Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / زرعی قرضوں کی معافی چیف منسٹر کے سی آر کے احکام جاری

زرعی قرضوں کی معافی چیف منسٹر کے سی آر کے احکام جاری

ایک لاکھ تک قرض حاصل کرنے والے کسانوں کو راحت ، 17000 کروڑ روپئے کے قرضوں کی معافی

ایک لاکھ تک قرض حاصل کرنے والے کسانوں کو راحت ، 17000 کروڑ روپئے کے قرضوں کی معافی

حیدرآباد ۔ 22 ستمبر ۔ (سیاست نیوز) تلنگانہ ریاست سے تعلق رکھنے والے کسانوں کے زرعی قرضہ جات کو بالاخر ایک لاکھ روپئے تک معاف کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے اس سلسلہ میں باقاعدہ احکامات جاری کئے ۔ جبکہ چیف منسٹر نے ہی زرعی قرضہ جات کی معافی سے متعلق طریقہ کار کو مرتب کرنے اور تفصیلی جائزہ لینے کیلئے وزیر زراعت مسٹر پی سرینواس ریڈی کی قیادت میں ایک کابینی ذیلی کمیٹی تشکیل دی تھی ، جس میں مسرس ای راجندر وزیر فینانس ، ٹی ہریش راؤ وزیر آبپاشی ، کے ٹی راما راؤ وزیر پنچایت راج و انفارمیشن ٹکنالوجی ، جوگوراما وزیر جنگلات و دیگر شامل تھے ۔ اس کابینی ذیلی کمیٹی نے مسلسل اپنی نشستیں منعقد کرکے آخرکار ایک تفصیلی و جامع رپورٹ چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کو پیش کی جس پر مسٹر چندرشیکھر راؤ نے اس رپورٹ کو من وعن قبول کرتے ہوئے کسانوں کے زرعی قرضہ جات معاف کرنے کیلئے باقاعدہ احکامات جاری کئے ۔ بعد ازاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر بی سرینواس ریڈی وزیر زراعت اور ای راجندر وزیر فینانس ، پی مہیندر ریڈی وزیر ٹرانسپورٹ و دیگر نے بتایا کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے پہلے مرحلے کے تحت قرض معافی کیلئے (4250) کروڑ روپئے جاری بھی کردیئے ۔ انھوں نے مزید کہاکہ اس زرعی قرض معافی کیلئے 17ہزار کروڑ روپئے کے مصارف عائد ہوں گے ۔ لیکن اس قرض معافی اسکیم کے تحت (36) تا (37) لاکھ کسانوں کو فائدہ پہونچ سکے گا ۔ ان وزراء نے کہا کہ حکومت نے بینکروں کو اس بات کی ہدایت دی ہے کہ وہ کسانوں کو خریف فصل کیلئے قرضہ جات فراہم کریں۔ کیونکہ ماہ ستمبر کے ختم ہونے پر کسانوں کو قرضہ جات فراہم نہیں ہوسکیں گے۔ کابینی ذیلی کمیٹی نے اپنی پیش کردہ رپورٹ کو فوری طورپر قبول کرتے ہوئے قرض معافی کے احکامات جاری کرنے پر چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ سے اظہارتشکر کیا اور بتایا کہ چیف منسٹر نے اپنے انتخابی منشور میں عوام سے کئے ہوئے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے مرحلہ وار اساس پر اقدامات کررہے ہیں۔ گزشتہ دنوں کے دوران مسٹر چندرشیکھر راؤ نے اپنی خصوصی دلچسپی کے دریعہ ایک طویل عرصہ سے زیرالتواء (480) کروڑ روپئے (Input Subsidy) کی اجرائی کو یقینی بنایا ۔ ان وزراء نے کانگریس قائدین کو بالواسطہ طورپر اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ سابق میں کسانوں وغیرہ کیلئے کچھ تو نہیں کرسکے لیکن آج تلنگانہ حکومت کی جانب سے کسانوں کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر چیف منسٹر تلنگانہ کو اپنی تنقید کا نشانہ بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT