Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / ریکس ٹلرسن، ہند۔پاک کے درمیان ثالثی کا رول ادا کرنے کے خواہاں

ریکس ٹلرسن، ہند۔پاک کے درمیان ثالثی کا رول ادا کرنے کے خواہاں

برصغیر میں استحکام کیلئے عالمی رول ادا کرنے میں بھی امریکہ کو دلچسپی، وزیر خارجہ امریکہ کا بیان
نئی دہلی۔27 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کا رول ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہندوستان کو پھر ایک بار اپنے تابع بنانے کے مقصد سے امریکہ برصغیر میں استحکام کے لیے عالمی رول ادا کرنے میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ یہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے تیسری کوشش ہوگی۔ ان کے نظم و نسق نے ہند۔پاک کے نازک مسئلہ کو چھیڑا ہے جبکہ ان کے پیشرو امریکی صدر نے بھی ثالثی کی کوشش کی تھی جبکہ جارج ڈبلیو بش نے اس مسئلہ سے خود کو دور رکھا تھا۔ اب امریکہ خود کو عالمی لیڈر بنانے کی دوڑ میں ہندوستان کے لیے بہت بڑا رول ادا کرنا چاہتا ہے۔ برصغیر میں یا ہند۔پیسفک خطہ کے علاوہ چین کے ساتھ ابھرتے تعلقات کو بھی اہمیت دینے لگا ہے۔ ٹرمپ نظم و نسق کی جانب سے پاکستان کے مسائل سے ہندوستان کو واقف کرانے کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔ اس خصوص میں جنیوا میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا کہ اس ہفتہ اسلام آباد میں پاکستانی قائدین کے ساتھ ان کی ملاقات کے دوران میں نے ان کے سامنے اپنے تاثرات پیش کئے اور کہا کہ آپ کے پاس دو مشکل سرحدیں ہیں۔ ایک جانب افغانستان کی سرحد ہے اور دوسری جانب ہندوستان کی سرحد ہے اور امریکہ ان دونوں سرحدوں پر پاکستان کی مدد کرے گا۔ ہم یہاں صرف بات چیت کرنے کے لیے نہیں آئے ہیں اور نہ ہی یہاں کی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے بلکہ مسائل کی یکسوئی پر بھی توجہ دیں گے۔ ہم یہاں یہ بات کرسکتے ہیں کہ آخر ہندوستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی کو کس طرح کم کیا جاسکتا ہے۔ ان سے یہ پوچا نہیں گیا اور نہ ہی انہوں نے یہ کہا کہ آیا انہوں نے یہی بات ہندوستانی قائدین سے بھی کی ہے۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جبکہ ہندوستان کسی کے ساتھ بھی ثالثی کے رول کے لیے تیار ہونے سے انکار کرتا رہا ہے۔

نئی دہلی میں وزیراعظم اندرا گاندھی اور وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان 1972ء میں شملہ معاہدہ کیا تھا اور اس میں اس نے اسلام آباد کے ساتھ تنازعات میں کسی تیسرے فریق کے ملوث ہونے کی سختی سے مخالفت کی تھی۔ اس معاہدے پر بنگلہ دیش کی جنگ کے بعد دستخط کی گئی تھی۔ دونوں ہمسایہ ملکوں نے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ دونوں ہمسایہ ممالک باہمی طور پر اپنے تنازعات کو حل کرلیں گے۔ اگرچہ کہ پاکستان کسی تیسرے فریق کے شامل ہونے پر زور دیتا آرہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ دورہ ہند کے بعد جنیوا میں کہا کہ پاکستان کے دورے کے موقع پر انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ ہندوستان کے ساتھ اختلافات ضرور ہیں مگر پاکستان نے ہند۔امریکی تعلقات میں مضبوطی کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے امریکہ کے منصوبے پر پاکستان کے ردعمل کے تعلق سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں کوئی خاص بات چیت نہیں ہوئی بلکہ ان لوگوں نے ہندوستان کے ساتھ اپنے اختلافات پر ہی زور دیا تھا اور ہندوستان کے ساتھ اپنے سرحدی کشیدگی کے بارے میں بتایا تھا۔ امریکہ نے ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو پہلے سے زیادہ بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے دورے کے دوران وزیر خارجہ امریکہ ریکس ٹیلرسن نے اسی بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اختلافات کو دور کرنے میں ہی بہتری ہے۔ انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ نظم و نسق کی پالیسی کے مطابق ہند۔پاک مسائل کی یکسوئی کے لیے ثالثی کا رول ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT