Sunday , June 24 2018
Home / ہندوستان / زانیوں کو پھانسی پر لٹکادیا جائے

زانیوں کو پھانسی پر لٹکادیا جائے

راناگھاٹ (مغربی بنگال)۔ /17مارچ، ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک معمر راہبہ کی اجتماعی عصمت ریزی کا واقعہ پیش آنے کے تین دن گذرجانے کے باوجود ایک بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی لیکن گزشتہ شب اس واقعہ کے سلسلہ میں مزید چند افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ عصمت ریزی کا شکار 71سالہ سسٹر ، کانونٹ آف جیسو اینڈ میری کی صحت میںقدرے بہتری ہوئی ہے جو کہ رانا گھ

راناگھاٹ (مغربی بنگال)۔ /17مارچ، ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک معمر راہبہ کی اجتماعی عصمت ریزی کا واقعہ پیش آنے کے تین دن گذرجانے کے باوجود ایک بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی لیکن گزشتہ شب اس واقعہ کے سلسلہ میں مزید چند افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ عصمت ریزی کا شکار 71سالہ سسٹر ، کانونٹ آف جیسو اینڈ میری کی صحت میںقدرے بہتری ہوئی ہے جو کہ رانا گھاٹ سب ڈیویژنل ہاسپٹل میں زیر علاج ہے ڈاکٹروں نے آج یہ اطلاع دی ہے کہ ضلع ناڈیہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ارنب گھوش نے بتایا کہ کل شب مزید مشتبہ افراد کو پوچھ تاچھ کیلئے حراست میں لے لیا گیا ہے تاہم انہوں نے تفصیلات بتانے سے انکار کردیا اور کہا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کے سلسلہ میں ایک پولیس ٹیم بیرون ریاست روانہ کردی گئی ہے۔ ضلع ایس پی نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں4افراد نظر آرہے ہیں جو کہ اس جرم میں ملوث ہونے کا شبہ ہے اورملزمین کی گرفتاری کیلئے قابل اعتماد اطلاعات فراہم کرنے پر ایک لاکھ روپئے کے انعام کا اعلان کیا۔ دریں اثناء رانا گھاٹ ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ اے کے منڈل نے بتایا کہ متاثرہ راہبہ معمول کی غذا ٹھوس اور سیال لے رہی ہیں اور ان کے علاج کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے اور صدمہ سے باہر نکالنے کیلئے ان کی کونسلنگ بھی کی جارہی ہے اور اس خصوص میں روم سے ایک ٹیم آئی ہوئی ہے۔ قبل ازیں چیف منسٹر ممتا بنرجی نے کل ہاسپٹل میں زیر علاج راہبہ سے ملاقات کی اور کہا کہ ان کے خیال میں مجرموں کو پھانسی پر لٹکایا دیا جانا چاہیئے۔

دریں اثناء کانونٹ اسکول کے قرب و جوار میں واقع تاجروں نے آج مذکورہ واقعہ کے خلاف احتجاج و بند منایا اور مجرمین کی فی الفور گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ نائب صدر نشین مغربی بنگال اقلیتی کمیشن ماریہ فرنانڈیز نے ہاسپٹل میں راہبہ کی عیادت کے بعد کہا کہ ملک بھر میں گذشتہ 8ماہ کے دوران خواتین پر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے جس کے خلاف ہمیں متحدہ جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رانا گھاٹ کا واقعہ محض سرقہ کا نہیں ہے بلکہ عصمت ریزی اور توڑپھوڑ کا معاملہ ہے کیونکہ کانونٹ کے چیاپل کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT