Thursday , November 23 2017
Home / کھیل کی خبریں / ریو اولمپکس: پاکستان کا 7 رکنی دستہ شرکت کرے گا

ریو اولمپکس: پاکستان کا 7 رکنی دستہ شرکت کرے گا

کراچی، 3 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) ریو اولمپکس 2016ء کا آغاز رواں ماہ 5 اگست سے برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ہورہا ہے، جہاں دنیا بھر کے 207 ممالک کے دستے اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے۔ نیوز ایجنسی’ اے ایف پی‘ کے مطابق پاکستان کے صرف 7 اور اٹلانٹا ،برمودا، آئرلینڈ کے کچھ اتھلیٹس میگا ایونٹ کے دیگر مقابلوں میں حصہ لیں گے۔ قیام پاکستان کے بعد 68 برسوں میں ملک میں کئی اسکواش چمپیئنز، ہاکی پلیئرز اور ورلڈ کلاس کرکٹرز پیدا ہوئے، لیکن اس کے باوجود بھی پاکستان اولمپک ایونٹس میں صرف 10 تمغے اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوا جن میں 8 ہاکی اور 2 انفرادی میڈلز شامل ہیں۔ پاکستان رواں ماہ برازیل میں ہونے والے ریو اولمپکس کے دوران ہاکی کے شعبے میں کوالیفائی کرنے میں ناکام ہوگیا۔ تاہم براعظم کے کوٹے کی بنیاد پر پاکستان کے 3 اتھلیٹس غلام مصطفیٰ بشیر اور منہل سہیل اور جوڈو مقابلوں میں شاہ حسین ریو اولمپکس میں ایکشن میں نظر آئیں گے، ان 3 اتھیلٹس نے کئی عالمی مقابلوں میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرکے میگا ایونٹ میں رسائی حاصل کی۔ اس کے علاوہ پاکستان کے 4 اتھلیٹس وائلڈ کارڈ کے ذریعے اولمپکس میں حصہ لیں گے جن میں سوئمنگ کے مقابلوں میں لیانا سوان اور حارث بانڈے، اتھلیٹس محبوب علی اور نجمہ پروین شامل ہیں۔ 1994 میں پاکستان نے ہاکی، اسنوکر اور اسکواش میں کئی عالمی ٹائٹلز جیتے تھے، لیکن ان میں سے صرف ہاکی کا شمار اولمپکس ایونٹ میں ہوتا ہے۔ حکومت کی عدم
توجہی اور فنڈز جاری نہ ہونے کے باعث ملکی کھیلوں کی کارکردگی بدحالی کا شکار ہے۔ صوبہ پنجاب نے 17-2016ء کے بجٹ میں کھیلوں کیلئے 50 ملین ڈالرز مختص کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ خیبر پختونخوا نے 17 ملین ڈالر مختص کئے۔ کئی فیڈریشنز میں فنڈز کی منصفانہ تقسیم نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے فیڈریشنز کے سربراہان حکومتی رویہ سے مایوس اور نالاں نظر آتے ہیں۔ سربراہ باکسنگ فیڈریشن اقبال حسین نے کہا کہ ان کے ادارہ کو کوالیفائی کرنے پر مشکل سے 3 ہزار ڈالر فنڈز جاری کئے جاتے ہیں جبکہ 2012ء میں 3 لاکھ ڈالرز فنڈز ملا کرتے تھے۔ کامن ویلتھ گیمز باکسنگ سلور میڈلسٹ محمد وسیم نے امیچر گیمز میں کوئی مستقبل نظر نہ آنے پر پروفیشنل باکسر بننے کا فیصلہ کیا۔ 2010ء کامن ویلتھ گیمز کے گولڈ میڈلسٹ محمد انعام نے کہا کہ ہمیں اتھلیٹس پر سرمایہ کاری اور فیڈریشنز کو فنڈز جاری کرنے ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT