررہے ہیں ۔ اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ٹی آرایس کے رکن اسمبلی نے علحدہ تلنگانہ ریاست کی مخالفت کرنے والی تلگو دیشم پارٹی علحدہ ریاست کی تشکیل کے باوجود تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹیں پیدا کررہی ہیں ۔ چندرا بابو نائیڈو تقسیم ریاست بل کی کھلے عام مخالفت کررہے ہیں اور تلنگانہ کو آندھرا سے ملنے والے برقی کو سربراہ کرنے سے گریز کررہے ۔ کانگریس کے بشمول دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ٹی آر ایس سے نظریاتی اختلافات ہوسکتے ہیں تاہم جب تلنگانہ کے مفادات کی بات آرہی ہے تو جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر حکومت کی تائید کرنے کا پیشکش کررہے ہیں مگر تلنگانہ کے تلگو دیشم قائدین تلنگانہ کے مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے تلنگانہ سے ناانصافی کرنے والے چیف منسٹر آندھرا پردیش کی تائید اور ان کے ہر اقدام کی ستائش کرتے ہوئے آندھرا پردیش کے ناانصافیوں کی مدافعت کررہے ہیں جس کی ٹی آر ایس سخت مذمت کرتی ہے اور تلنگانہ تلگو دیشم کے ارکان اسمبلی مسٹر ریونت ریڈی اور مسٹر ای دیاکر راؤ کو انتباہ دیتی ہے کہ وہ سنبھل جائیں بصورت دیگر تلنگانہ کے عوام انہیں اور تلگو دیشم پارٹی کو کبھی معاف نہیں کریں گے ۔ چندرا بابو نائیڈو کی تلنگانہ سے نا انصافیوں کو برداشت نہ کرتے ہوئے تلگو دیشم کے ارکان اسمبلی چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی کارکردگی سے متاثر ہو کر تلگو دیشم میں شامل ہورہے ہیں ۔ تلنگانہ میں برقی بحران کے لیے کانگریس اور تلگو دیشم دونوں حکومتیں برابر کی ذمہ دار ہیں ۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ برقی بحران سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کررہے ہیں ۔ تین سال میں برقی پیداوار کو جنگی خطوط پر بڑھانے کے لیے منصوبہ بندی کرچکے ہیں اس کے علاوہ چھتیس گڑھ سے 1000 میگاواٹ برقی خریدنے کا بھی معاہدہ کیا گیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT