Saturday , November 18 2017
Home / دنیا / زلزلے کی صورت میں بچاؤ مشق کی میزبانی کی پیشکش

زلزلے کی صورت میں بچاؤ مشق کی میزبانی کی پیشکش

آئندہ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کی میزبانی کیلئے تیار، راجناتھ کا ایس سی او میٹنگ سے خطاب
شولپون ۔ اتا (کرغستان) 24 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے آج شہری علاقوں میں زلزلے کی صورت میں تلاشی اور بچاؤ کاموں کے تجربے کا شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ تبادلہ کرنے کی پیشکش کی جس کے رکن اقوام میں چین اور پاکستان شامل ہیں۔ ایمرجنسی صورتحال کے انسداد اور اُس کے وقوع کو ٹالنے کی کوشش کے تحت ایس سی او کے سربراہان حکومت کی نویں میٹنگ میں اپنے ملک کا موقف بیان کرتے ہوئے وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے کہاکہ یہ مشق اجتماعی تیاری کو بہتر بنانے کے لئے نہایت کارآمد رہے گی۔ راجناتھ نے کہاکہ جب تلاشی اور بچاؤ ٹیمیں کسی مشترکہ مساعی میں مشغول ہوتی ہیں تو اُن میں نہ صرف بین الاقوامی سطح کے فہم و ادراک کا احساس پیدا ہوتا ہے بلکہ وہ ایمرجنسی حالات سے نمٹنے کے مختلف اختراعی طریقوں سے واقف بھی ہوجاتے ہیں۔ ظاہر ہے اِس عمل کے دوران ایک دوسرے سے شناسائی اور دوستی بھی استوار ہوتی ہے جو ہنگامی صورتوں کے معاملے میں مفید رہتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستان زلزلے کی صورت میں اِس طرح کی مشترکہ مشق کی 2019 ء میں میزبانی کی پیشکش کرتا ہے۔ وزیرداخلہ کا یہ بیان اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ تمام ایس سی او ارکان کے لئے ہے جن میں چین اور پاکستان شامل ہیں اور کوئی مشترکہ مشق ہوتی ہے تو وہ بھی حصہ لیں گے۔

راجناتھ نے یہ بھی کہاکہ ہندوستان شنگھائی تعاون تنظیم کے اگلے اجلاس کی میزبانی کرنے تیار ہے جو تباہی سے نمٹنے کے اُمور سے متعلق ہوگا۔ وزیرداخلہ کے دفتر نے بعدازاں ٹوئٹ میں کہاکہ وزیرداخلہ کی پیش کردہ دونوں تجاویز ایس سی او کے تمام ارکان نے متفقہ طور پر قبول کرلی ہیں۔ 2001 ء میں تشکیل شدہ ایس سی او کے رکن ممالک چین، قازقستان، کرغستان، روس، تاجکستان، ازبیکستان، ہندوستان اور پاکستان ہیں اور اِس بلاک کا ہیڈکوارٹر بیجنگ ہے۔ ہندوستان اور پاکستان چین کے غلبہ والے اِس سکیوریٹی گروپ میں جون میں قازقستان کے دارالحکومت استھانہ میں شامل ہوئے تھے۔ وزیراعظم نریندر مودی اُس سمٹ میں شریک ہوئے تھے۔ وزیرداخلہ راجناتھ نے کہاکہ 1996 ء اور 2015 ء کے درمیان ایس سی او ممالک قدرتی آفات کے سبب 3 لاکھ زندگیوں سے محروم ہوئے ہیں۔ اِن تباہیوں سے معاشی نقصانات بھی نہایت زیادہ اور غیرمعمولی ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم تمام قدرتی اور انسانی غلطیوں کی وجہ سے مختلف تباہیوں کے معاملے میں مخدوش ہیں۔

TOPPOPULARRECENT