Monday , September 24 2018
Home / پاکستان / زرداری کا مسئلہ کے سیاسی حل کا مشورہ

زرداری کا مسئلہ کے سیاسی حل کا مشورہ

لاہور۔ 24؍اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے معاون صدرنشین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم نواز شریف کو مشورہ دیا کہ صبر کا دامن نہ چھوڑیں اور اس مسئلہ کو سیاسی طور پر حل کریں۔ وہ وزیراعظم نواز شریف، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور چودھری شماعت اور چودھری پرویز الٰہی سے ملاقاتوں کے بعد لاہور ہوائی اڈے پر ذرائع

لاہور۔ 24؍اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے معاون صدرنشین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم نواز شریف کو مشورہ دیا کہ صبر کا دامن نہ چھوڑیں اور اس مسئلہ کو سیاسی طور پر حل کریں۔ وہ وزیراعظم نواز شریف، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور چودھری شماعت اور چودھری پرویز الٰہی سے ملاقاتوں کے بعد لاہور ہوائی اڈے پر ذرائع ابلاغ سے بات چیت کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کا مطلب صرف مذاکرات ہیں۔ اگر پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کو ناراضگی ہے تو ان سے بات کی جائے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ ایک جمہوری حکومت دوسری جمہوری حکومت کو چیلنج نہ کرے۔ خیبر پختونخواہ میں جمہوری حکومت وفاق میں جمہوری حکومت کو چیلنج نہ کرے۔ اس سے قبل رائیونڈ میں وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے معاون صدرنشین آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ نواز نے کہا کہ آصف علی زرداری کی تائید کے لئے ہم مشکور ہیں۔ رائیونڈ میں دونوں قائدین کی ملاقات کے بعد وفاقی وزیر برائے خزانہ اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پارلیمان میں جو موقف اختیار کیا ہے، آصف علی زرداری نے اُسی موقف کا اعادہ کیا۔ اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس میں کہا کہ آصف علی زرداری کی جانب سے بھرپور تائید کے لئے ہماری جماعت مسلم لیگ نواز اور وزیراعظم مشکور ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان تحریک اِنصاف کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے اور اس بحران کا حل نکل آئے گا۔ حل آئین کے مطابق ہو گا اور کوئی ماورائے آئین حل نکلے گا اور اسی لئے وزیراعظم کے استعفے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ایک سوال کے جواب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ آصف علی زرداری وزیراعظم کے استعفیٰ کے مطالبہ کے بارے میں بہت واضح ہیں کہ اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس پریس کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی کا کوئی قائد شامل نہیں تھا۔ نواز شریف سے ملاقات کے بعد آصف علی زرداری لاہور میں جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ روانہ ہوگئے۔ پریس کانفرنس میں اسحاق ڈار کے ہمراہ خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف اور عبدالقادر بلوچ تھے۔ اسحاق ڈار نے کہا آصف علی زرداری نے آئین اور پارلیمان کی بالادستی اور جمہوری نظام کو جاری رکھنے کے لئے مسلم لیگ نواز اور دیگر جماعتوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ آصف علی زرداری نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ جاریہ سیاسی بحران کا جو بھی حل نکلے، آئین اور قانون کے مطابق ہونا چاہئے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع ہوں گے۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ سابق صدر کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے والوں سے پارلیمانی کمیٹی مذاکرات کرے گی جو پارلیمان کی بطور ادارہ نمائندگی کرے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ آصف علی زرداری جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور بعد میں چودھری برادران سے ملاقات کریں گے اور اس تجویز پر ان کی حمایت حاصل کریں گے۔ اگر زرداری صاحب کو حمایت حاصل ہوجاتی ہے تو یہ کمیٹی آج ہی سے کام شروع کر دے گی۔ انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی کامیابی سے پہلے ملک پر آصف علی زرداری کی پاکستان پیپلز پارٹی برسراقتدار تھی اور زرداری صدر پاکستان تھے۔ انتخابات میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (نواز) کی کلیدی حریف تھی، لیکن اب تحریک اِنصاف اور عوامی تحریک کی حکومت کے خلاف بغاوت کے بعد دونوں حریف متحد ہوگئے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT