Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / ر 2000اور500 کے نئے نوٹ عوام کے لیے ہنوز درد سر

ر 2000اور500 کے نئے نوٹ عوام کے لیے ہنوز درد سر

ناقص نوٹوں کی بینکس سے تبدیلی کا ہنوز کوئی طریقہ کار واضع نہیں
حیدرآباد ۔ 6 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : نوٹ بندی کے وقت عوام بینکوں کی طویل قطاروں میں کھڑے رہ کر اپنی نوٹوں کو تبدیل کروایا تھا اور اس کے بعد ان کے ہاتھ 500 اور 2000 کے نئے نوٹ لگے تھے ، کئی دنوں کی جدوجہد اور بینکوں کی طویل قطاروں کے بعد عوام کو جہاں کچھ راحت ملی تھی وہیں ان کے دلوں میں ہنوز 2000 کے نئے نوٹ بند ہونے کا خدشہ باقی ہے ۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ 500 اور 2000 کے نوٹ ہنوز عوام کے لیے سر درد بنے ہوئے ہیں جس کی اہم وجہ ان نئے نوٹوں کی بہتر دیکھ بھال اور ان نوٹوں پر کوئی لکیر یا رنگ کا دھبہ نہ پڑنے دینا ہے کیوں کہ جس نئی نوٹ پر کچھ لکھا ہوا ہو یا اس پر رنگ کا دھبہ ہو اس کی قیمت باقی نہیں رہتی ۔ 500 اور 2000 کے نئے نوٹوں کے پھٹنے یا کسی اور عذر کی وجہ سے ان کی تبدیلی عوام کے لیے ایک مشکل ترین مرحلہ بن چکا ہے ۔ نوٹ بندی کے 16 ماہ بعد 500 اور 2000 کے نوٹوں کی بینکوں میں تبدیلی کا کوئی انتظام نہیں ہے ۔ اس ضمن میں اظہار خیال کرتے ہوئے کشور نے کہا کہ چونکہ مجھے اپنے کاریگروں کو تنخواہیں دینے کے علاوہ کاروبار کے لیے دیگر تاجروں کو کثیر رقم دینی پڑتی ہے اور بینکس یا اے ٹی ایم سے پیسے نکالتے وقت ہر نوٹ کو اچھی طرح دیکھنا میرے لیے ناممکن ہے اور ایسے میں کچھ نئے نوٹ ناقص بھی آجاتے ہیں ان کی تبدیلی ناممکن ہے کیوں کہ بینکس کا کہنا ہے کہ انہیں نئے نوٹوں کی تبدیلیوں کے لیے آر بی آئی سے ہنوز کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی ہیں ۔ دوسری جانب جب آر بی آئی ذرائع سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو شناخت پوشیدہ رکھنے کی شرط پر مطلع کیا کہ نئے نوٹوں کی تبدیلی کے لیے کوئی بھی طریقہ کار کوپارلیمنٹ سے منظوری ضروری ہے جو کہ ابھی کوئی ایسا طریقہ متعارف نہیں کیا گیا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی اہم ہے کہ بازار میں 500 کی ناقص نوٹ پر 100 تا 200 اور 2000 کی ناقص نوٹ پر 400 تا 500 روپئے کاٹ لیے جارہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT