Monday , October 22 2018
Home / شہر کی خبریں / زردہ کی فروخت پر امتناع کی برخواستگی کا امکان

زردہ کی فروخت پر امتناع کی برخواستگی کا امکان

سرکاری خزانہ کی حالت خراب۔ آمدنی میں اضافہ کیلئے اقدامات حکومت کے زیر غور
حیدرآباد۔12اگسٹ(سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے گٹکھا کے بجائے پان میں استعمال کئے جانے والے زردہ کی فروخت پر عائد امتناع برخواست کردیا جائے گا! حکومت تلنگانہ سرکاری خزانہ کی حالت کے پیش نظر صورتحال پر قابو پانے کیلئے فوری طور پر آمدنی میں اضافہ کے متعلق غور کر رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ریاست کی آمدنی میں اضافہ کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے طور پر زردہ کی فروخت پر عائد امتناع کو ہٹانے پر غورکیا جا رہاہے۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست تلنگانہ میں گٹکھا کی فروخت پر بڑی حد تک قابو پایا جاچکا ہے لیکن پان میں استعمال کئے جانے والے زردہ کی فروخت پر کنٹرول نہیں کیا جاسکا ہے اور ریاست میں ملک کی مختلف ریاستوں سے زردہ منتقل کرتے ہوئے فروخت اور استعمال کیا جا رہاہے جس کے سبب زردہ پر عائد پابندی کا مقصد فوت ہوچکا ہے لیکن اس کے منفی اثرات ریاست کے خزانہ پر مرتب ہونے لگے ہیں جس کے نتیجہ میں صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ ریاستی حکومت کے خزانہ کی حالت سے تمام محکمہ جات واقف ہیں اور حکومت کی جانب سے آمدنی میں اضافہ کے سلسلہ میں طلب کی گئی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ریاست میں کم ازکم زردہ کی فروخت پر عائد پابندی کو برخواست کرنے سے دیگر پڑوسی ریاستوں کو جو آمدنی حاصل ہورہی ہے وہ ریاستی حکومت کی آمدنی میں شامل ہوسکتی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ حکومت اس تجویز کا جائزہ لینے کی محکمہ اکسائز کو ہدایت دینے کا ارادہ رکھتی ہے کہ کس طرح گٹکھا پر پابندی برقرار رکھتے ہوئے پان میں استعمال کئے جانے والے زردہ کی فروخت کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ریاست تلنگانہ میں گٹکھے کے ساتھ زردہ پر بھی عائد پابندی کے سبب ریاست کرناٹک اور دیگر ریاستوںسے زردہ تلنگانہ پہنچ رہا ہے اور پان کے ڈبوں پر جاری زردہ اور زردے کے پان کی فروخت کو دیکھتے ہوئے یہ تجویز روانہ کی گئی ہے کیونکہ پابندی کے مقاصد پورے نہ ہونے کے علاوہ ریاست کی آمدنی پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔شہر حیدرآباد و سکندرآباد کے پان کے ڈبوں کے مالکین کا کہناہے کہ گٹکھے کے ساتھ پان میں استعمال کئے جانے والے زردوں پر بھی پابندی عائد کئے جانے کے نتیجہ میں ان کے کاروبار متاثر ہوئے ہیں جبکہ بیشتر مقامات پر زردہ کے پان دستیاب ہونے لگے ہیں اور اسی وجہ سے پان کی قیمتو ںمیں بھی اضافہ ہونے لگا ہے کیونکہ پڑوسی ریاستوں سے زردہ حاصل میں ہونے والی دشواریوں کے باعث اضافی قیمت گاہک سے ہی وصول کی جاسکتی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT