Sunday , December 17 2017
Home / آپ کے سوال / زلف مبارک کہاں تک؟

زلف مبارک کہاں تک؟

سوال :  ہمیشہ اس مسئلہ میں شبہ رہتا ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اقدس کے بال مبارک کہاں تک رہتے تھے، اس سلسلہ میں مختلف باتیں سننے میں آتی ہیں۔ براہ کرم تشفی بخش جواب دیں، اس سے کئی حضرات کی الجھنیں ختم ہوں گی ؟
اجمل قادری، پھسل بنڈہ
جواب :  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زلف مبارک نصف گوش تک رہتے۔ کان شعر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الی انصاف اذنیہ (مسلم : کتاب الفضائل، باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زلف مبارک کی صفت سے متعلق احادیث میں ’’وفرۃ ‘‘ ، ’’ لمۃ ‘‘ ، ’’ جمۃ‘‘ کے کلمات وارد ہوئے ہیں۔ وفرہ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زلف مبارک کان کی لو سے متجاوز نہیں ہوتے تھے۔ ’’ لمۃ ‘‘ کی تفسیر اس بال سے کی گئی جو کان کی لو سے نیچے اترتے ہیں اور ’’ جمۃ‘‘ ایسے بال کو کہتے ہیں جو مونڈھوں پر اترتے ہیں۔سیرت حلبیہ ج : 3 ص : 333 میں ہے : لم یجاوز شعرہ شحمۃ اذنہ اذا ھو وفرۃ… و حاصل الاحادیث ان شعرہ وصف بانہ ’’ جمۃ ‘‘ ، و وصف بانہ ’’ وفرۃ ‘‘ و وصف بانہ ’’ لمۃ ‘‘ ۔ و فسرت اللمۃ بالشعر الذی ینزل علی شحمۃ الاذن و الجمۃ بالذی ینزل علی المنکبین۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زلف اقدس مختلف احوال میں مختلف ہوا کرتے۔ کبھی کم رہتے اور کبھی طویل ہوجاتے۔ جب زلف مبارک کی اصلاح میں تاخیر ہوجاتی تو وہ مونڈھوں تک پہنچ جاتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اصلاح فرماتے تو کبھی وہ کان کی لو سے نیچے اترتے اور کبھی نیچے نہیں اترتے۔
اسی میں ہے۔ قال بعضھم : کان شعرہ صلی اللہ علیہ وسلم  یقصر و یطول بحسب الاوقات، فاذا غفل عن تفصیرہ وصل الی منکبہ ، و اذا قصرہ تارۃ ینزل عن شحمۃ اذنہ و تارۃ لاینزل عنھا۔

کاہل، تندرست افراد کی امداد
سوال :   راہ چلتے ہوئے اکثر ایسا ہوتاہے کہ کوئی غریب مسکین صورت بناکر اپنی مفلسی کا اظہار کرتے ہوئے مختلف طریقوں سے اپنی حاجت بیان کرتے ہیں۔ کوئی بچی کی شادی کے لئے تو کوئی پیسے گم ہونے کے سبب سفر کے اخراجات تو کوئی بیمار شوہر کیلئے مانگتا ہے۔ ہر شخص اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ان ضرورت مندوں کی حتی المقدور مدد کرتاہے لیکن آج کل ضرورتمند سے زیادہ کاہل اور کام چورافراد محنت و مشقت سے کام چراتے ہوئے مختلف بہانوں سے بھیک مانگ کر اپنا پیٹ پال رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگ کبھی کبھی حقیقی ضرورتمند کو بھی نظرانداز کرتے رہے ہیں لیکن ان کو نظر انداز کردئے جانے کے بعد دیر تک ضمیر ملامت کرتا ہیکہ شاید وہ شخص حقیقی ضرورتمند ہو۔ ہمیں اس کی مدد کردینی چاہئے۔ آپ سے جاننا یہ ہے کہ کیا ہم جو ضرورتمند نہیں ہیں ان کی بھی مدد کرسکتے ہیں ؟ یا حقیقی ضرورتمند کی ہی مدد کرنی چاہئے ؟
مقبول احمد، کارون
جواب :  غریبوں کی مدد، فقیروں و محتاجوں کی اعانت کرنا اخلاق حمیدہ میں سے ہے۔ اسلام نے داد و دہش ، سخاوت، راہ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے لیکن جو لوگ طاقت و قوت ، قدرت و وسعت کے باوجود لوگوں سے مانگا کرتے ہیں ان کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت وعیدیں بیان فرمائی ہیں۔ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جو آدمی مال کی کثرت کے لئے لوگوں سے بھیک مانگتا ہے، حقیقت میں وہ آگ کا سوال کر رہا ہے۔ آدمی کو اختیار ہے چاہے آگ کم طلب کرے یا زیادہ۔ عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من سال الناس اموالھم تکثرا فانما یسئل جمرا فلیستقل او لیستکثر رواہ المسلم ۔ (مشکوۃ المصابیح باب من لاتحل لہ المسئلۃ و من تحل ص : 162 )
حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مالدار اور صحت مند طاقتور آدمی کو صدقہ دینا حلال نہیں۔
و عن عبداللہ بن عمرو قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تحل الصدقۃ لغنی و لالذی مرۃ سوی رواہ الترمذی و ابو داؤد (مشکوۃ المصابیح ص : 161)
نیز حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقعہ پر صدقات تقسیم فرما رہے تھے تو دو سخت تندرست آدمیوں نے آپ سے صدقہ کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف نگاہ بلند فرمائی پھر نگاہ نیچی فرمائی اور فرمایا:  اگر تم چاہو تو میں تم کو عطا کردوں گا لیکن صدقہ میں کسی مالدار، کمانے والے طاقتور کے لئے کوئی حصہ نہیں۔
عن عبید اللہ بن عدی الخیار قال اخبرنی رجلان انھما اتیا النبی صلی اللہ علیہ وسلم وھو فی حجۃ الوداع و ھو یقسم الصدقۃ فسالاہ منھا فرفع فینا النظر و خفضہ فرانا جلدین فقال ان شئتکما اعطیتکما ولا حظ فیھا لغنی ولا قوی مکتسب رواہ ابو داؤد و النسائی۔ (مشکوۃ المصابیح باب من لا تحل الیہ الصدقۃ الفصل الثانی ص :  171 )
صورت مسؤل عنھا میں آپ ا پنی تحقیق کے مطابق جس کو دینا مناسب سمجھتے ہوں دے سکتے ہیں اور جس کو مناسب نہیں سمجھتے آپ کو اختیار ہے۔
چیٹنگ
سوال :  میں ڈگری کا طالب علم ہوں اور دیکھتا ہوں کہ بعض طلباء امتحانات میں کئی مضامین میں خصوصاً انگریزی کے مضمون میں چیٹنگ کرتے ہیں اور جب اس سلسلہ میں ان سے گفتگو ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں: انگریزی زبان کے مضمون میں چیٹنگ کرنا حرام نہیں۔ امید کہ آپ اس ضمن میں میری رہنمائی فرمائیں گے ؟
ولی الدین احمد، پرانا پل
جواب :  چیٹنگ کے معنی دھوکہ کے ہیں اور شریعت اسلامی نے دھوکہ دہی اور خیانت کو بہت سخت ناپسند کیا ہے۔ چنانچہ متعدد احادیث شریفہ سے ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ من غشنا فلیس منا ‘‘ جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔ دھوکہ معاملات میں ہو یا امتحانات میں یہ حدیث سب پر شامل ہے اور امتحان انگریزی کا ہو یا کسی اور مضمون کا۔ لہذا تمام طلباء و طالبات کے لئے ہرگز جائز نہیں کہ وہ امتحان میں کسی بھی پرچہ میں دھوکہ اور خیانت سے کام لیں ۔

مسجد میں نکاح
سوال :  آج کل مسجد میں نکاح کو ترجیح دی جارہی ہے۔ کیا مسجد میں نکاح ضروری ہے ؟ اور اگر مسجد کے علاوہ شادی خانہ میں نکاح انجام پائے تو کیا وہ خلاف سنت ہے ؟
عبدالوکیل نقشبندی، صنعت نگر
جواب :  شریعت مطہرہ میں نکاح دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کا نام ہے۔ تاہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کے اعلان کو پسند فرمایا ہے۔ امام نسائی نے نکاح کے اعلان سے متعلق ایک مستقل باب ’’ اعلان النکاح بالصوت و ضرب الدف‘‘ قائم فرمایا اور اس کے تحت ایک حدیث نقل فرمائی : ’’ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فصل مابین الحلال و الحرام الدف والصوت فی النکاح ‘‘ (نسائی ج : 2 ص : 75 )
اس حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال و حرام میں تمیز  کے لئے نکاح کے اعلان پر زور دیا۔ چونکہ مسجد، خیر و برکت کی جگہ ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب مقام ہے اور اس میں نکاح ہونے سے لوگوں میں نکاح کا اعلان ہوجاتا ہے، اس لئے شریعت میں مسجد میں نکاح مستحسن و پسندیدہ ہے۔ چنانچہ ترمذی شریف، کتاب النکاح، باب اعلان النکاح میں بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ اعلنوا ہذا النکاح  واجعلوہ فی المساجد الخ ‘‘نکاح کا اعلان کرو اور مسجد میں نکاح کرو۔
فقہاء کرام نے مسجد میں نکاح کو مستحب قرار دیا ہے۔ مسجد میں نکاح ہو تو آداب مسجد کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔ لیکن مسجد میں نکاح کرنا ہی لازم و ضروری نہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بی بی صفیہ سے خیبر و مدینہ کے درمیان جبکہ آپ وہاں تین دن مقیم تھے نکاح فرمایا۔
’’ عن انس قال اقام النبی صلی اللہ علیہ وسلم بین خیبر والمدینۃ ثلاثاً …‘‘ (البخاری ، کتاب النکاح ج : 2 ص : 775 )
اسلام میں نکاح از قسم عبادت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ کی پیروی ہے۔ اس میں مقام کی تعین شرعاً مقرر نہیں، بلکہ وہ عاقدین کی صوابدید اور سہولت پر موقوف ہے اس لئے صحابہ کرام مسجد نبوی کا التزام کئے بغیر حسب سہولت نکاح کیا کرتے۔چنانچہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر شادی کی بشاشت اور  پلساہٹ کے آثار ملاحظہ فرمائے تو ارشاد فرمایا ’’ کیا ماجرا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے شادی کرلی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے برکت کی دعا کی اور ولیمہ کرنے کا حکم فرمایا ۔
’’ عن انس ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم رأی علی عبدالرحمن بن عوف اثر صفرۃ قال : ماھذا ؟ قال تزوجت امرأۃ علی وزن نواۃ من ذھب قال بارک اللہ لک اولم ولو بشاۃ‘‘ (بخاری ۔ کتاب النکاح ج : 2 ص : 775-774 )
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند خواتین اور بچوں کو شادی کی تقریب سے واپس آتے ہوئے ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا : تم لوگ میرے نزدیک محبوب لوگوں میں سے ہو۔
’’ عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ قال : ابصرالنبی صلی اللہ علیہ وسلم نساء و صبیانا مقبلین من عرس فقام فقمنا فقال : اللھم انتم من أحب الناس الی‘‘ (بخاری ، کتاب ال نکاح ج : 2 ص : 778 )
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک غزوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا جب ہم مدینہ واپس ہورہے تھے تو میں جلدی کرنے لگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کیوں جلدی کر رہے ہو؟ میں نے عرض کیا : حال ہی میں میری شادی ہوئی ہے۔
’’ عن جابر قال : کنت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی غزوۃ فلما قفلنا تعجلت علی بعیر قطوف فلحقنی راکب من خلف فالتفت فاذا انا برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ما یعجلک ! قلت انی حدیث عھد بعرس…‘‘ (بخاری شریف ۔ کتاب النکاح ج : 2 ص : 789 )
ان احادیث مبارکہ اور صحابہ کرام کے عمل سے ثابت ہے کہ نکاح کے لئے مسجد کا التزام ضروری نہیں اور اگر شادی خانہ میں سنت کے مطابق عقد کیا جائے تو عقد ، مسجد میں نہ ہونے کی وجہ سے اس کو خلاف سنت نہیں کہا جائے گا۔فی زمانہ بعض مساجد میں نکاح کی محفل دیکھی گئی ، آداب مسجد کا کوئی لحاظ دعوت میں آنے والوں کو نہیں، بلکہ پابند مصلیوں کو ان باراتیوں کی شور و غل کی وجہ سے معمولات اور سنن  و نوافل میں خلل ہورہا ہے ، اس جیسے حرکات قابل اصلاح ہے ۔

TOPPOPULARRECENT