Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / ریونت ریڈی کی کانگریس میں شمولیت ایک بڑی سازش

ریونت ریڈی کی کانگریس میں شمولیت ایک بڑی سازش

تلنگانہ کی ترقی اور عوام کی خوشحالی سے سیما آندھرا قائدین میں بے چینی ، جوپلی کرشنا راؤ کا بیان
حیدرآباد ۔ 31۔ اکتوبر (سیاست نیوز) وزیر پنچایت راج جوپلی کرشنا راؤ نے الزام عائد کیا کہ ریونت ریڈی کو کانگریس میں شامل کرتے ہوئے سیما آندھرا کے قائدین تلنگانہ میں عوام کی خوشحالی برداشت نہیں کرپا رہے ہیں۔ ارکان مقننہ انجیا یادو ، راجندر ریڈی اور کے نارائن ریڈی کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کرشنا راؤ نے الزام عائد کیا کہ چندرا بابو نائیڈو کے اشارہ پر کانگریس میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے ریونت ریڈی تلنگانہ کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی قیادت میں عوامی جدوجہد سے جو تلنگانہ حاصل ہوا ہے ، اسے دیکھ کر سیما آندھرا قائدین حسد کا شکار ہیں اور وہ تلنگانہ کو دوبارہ اسی طرح پسماندہ دیکھنا چاہتے ہیں جس طرح متحدہ آندھرا میں تھا۔ انہوں نے کہاکہ اسی سازش کے تحت ریونت ریڈی کو کانگریس پارٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ کانگریس نے ریونت ریڈی کی شمولیت کو چائے کی پیالی میں طوفان سے تعبیر کرتے ہوئے جوپلی کرشنا راؤ نے کہا کہ ریونت ریڈی نے سابق میں سونیا گاندھی پر سخت تنقید کی تھی لیکن اب اسی پارٹی میں ان کی شمولیت مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی دراصل اقتدار اور عہدے کے خواہشمند ہیں اور بہت جلد ان کا حقیقی رنگ عوام کے سامنے آجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کرے ، تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی لہر کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا۔ تمام جماعتوں کو اس کا تجربہ ہے اور ریونت ریڈی کے انتخابی حلقہ میں ضمنی انتخاب میں ٹی آر ایس کی کامیابی یقینی ہے۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد جتنے بھی ضمنی چناؤ ہوئے ان میں ٹی آر ایس نے کامیابی حاصل کی ۔ اسی طرح کوڑنگل اسمبلی حلقہ سے ٹی آر ایس کی کامیابی یقینی ہے ۔ کانگریس کا حشر تلگو دیشم کی طرح ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت 4 کروڑ عوام کی بھلائی اور ترقی کیلئے کام کر رہی ہے۔ گزشتہ 60 برسوں میں کانگریس اور تلگو دیشم نے جو کام انجام نہیں دیئے وہ ٹی آر ایس تین برسوں میں مکمل کرتے ہوئے ریکارڈ قائم کیا۔ کرشنا راؤ نے کہا کہ اگر ریونت ریڈی کو تلنگانہ سے دلچسپی ہوتی تو وہ تحریک کے آغاز کے وقت پارٹی سے مستعفی ہوکر تلنگانہ تحریک میں شامل ہوجاتے۔ برخلاف اس کے انہوں نے سیما آندھرائی قائدین کے ساتھ مل کر تلنگانہ کی مخالفت کی۔ وزیر پنچایت راج نے کہا کہ میدک اور ورنگل لوک سبھا حلقوں نارائن کھیڑ اور پالیرو اسمبلی حلقوں کے علاوہ ورنگل اور کھمم کے بلدی انتخابات میں عوام نے ٹی آر ایس کو شاندار کامیابی سے ہمکنار کیا ہے اور ریونت ریڈی کے اسمبلی حلقہ کے نتائج بھی ٹی آر ایس کے حق میں ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کی بنیاد پر ٹی آر ایس کو مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ کوئی بھی طاقت تلنگانہ کو نقصان نہیں پہنچا سکتی کیونکہ عوام تلنگانہ کے ہمدرد اور دشمنوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

TOPPOPULARRECENT