Friday , April 20 2018
Home / شہر کی خبریں / ریونت ریڈی کے سیاسی مستقبل پر الجھن برقرار ‘ کیڈر غیر یقینی کیفیت کا شکار

ریونت ریڈی کے سیاسی مستقبل پر الجھن برقرار ‘ کیڈر غیر یقینی کیفیت کا شکار

مکتوب استعفی ہنوز اسپیکر کو نہیں سونپا گیا ۔ حکومت کے خلاف پد یاترا کی کانگریس نے اجازت نہیں دی

حیدرآباد۔ 20 نومبر (سیاست نیوز) تلگودیشم سے استعفیٰ دینے والے ریونت ریڈی کے سیاسی مستقبل پر الجھن برقرار ہے۔ ریونت ریڈی نے ریاست کی سیاست میں برسر اقتدار ٹی آر ایس اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کے خلاف مورچہ سنبھالنے کا اعلان کرتے ہوئے تلگودیشم اور اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ کا اعلان کیا تھا۔ ان کے اس فیصلے کو تقریباً ایک ماہ مکمل ہوچکا ہے لیکن انہوں نے ابھی تک اپنی حکمت عملی کا اعلان نہیں کیا۔ اتنا ہی نہیں، کانگریس پارٹی نے انہیں حکومت کے خلاف پدیاترا کی اجازت نہ دیتے ہوئے مایوس کردیا ہے۔ ان حالات میں ریونت ریڈی کے حامی اور کانگریس پارٹی کا کیڈر الجھن میں مبتلا ہے کہ آخر ریونت ریڈی کیا فیصلہ کریں گے۔ ریونت ریڈی نے اگرچہ اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ کا اعلان کیا لیکن بتایا جاتا ہے کہ ابھی تک استعفیٰ کا مکتوب اسپیکر مدھوسودن چاری کو پیش نہیں کیا گیا۔ اسمبلی کا سرمائی سیشن 16 دن تک جاری رہا اور اس مدت کے دوران ریونت ریڈی نے اسپیکر سے ملاقات کرتے ہوئے استعفیٰ کا مکتوب حوالہ نہیں کیا۔ دوسری طرف تلگودیشم پارٹی کے قائدین اس بات کی تردید کررہے ہیں کہ ریونت ریڈی نے استعفیٰ کا مکتوب پارٹی قومی صدر چندرا بابو نائیڈو کو پیش کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلگودیشم سے استعفیٰ اور کانگریس میں شمولیت کے عجلت پسندانہ فیصلوں کے بعد ریونت ریڈی کو تلخ تجربات سے گزرنا پڑا۔ راہول گاندھی کی موجودگی میں انہوں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی لیکن پردیش کانگریس کمیٹی نے انہیں ابھی تک مستحقہ مقام نہیں دیا۔ کانگریس میں شمولیت کے بعد سے ریونت ریڈی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت نہیں کی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ کوڑنگل اسمبلی حلقے میں حامیوں سے مشاورت میں مصروف ہیں اور وہ اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے گریز کررہے ہیں۔ اگر وہ اسپیکر کو استعفیٰ روانہ کیے ہوتے تو اسپیکر اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے دوران استعفیٰ اور اس کی منظوری کے بارے میں ایوان میں اعلان کرتے اس کے علاوہ طریقہ کار کے مطابق الیکشن کمیشن کو بھی اس کی اطلاع دی جاتی ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اسپیکر کے دفتر کو ابھی تک یہ استعفیٰ موصول نہیں ہوا۔ حکومت اور اسپیکر کی جانب سے استعفیٰ کے بارے میں تبصروں کے باوجود ریونت ریڈی اس مسئلہ پر خاموش ہیں۔ انہوں نے سرکاری تنخواہ حیدرآباد میں الاٹ کردہ کوارٹر حکومت کی جانب سے فراہم کردہ گن مینس سے دستبرداری سے متعلق اسپیکر کو مکتوب روانہ کرنے کا انکشاف کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ تلگودیشم کے قائد اور سابق رکن اسمبلی آر چندر شیکھر ریڈی نے ریونت ریڈی کا کوارٹر انہیں الاٹ کرنے کے لیے اسپیکر سے خواہش کی ہے۔ ریونت ریڈی کی کانگریس میں شمولیت کے فیصلے سے ٹی آر ایس کے حلقوں میں بے چینی دیکھی گئی۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹی آر ایس بھی مطمئن دکھائی دے رہی ہے کہ ریونت ریڈی کو کانگریس پارٹی نے خود غیر اہم بنادیا ہے۔ اطلاعات گشت کررہی تھیں کہ آئندہ انتخابات کے لیے ریونت ریڈی کو پارٹی کی تشہیری کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا جائے گا لیکن اس سلسلہ میں اعلی کمان سے منظوری باقی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس پارٹی کے بعض قائدین ریونت ریڈی کی پارٹی میں شمولیت سے ناراض ہیں اور اندیشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں پارٹی کے ریڈی طبقے کے قائدین میں آپسی اختلافات شدت اختیار کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT