Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / زبردستی نوکرانی بنائی ثمینہ قید سے آزاد

زبردستی نوکرانی بنائی ثمینہ قید سے آزاد

باپ کے قرض کی بیٹی کو سزاء، فینانسر گرفتار، مقدمہ درج
حیدرآباد۔ 13 اگست (ایجنسیز) ضلع محبوب نگر سے تعلق رکھنے والی ایک سولہ سالہ لڑکی جو پچھلے تین سالوں سے دومل گوڑہ حیدرآباد میں ایک فلم فینانسر کے مکان میں ایک بندھوا مزدور کی طرح کام کررہی تھی کو محکمہ خواتین و اطفال کے عہدیداروں نے قید سے آزاد کروایا۔ تفصیلات کے مطابق محبوب نامی شخص کی 16 سالہ لڑکی ثمینہ جس وقت 13 سال کی تھی کو حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے فلم فینانسر نے ضلع محبوب نگر کے ایک دیہات انجامور سے زبردستی اپنے گھر لایا تھا۔ اس وقت ثمینہ ایک سرکاری اسکول میں آٹھویں جماعت میں تعلیم حاصل کررہی تھی۔ اس کا باپ محبوب ایک غریب مزدور ہے اور مشکل سے خاندان کی پرورش کرتا ہے۔ اس نے اپنی بڑی لڑکی کی شادی کیلئے مقامی دیہاتی افراد کے ذریعہ ایک خانگی فینانسر بھوجی ریڈی سے قرض حاصل کیا۔ قرض کی مقررہ مدت کے بعد محبوب قرض واپس کرنے سے قاصر ہونے پر بھوجی ریڈی محبوب کو ہراساں کرنا شروع کردیا۔ تین سال قبل سال 2013ء میں بھوجی ریڈی انجاپور میں واقع محبوب کے مکان پہنچ کر محبوب کی لڑکی ثمینہ کو اٹھا لیا اور محبوب سے کہا کہ وہ قرض کی رقم معہ سود واپس کرکے اپنی بیٹی کو واپس لے جائے۔ ایک خفیہ اطلاع پر محکمہ خواتین و بہبود اطفال کے عہدیداروں نے محکمہ ریونیو اور پولیس کے عہدیداروں کے ہمراہ دومل گوڑہ حیدرآباد میں واقع بھوجی ریڈی خانگی فینانسر کے مکان پر دھاوا کرتے ہوئے ثمینہ کو آزاد کرالیا۔ ثمینہ نے دکھ بھری کہانی سناتے ہوئے کہا کہ تین سال قبل جب میں آٹھویں جماعت میں زیرتعلیم تھی، بھوجی ریڈی نے مجھے زبردستی اپنے گھر سے اٹھا لیا۔ ثمینہ نے بتایا میرے والد بھوجی ریڈی کو 50 ہزار روپئے قرض باقی تھے جبکہ بھوجی ریڈی اور اس کی بیوی مجھے اپنے گھر میں ایک نوکرانی کی طرح کام لیتے، مجھے مارتے اور ہراساں کرتے تھے۔ جس وقت بھوجی ریڈی کے گھر دھاوا کیا گیا تھا وہ گھر پر ہی تھا۔ اس نے اپنا جرم قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ثمینہ سے نوکرانی کی طرح گھر کا کام لیا کرتا تھا۔ چکڑ پلی پولیس نے بھوجی ریڈی کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 374 اور چائیلڈ لیبر ایکٹ کے دفعات 16 ، 17 اور 18 کے تحت کیس درج کرلیا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT