Saturday , October 20 2018
Home / شہر کی خبریں / زعفرانی تربیتی کیمپس کو فوری بند کرنے پر زور

زعفرانی تربیتی کیمپس کو فوری بند کرنے پر زور

راجستھان کے مقتولہ کے افراد خاندان کو معاوضہ دیا جائے : سید ولی اللہ
حیدرآباد /14 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) لو جہاد کے نام پر راجستھان میں قتل کئے گئے افرازول سے انصاف اور اس کے افراد خاندان کو معاوضہ نہیں بلکہ قاتل کو سخت سزاء اور تنظیموں پر پابندی ہے ، منظم سازشوں کے تحت چلائے جارہے زعفرانی تربیتی کیمپس کو بند کئے بغیر ملک میں قیام امن کی ہر کوشش ناکام ہوگی ۔ ان خیالات کا اظہار قومی صدر آل انڈیا اسٹوڈنٹ فیڈریشن ( اے آئی ایس ایف ) سید ولی اللہ قادری نے کیا ۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی دہلی کے علاوہ مختلف مقامات کے طلبہ آج راجستھان سکریٹریٹ پر جمع ہوئے تھے ۔ جنہوں نے ملک میں جاری حالات بالخصوص افرازول سے انصاف کا مطالبہ کیا ۔ طلبہ نے قبل ازیں زبردست احتجاجی ریالی نکالی اور سکریٹریٹ پہونچکر وزیر اعلی راجستھان وسندھرا راجیہ سندھیا کو ایک یادداشت پیش کی ۔ تاہم بائیں بازو طلبہ کی اس جمعیت کو اس دیہات جانے سے روک دیا گیا ۔ جہاں افرازول کا خاندان رہتا ہے ۔ طلبہ نے پولیس کی جانب سے رکاوٹوں اور تحدیدات پر سخت اعتراض کیا اور اپنا احتجاج درج کروایا ۔ اس موقع پر سدے ولی اللہ قادری نے کہا کہ لو جہاد ، گاؤ رکھشا ، گھر واپسی جیسے نعروں کے سائے میں بے گناہ مسلمانوں کا قتل کیا جارہا ہے جو ناقابل قبول ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی سالمیت کو برقرار رکھنے کیلئے وقت کی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ ملک میں پھیلائے جارہے نفرت کے ماحول کو بند کرنے کے اقدامات کرے اور ذہن سازی اور تربیت کے ذریعہ مخصوص قوموں کو نشانہ بنانے کی جارہی کوششوں کو ختم کرنے کیلئے ملک میں موجودہ آر ایس ایس ، بجرنگ دل ، وشواہندو پریشد ، سناتھن سسنتھا پر پابندی عائد کرے ۔ ان اداروں پر پابندی عائد کرنے پر ملک کی سالمیت برقرار رہے گی اور ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج اس واقعہ کے بعد جس کا خود ساختہ لو جہاد نعرے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ اس سے جوڑکر دیہاتوں میں نفرتوں کا زہر گھول دیا گیا ہے ۔ ان حالات کے سبب تقریباً 600 مسلم خاندان راجستھان چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور اس کے علاوہ کئی دیہاتوں میں مسلمانوں کو دیہات چھوڑنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے ۔ اے آئی ایس ایف نے ملک کی اپوزیشن و دیگر سیاسی جماعتوں اور تنظیموں سے درخواست کی کہ وہ سیکولرازم کی بقاء کیلئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں ۔ انہوں نے ملک کے پریشان حال اقلیتوں کو پریشان نہ ہونے کا پیغام دیا اور کہا کہ بائیں بازو جماعتیں فسطائی طاقتوں کو ان کے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گی ۔ اس احتجاج میں جے این یو کی لیڈر راحیلہ پروین کو ستیا کشن ، ننتن بھارگو ، ساریندر ، امرجیت ، شنکر نائیک و دیگر موجود تھے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT