Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / زعفرانی تنظیموں کا چرچ پر حملہ‘ 6افراد زخمی

زعفرانی تنظیموں کا چرچ پر حملہ‘ 6افراد زخمی

ظالمانہ حرکت سے ضلع نظام آباد کے موضع گوپن پلی میں اضطراب آمیز سکون

حیدرآباد۔21مارچ ( سیاست نیوز) عیسائی طبقہ کی عارضی عبادت گاہ کو نذرآتش کئے جانے کے معاملہ میں ضلع نظام آباد کے موضع گوپن پلی میں اضطراب آمیز سکون پایا جاتا ہے لیکن مقامی عوام معاملہ میںسنگھ پریوار کی کارستانی سے خوف و ہراس میں مبتلا ہیں ۔ گذشتہ یوم زعفرانی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے نامعلوم افراد نے علاقہ میں عیسائی طبقہ کی جانب سے تیار کردہ عارضی عبادتگاہ کو نذرآتش کردیا اور وہ الزام عائد کررہے تھے کہ عیسائی پادری اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہندوؤں میں عیسائیت کی تبلیغ کرتے ہوئے انہیں تبدیلی مذہب کی سمت راغب کررہے تھے ۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نظام آباد کے بموجب چرچ کی تعمیر پر اعتراض کیا گیا تھا اور بعد ازاں اس زیر تعمیر عارضی عبادگاہ میں آتشزنی کا واقعہ پیش آیا ۔ رات کی تاریکی میں نامعلوم افراد کی جانب سے عبادتگاہ کو نذرآتش کئے جانے سے قبل ہندو توا تنظیموں سے تعلق رکھنے والے چند افراد نے مقامی پادری پر حملہ کردیا اور اس حملہ کی زد میں پادری کے علاوہ عبادت کیلئے پہنچنے والے چند عیسائی بھی آگئے ۔40سے زائد ہندو نوجوانوں کے حملہ میں زخمی ہونے والے 6 افراد شریک دواخانہ ہیں جن میں ایک چار سالہ لڑکی بھی شامل ہے ۔ پادری نتن کمار کا کہنا ہے کہ جب حملہ کیا گیاتووہ انتہائی خوفناک منظر تھا ۔ حملہ آوروں کی جانب سے نہ صرف عیسائی طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کو نشانہ بنایا گیا بلکہ عیسائیوں کے مقدس صحیفہ کی بے حرمتی کی گئی اور اسے پادری سے چھین کر پھاڑ دیا گیا ۔ زعفرانی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی جانب سے اقلیتوں بالخصوص عیسائی مبلغین و عبادت گاہوں پر حملوں کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ نظام آباد میں پیش آئے اس واقعہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ضلع نظام آباد میں بھی ہندو فاشسٹ تنظیموں کو استحکام حاصل ہونے لگا ہے جو تبدیلی مذہب کے ساتھ تبلیغ پر امتناع کی حمات کرتے ہوئے اس کام میں مصروف  افراد کو نشانہ بنارہے ہیں ۔ رکن پارلیمنٹ نظام آباد مسز کے کویتا نے چرچ کو نذرآتش کرنے کے علاوہ پادری اور عیسائی طبقہ کے افراد پر حملہ کے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاکہ حکومت تلنگانہ خاطیوں کو بخشے گی نہیں اور تمام خاطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کے تدارک کیلئے سخت گیر اقدامات کئے جائیں گے اور ریاست میں موجود اقلیتی طبقات میں احساس خود اعتمادی پیدا کیا جائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT