Monday , February 19 2018
Home / دنیا / زلزلہ متاثرین کا ایرانی حکومت پر مدد نہ پہنچانے کا الزام

زلزلہ متاثرین کا ایرانی حکومت پر مدد نہ پہنچانے کا الزام

انقرہ، 15 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ایران میں اتوار کو آئے شدید زلزلے میں اپنے عزیز و اقاریب کو کھونے کے بعد اب لوگوں کو شدید سردی، بھوک اور امدادی سامان کی سخت قلتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ زلزلہ اور موسم کی دوہري مار جھیل رہے ان لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان تک مدد پہنچنے میں بہت تاخیر ہو رہی ہے ۔ ایرانی حکام نے منگل کوبچائو کاری آپریشن کو اس بنیاد پر روک دیا تھاکہ اتنے وقت بعد کسی کے زندہ بچنے کا امکان نہیں ہے ۔ ایران میں گزشتہ ایک دہائی میں یہ سب سے خوفناک زلزلہ تھا جس میں کم از کم 530 افراد ہلاک ہوگئے اور ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زلزلہ کا سب سے زیادہ اثر کرمان شاہ صوبے کے کئی شہروں اور دیہات میں پڑا ہے اور زندہ بچ جانے والوں کو اب خوراک، پانی اور ٹھکانے کے مسئلہ سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے ۔ عہدیداروں کے مطابق اس تباہ کن زلزلہ میں کم از کم 30 ہزار مکانات تباہ ہو گئے اور 24 گاؤں مکمل طور زمین دوز ہو گئے ہیں۔ ایران نے بیرون ملک سے آنے والے مدد کو لینے سے انکار کر دیا ہے ۔امریکہ نے اس سانحہ پر رنج وغم کا اظہار کیا ہے ۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ شمالی ایران اور عراق میں آئے خوفناک زلزلہ سے ہلاک شدگان کے تئیں ہم اپنی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور امریکہ کو ابھی تک ایران یا عراقی حکومت سے مدد کی اپیل نہیں ملی ہے ۔ اس زلزلہ میں اپنے خاندان کے دس لوگوں کو کھونے والی مریم اھانگ نے بتایا کہ ہم سب لوگ بھوکے ہیں اور سردی کے مارے برا حال ہے ، ہمارے پاس رہنے کو کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اور میں کل رات بھی کھلے پارک میں سوئی تھی۔ ایران کے سپریم مذہبی رہنما آیت اللہ علی خامنی ای نے کل تمام ایجنسیوں کو امدادی کارروائیوں میں تیزی لانے کا حکم دیا۔ صدر حسن روحاني نے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ جلد سے جلد ان مسائل کو حل کیا جائے گا۔ ہزاروں لوگ اب بھی عارضی کیمپوں میں ہیں اور کئی لوگوں نے زلزلہ کے مزید جھٹکے کو دیکھتے ہوئے کل رات بھی کھلے آسمان کے نیچے گزاری۔

TOPPOPULARRECENT